قوتِ محن کے استحصال کی سطح : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 814
عنوان قوتِ محن کے استحصال کی سطح
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 236814
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قوتِ محن کے استحصال کی سطح کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قوتِ محن کے استحصال کی سطح - کی دوسری شاخیں-

قوتِ محن کے استحصال کی سطح


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

ذیر اور بقاپذیرمقداروں کا حساب لگاتے ہیں جب وہ صرف جمع اور رفریق کی علامات سے ہی ایک دوسرے سے مربوط ہوں۔

ایک اور مشکل تغیر پذیر سرمائے کی بنیادی بنتر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ہماری مثال میں :

C = -A3 410 const. + -A3 90 var. + -A3 90 surpl.۔لیکن چونکہ 90پونڈدی گئی ہے اس لیے مستقل مقدار ہے چنانچہ اس کو تغیر پذیر قرار دینا مضحکہ خیز لگتا ہے۔لیکن در حقیقت رقم 90 var.پونڈمحض ایک ایسی علامت جو یہاں پر صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ قدر ایک مہیج سے گزرتی ہے۔ سرمائے کا وہ حصہ جو قوتِ محن کی خریداری میں خرچ ہوتا ہے مجتمع محن کی ایک خاص مقدار ہے، یعنی خریدی گئی قوتِ محن کی قدر کی طرح مستقل قدر۔ لیکن پیداواری عمل میں 90پونڈ کی جگہ متحرک قوتِ محن نے حاصل کر لی ہے اور زندہ محن نے مردہ محن کی جگہ لے لی ہے یعنی کسی جامد چیز کی جگہ کوئی متحرک چیز آ گئی ہے، بقا پذیر کی جگہ تغیر پذیر۔ اور اس کا نتیجہ vکی باز پیداوار کے ساتھ vہی میں اضافے کی صورت ہے۔ چنانچہ اب سرمایہ دارانہ نقطۂ نظر سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سارے کا سارا عمل بنیادی بقا پذیر سرمائے کی خود بخود تبدیلی ہے، جسے قوتِ محن میں بدلا جاتاہے۔عمل اور اس کا نتیجہ دونوں اس قدر ہی کے مرہونِ منت دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ اس قسم کے بیانات جیسے: 90پونڈ تغیر پذیر سرمایہ یا اتنی خود بخود پھیلی ہوئی قدر ، متضاد دکھائی دیتے ہیں تواس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ ایسے تضادات سامنے لاتے ہیں جو سرمایہ دارانہ پیداوار میں چھپے ہوتے ہیں۔

پہلی نظر میں بقا پذیر سرمائے کو صفر کے مساوی ٹھہرانا عجیب عمل دکھائی دیتا ہے تاہم یہ کام ہم روز مرہ زندگی میں کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم روئی کی صنعت سے انگلستان کے نفع کا حساب کریں تو سب سے پہلے ہم ان رقوم کی کٹوتی کریں گے جوریاست ہائے متحدہ ، ہندوستان، مصر اور دوسرے ممالک کو روئی کے عوض ادا ہوئیں۔ دوسرے لفظوں میں اُس سرمائے کی قدر _جو مصنوعہ کی قدر میں دوبارہ نمودار ہوتا ہے_ کو صفر کے برابر کر دیا جاتا ہے۔

قدرِ زائد کی شرح نہ صرف سرمائے کے اس حصے کے لیے جس سے یہ فوری طور پر ابھرتی ہے، اور جس کی قدری تبدیلی کو یہ بیان کرتی ہے بلکہ رأس سرمائے کی مجموعی مقدار کے لیے بھی معیشت کے اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔چنانچہ ہم تیسری کتاب میں اس شرح کا مفصل جائزہ لیں گے۔ اس مقصد کے لئے کہ سرمائے کاایک حصہ قوتِ محن میں بدلے جانے سے اپنی قدر پھیلا نے کے قابل ہو جائے،تویہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا ایک اور حصہ ذرائع پیداوار میں بدل دیا جائے۔اس مقصد کے لئے کہ متغیر سرمایہ اپنا منصب خوش اسلوبی سے ادا کرے یہ ضروری ہے کہ بقا پذیر سرمائے کو ایک خاص تناسب میں بڑھایا جائے ، ایک ایسے تناسب میں جو ہر عملِ محن کی تکنیکی شرائط کا دیا گیا ہو۔ وہ صورتِ احوال جس کے تحت قرع انبیق( ریٹارٹ)اور دوسرے برتن کسی کیمیاوی عمل کے لیے ضروری ہیں کیمیا دان کو اس بات پر مجبور نہیں کرتے کہ وہ اپنے تجزیے کے نتیجے میں ان کا مشاہدہ کرے۔ اگر ہم کسی بھی اور چیز سے ہٹ کرذرائع پیداوار کو قدر کی پیداوار کے ساتھ ان کے تعلق کی رو سے اور قدر کی مقدار میں تبدیلی کی رو سے دیکھیں ، تو وہ محض ایسے مادے کے بطور ظاہر ہوں گے جس میں قوتِ محن یعنی قدر کا پیدا کنندہ اپنے آپ کو مجتمع کرتا ہے۔ نہ اس مادے کی نوعیت اور نہ قدر کسی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ضروری چیز صرف یہ ہے کہ ایک ایسی معقول رسد میسر ہونی چاہیے جو عملِ محن میں خرچ آنے والے محن کو جذب کر سکے۔ اگر ایک بار یہ رسد میسر آ جائے تو مادہ اپنی قدر میں گھٹ بھی سکتا ہے اور بڑھ بھی ، اور زمین اور آسمان کی طرح ہر قسم کی قدر سے عاری بھی ہو سکتا ہے؛ لیکن اس بات کا قدر کی پیداوار پر اور قدر کی مقدار میں تبدیلی پر کوئی اثر ممکن نہیں۔2؂

اس صورت میں سب سے پہلے تو ہم بقا پذیر سرمائے کو صفر کے مساوی ٹھہرائیں گے۔ نتیجتاً بڑھایا جانے والا سرمایہ c+v سے صرف vرہ جائے گا۔اور مصنوعہ کی قدر( c+v)+s کے بجائے اب ہمارے پاس پیدا ہونے والی قدر( s+v)رہ جائے گی۔ اگر نئی پیدا ہونے والی قدر 180= پونڈ ہو ، جو رقم نتیجتاً تمام عمل کے دوران خرچ ہونے والے محن کو بیان کرتی ہے، پھر اس میں سے تغیر پذیر سرمائے کی قدر کے 90پونڈ منہا کر دیں ہمارے پاس قدرِ زائد کے 90پونڈ بچ جائیں گے۔ 90پونڈ کی یہ رقم یا sپیدا ہونے والی قدرِ زائد کی مطلق مقدار کو بیان کرتی ہے۔ صاف بات ہے کہ پیدا ہونے والی متعلقاتی مقدار یا پھر تغیر پذیر سرمائے کی بڑھی ہوئی فیصد کو قدرِ زائد کی تغیر پذیر سرمائے سے نسبت کی رو سے اخذ ہو گی، یا پھر اس کو s/vسے بیان کیا جائے گا۔ ہماری مثال میں یہ نسبت 90/90ہے جو100% کا اضافہ دے رہی ہے۔ تغیر پذیر سرمائے کی قدر میں اس متعلقاتی اضافے کو یا قدرِ زائد کے متعلقاتی حجم کو میں قدرِ زائد کی شرح کہتا ہوں۔3؂

ہم اس بات کا جائزہ لے چکے ہیں کہ مزدور عملِ محن کے ایک حصے کے دوران محض اپنی قوتِ محن کی قدر پیدا کرتا ہے مطلب یہ کہ اپنی اشیائے خوردونوش کے ذرائع کی قدر۔ اب چونکہ اس کا کام ایک ایسے نظام کا حصہ تشکیل دیتا ہے جس کی بنیاد محن کی سماجی تقسیم پر ہے، اس لیے وہ ان حقیقی ضروریات زندگی کی اشیا کو سیدھے سیدھے پیدا نہیں کرتا جنہیں وہ استعمال میں لاتاہے، اس کی بجائے وہ ایک خاص شے پیدا کرتا ہے ، مثال کے طور پر دھاگا جس کی قدر ان ضروریات یا اس روپے کے برابر ہوتی ہے جس کے ذریعے ان کو خریدا جا سکتا ہے۔ اس کے ایک دن کے محن کا جو حصہ اس مقصد کے لیے مختص ہوتا ہے وہ ان ضروریات کی قدر کی نسبت سے کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی جن کی اس کو اوسطاً روزانہ ضرورت ہوتی ہے، یا یوں کہہ لیں کہ عرصۂ محن کی ایسی نسبت میں جو ان ضروریات کو پیدا کرنے کے لیے اوسطاً درکار ہو ۔ اگر ان ضروریات کی قدر اوسطاً چھ گھنٹے کے محن کا خرچ بیان کرے تو مزدور کو اُس قدر کو پیدا کرنے کے لیے اوسطاً چھ گھنٹے کے لیے ضرور کام کرنا ہو گا۔اگر سرمایہ دار کے لیے کام کرنے کے بجائے وہ آزاد رہ کر خود اپنے طور پر ہی کام کرے ،اور دوسری چیزیں وہی رہیں تو بھی اس کو اُتنے گھنٹے ہی کام کرنا ہو گاتاکہ اپنی قوتِ محن کی قدر پیدا کر سکے اور وہ خوردونوش کے اتنے ذرائع حاصل کر سکے جو اس کی قوت کی بحالی یا تخلیقِ نو کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک دن کے کام میں سے اُس حصے کے دوران جس میں وہ اپنی قوتِ محن کی قدر پیدا کرتا ہے ، فرