قوتِ محن کی خرید اور فروخت : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 804
عنوان قوتِ محن کی خرید اور فروخت
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 239474
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قوتِ محن کی خرید اور فروخت کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قوتِ محن کی خرید اور فروخت - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی6

قوتِ محن کی خرید اور فروخت


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

ذکر مبادلے میں حاصل کرتا ہے، اپنے آپ کو صرف ایسے ظاہر کرتی ہے کہ کوئی دوسرا اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکے، یعنی قوتِ محن کے خرچ ہونے میں۔اس مقصد کے لیے روپے کا حامل ہر وہ خریدتا ہے جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے، مثلاً جیسے خام مال ، منڈی میں اور اس کا معاوضہ اُس کی پوری قدر کے برابر دیتا ہے۔ قوتِ محن کی کھپت بیک وقت اشیاء اور قدرِ زائد کی پیداوار بھی ہے۔ قوتِ محن کی کھپت ،جیسا کہ ہر دوسری شے کے سلسلے میں ہوا تھا ، منڈی کی حدود یا پھر گردش کے کُرے سے باہر ختم ہو جاتی ہے ۔ مسٹرمنی بیگ اور قوتِ محن کے مالکان کی معیت میں ہم کچھ وقت کے لئے اس پُر شور کُرے سے باہر آتے ہیں، جہاں پر ہر کام کھلے عام اور ہر آدمی کی آنکھ کے سامنے ہوتا ہے ۔ ہم ان کا پیداوار کے خفیہ علاقے میں پیچھا کرتے ہیں ، جہاں دہلیز پر ہی یہ لکھا ہے:‘ بلا کاروباری معاملے کے داخلہ ممنوع ہے’ ۔ یہاں ہم نہ صرف یہ دیکھیں گے کہ سرمائے کی پیداوار کا کیا انداز ہے بلکہ یہ بھی کہ سرمایہ خود کیسے پیدا ہوتا ہے ۔ہم کم از کم نفع بنانے کا راز ضرور جان جائیں گے۔

جس کُرے سے ہم باہر آ رہے ہیں اس کی حدود کے اندر قوتِ محن کی خریدوفروخت جاری و ساری رہتی ہے ، در حقیقت انسان کے خلقی حقوق کی جنت ہے۔ اس کُرے میں صرف آزادی ، مساوات ، جائداد اور ، Bentham ہی حکومت کرتے ہیں۔ آزادی ان معنوں میں کہ ایک شے کے خریدار اور فروخت کنندہ ، مثال کے طور پر قوتِ محن،کی اپنی مرضی ہی ان کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ وہ آزاد افراد کے انداز میں معاملت کرتے ہیں، اور جس معاہدے کو وہ اختیار کرتے ہیں ، درحقیقت وہی شکل ہے جس کے تحت وہ اپنی مشترکہ مرضی کو قانونی شباہت عطا کرتے ہیں۔ مساوات اس وجہ سے کہ ان میں سے ہر کوئی دوسرے کے ساتھ ایک سادہ شے کے مالک کے بطور تعلق میں آتا ہے ، اور وہ مساوی القدر کا مساوی القدر سے مبادلہ کرتے ہیں۔ ملکیت ان معنوں میں کہ ان میں سے ہر ایک وہی بیچتاہے جو اس کی ملکیت ہے۔ اور Benthamان معنوں میں کہ ہر کوئی صرف اپنی طرف ہی دیکھتا ہے۔ وہ واحد قوت جو ان کو ایک دوسرے کے قریب کرتی ہے اور ان دونوں کے مابین ایک تعلق پیدا کرتی ہے، وہ خود غرضی ہی ہے، یعنی فائدہ اوردونوں کے ذاتی مفادات کا حصول۔ ان میں سے ہر کوئی صرف اپنی طرف ہی دیکھتا ہے اور کوئی بھی باقی [دنیا]کے بارے میں خود کو متفکر نہیں کرتا، اور چونکہ وہ ایسا ہی کرتے ہیں ، تو کیا وہ سب کے سب چیزوں کی پہلے سے قائم شدہ توازن کی مطابقت سے ، یا پھر ہمہ گیر دور اندیشی کے تحت مل کر یکساں فائدے کے لئے کام کرتے ہیں ، یعنی ایک افادۂ عام اور ہر شخص کی بھلائی کی خاطر۔

سادہ گردش یا اشیا ء کے مبادلہ کے اس کُرے کو چھوڑتے ہوئے جو کہ‘‘ آزاد تجارت کے بھونڈے حامی’’پیدا کرتا ہے،ساتھ ہی ان کے ان الفا ظ اور خیالات کو بھی اور اس معیار کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے، جن کے ذریعے وہ سرمائے اور مزدوری پر استوار ہوئے سماج کا تجزیہ کرتا ہے ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے ڈرامائی کردار وں کی شباہت میں رونما ہونے والی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ وہ جو اس سے قبل روپے کا حامل تھا اب ہمارے سامنے سرمایہ دار کے بطور چلتا پھرتا نظر آتاہے، اور قوتِ محن کا حامل، مزدور کی حیثیت سے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔ ایک اہمیت، ٹہل، کاروباری ذہنیت کے انداز کے ساتھ ؛ اور دوسرا ، سہما ہوا اور کوئی چیز چھپاتا ہوا ، ایک ایسے آدمی کی طرح جو خود اپنی ہی کھال کو منڈی میں لا رہا ہے ، اور اسے سوائے اس کے کوئی توقع نہیں کہ






ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قوتِ محن کی خرید اور فروخت ان داشلائوں میں استعمال ھے
سرمایہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے