قوتِ محن کے استحصال کی سطح : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 814
عنوان قوتِ محن کے استحصال کی سطح
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 236769
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قوتِ محن کے استحصال کی سطح کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قوتِ محن کے استحصال کی سطح - کی دوسری شاخیں-

قوتِ محن کے استحصال کی سطح


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ


Chapter 9

قدرِ زائد کی شرح

The Rate of Surplus-value

فصلِ اوّل :قوتِ محن کے استحصال کی سطح

Section 1._ The Degree of Exploitation of labour power



اردو ترجمہ: امتیاز حسین، ابن حسن

Urdu Translation by: Imtiaz Hussain, Ibne Hasan

___________________

پیداواری عمل میں جو قدرِ زائد C، یعنی رأس سرمائے نے پیدا کی تھی ، یا دوسرے لفظوں میں سرمائے Cکی خود میں بڑھی ہوئی قدر، ہمارے اخذ و مطالعے کے لیے اولاً خود کو زائد[ قدر] کے بطور بیان کرتی ہے یعنی اُس مقدار کے بطور جس کے ذریعے مصنوعہ کی قدر اپنے اجزائے ترکیبی کی قدر سے تجاوز کر جاتی ہے۔

سرمایہ Cدو اجزاء سے مل کر بنا ہے۔ اُن میں سے ایک جز ووہ رقم c ہے جو ذرائع پیداوار پر خرچ ہوئی تھی، اور دوسرا جز و وہ رقمvجو قوتِ محن پر خرچ ہوئی تھی ۔ c[سرمائے کے] اُس حصے کو بیان کرتا ہے جوبقا پذیرسرمایہ بن چکا ہے، اور vاُس حصے کو جو تغیر پذیر سرمایہ بن چکا ہے۔ اس صورت میں اولاً C = c + v ۔ مثال کے طور پر اگر رأس سرمایہ 500پونڈ ہو تو اس کے اجزائے ترکیبی حسبِ ذیل ہوں گے:

-A3 500 =-A3410 const + 90 var

[یعنی500 رأس سرمایہ = 410 بقا پذیر + 90 تغیر پذیر سرمایہ]۔ جب پیداواری عمل مکمل ہو جاتا ہے تو ہمارے پاس ایک ایسی شے آ جاتی ہے جس کی قدر:( c + v) + s ہو گی۔ جبکہ s قدرِ زائد کو ظاہر کرتا ہے۔یا موخرالذکر اعدادو شمار کی رو سے اس شے کی قدراس طرح ہو گی:

(-A3 410 const + -A3 90 var )+ 90 surpl[(410 بقا پذیر + 410 تغیر پذیر) + 90 زائد] بنیادی سرمایہ Cسے اب C بن چکا ہے، یعنی 500پونڈ سے 590پونڈ۔ اور اس میں s یا 90پونڈ کی قدرِ زائد کا فرق ہے۔ چونکہ مصنوعہ کے اجزائے ترکیبی کی قدر رأس سرمائے کے برابر ہے ، چنانچہ یہ کہنا تکرار کے مترادف ہو گا کہ اپنے اجزائے ترکیبی کی قدر پر مصنوعہ کی قدر کی بڑھت رأس سرمائے کے پھیلاؤ یاحاصل ہونے والی قدرِ زائد کے برابر ہے۔

تاہم اس تکرار پر ہمیں مزید غور کرناہے۔ جن دو چیزوں کا موازنہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک تو مصنوعہ کی قدر ہے اور دوسری پیداواری عمل کے دوران اس کے اجزائے ترکیبی کی قدر ہے۔ اب ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ بقا پذیر سرمائے کو جو حصہ آلاتِ محن پر مشتمل تھا مصنوعات میں اپنی قدر کا محض ایک چھوٹا سا جزو ہی منتقل کرتا ہے جبکہ اس قدر کا بقیہ حصہ آلاتِ محن کے اندر ہی موجود رہتا ہے۔ چونکہ یہ بقیہ حصہ قدر کی تشکیل میں کوئی کردار بھی ادا نہیں کرتا اس لئے ہم اس وقت اسے ایک طرف رکھتے ہیں۔اس کو حساب کتاب میں شامل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ مثلاًہم اپنی پچھلی مثال کی بات کرتے ہیں جس میں C= -A3 410 اب فرض کریں کہ اس رقم میں 312 پونڈ قدر کا خام مال اور 44 پونڈ قدر کا معاون مواد شامل ہے اور 54پونڈ قدر کے مساوی [پیداواری] عمل کے دوران مشینری گھِسی ہے جبکہ اس عمل میں مستعمل مشینری کی مجموعی قدر 1,054 ہے۔ پھر آخرالذکر رقم میں سے 54پونڈ ہم رأس سرمایہ میں گنتے ہیں جو مصنوعہ کی تیاری میں خرچ ہوئی ، یعنی پیداواری عمل کے دوران جتنی قدر کے مساوی مشینری کی ٹوٹ پھوٹ ہوئی کیونکہ یہ مشینری کا وہی حصہ ہے جو اس نے مصنوعہ میں شامل کیا ہے۔ اگر ہم مشینری میں تاحال موجود بقیہ 1,000پونڈ کو بھی مصنوعہ کی طرف منتقل شمار کریں تو ہمیں اس کو بھی بڑھائی جانے والی قدر کا ایک حصہ گنناہوگا، چنانچہ اسے مساوات کے دونوں طرف ظاہر کرنا پڑے گا۔1؂ اس صورت میں ہمیں ایک طرف 1,500پونڈ اور دوسری طرف 1,590پونڈ حاصل ہوں گے۔ان دونوں رقموں کا فرق یا پھر قدرِ زائد 90پونڈ ہی ہے۔چنانچہ اس سارے حساب کتاب میں قدر کی پیداوار کے بڑھائے گئے بقا پذیر سرمائے سے ہماری مراد ہمیشہ ذرائع پیداوار کی صرف اور صرف وہی قدر ہو گی جو اس عمل میں حقیقتاً خرچ ہوتی ہے،تا آں کہ متن میں اس سے برعکس نہ ہو جائے۔

اسی صورتِ حال کے ساتھ ہم اپنے کُلیے C = c + v کی طرف پلٹتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ یہ کُلیہ C=(c + v )+ s اور Cیہاں پر C میں بدل جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بقا پذیر سرمائے کی قدر مصنوعہ میں تبدیل ہو گئی ہے اور اسی میں صرف ظاہر ہوتی ہے۔ اس عمل میں پیدا ہونے والی نئی قدر یعنی بننے والی قدر یا پھر قدری مصنوعہ ، مصنوعہ کی [کُل] قدر کی مانند نہیں ہے ؛ یہ ویسی ہر گز نہیں جیسی بادی النظر میں دکھائی دیتی ہے۔

(c + v)+ s یعنی-A3 410 const. + -A3 90 var. + -A390 surpl,. بلکہ یہ V + s ہے یا -A3 90 var. + -A390 surpl. ہے نہ کہ -A3 90 بلکہ -A3 180 ہے۔

اگر c = 0ہوتا یا دوسرے لفظوں میں صنعت کی کوئی ایسی شاخ موجود ہو جس میں سرمایہ دار قوتِ محن اور فطرت کا مہیا کردہ مواد استعمال کرتے ہوئے گذشتہ محن سے تیار شدہ ذرائع پیداوار سے نجات پا سکے خواہ یہ ذرائع خام مال کی شکل میں ہوں یا معاون مواد کی شکل میں یا پھر آلاتِ محن کی شکل میں، تو اس صورت میں کسی قسم کا بقاپذیر سرمایہ مصنوعہ میں منتقل نہیں ہو سکتا۔ مصنوعہ کی قدر کا یہ جز و،یعنی ہماری مثال کی رو سے 410پونڈ، خارج ہو سکتا ہے مگر 180پونڈ کی رقم یعنی نئی تخلیق ہونے والی قدر یا پیدا ہونے والی قدر جس میں 90پونڈ قدرِ زائد کے شامل ہیں، اب بھی اُتنے ہی بڑے ہیں جتنی c کی زیادہ سے زیادہ قدر تصور کی جا سکتی ہے۔ہمارے پاس یہ مساوات حاصل ہو جائے گی:C =( 0+v )= v ۔یا پھر، = v+sپھیلا ہوا سرمایہ یعنیC۔اور اسی وجہ سے C_C=s جیسا کہ یہ اس سے قبل تھا۔ دوسری طرف اگر s=0 ہو ، دوسرے لفظوں میں اگر قوتِ محن جس کی قدر تغیر پذیر سرمائے کی شکل میں بڑھائی گئی ہے، اگر اُسے محض اپنا مساوی القدر ہی پیدا کرنا ہوتا، توہمارے پاس ذیل کی مساوات ہوتی:

C=c+v یا C ، یعنی مصنوعہ کی قدر=( c+v)+0

یا پھر ذیل کی مساوات: C=C

اس معاملے میں رأس سرمائے نے اپنی قدر کو پھیلایانہ ہوتا۔

اب تک جو گفتگو ہوئی ہے اس سے ہمارے علم میں یہ بات آتی ہے کہ قدرِ زائد خالصتاً vکی قدر میں تبدیلی کا نتیجہ ہے یعنی سرمائے کے اس حصے کا جو قوتِ محن میں بدلتا ہے۔ چنانچہ v+s = v+v ؛یا پھر v میں vکا اضافہ۔ لیکن یہ حقیقت کہ محض vہی بدلتا ہے اوراس تبدیلی کی شرائط اس صورتِ احوال کی وجہ سے دھندلا جاتی ہے کہ سرمائے کے تغیر پذیر جزو میں اضافے کی وجہ سے رأس سرمائے کی مجموعی مقدار میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔یہ بنیادی طور پر 500پونڈ تھا اور اب 590پونڈ ہو چکا ہے۔ چنانچہ ٹھوس نتائج تک رسائی پانے کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم مصنوعہ کی قدر کے اس حصے کو علیحدہ کر لیں جس میں محض بقا پذیر سرمایہ ظاہر ہوتا ہے۔ نتیجتاً ہمیں بقا پذیر سرمائے کو صفر کے برابر لانا ہو گا یا c=0کرنا ہو گا۔ یہ تو محض ریاضی کے ایک کُلیے کا استعمال ہے اور یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب بھی ہم تغیر




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قوتِ محن کے استحصال کی سطح ان داشلائوں میں استعمال ھے
اشتراکِ عمل
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے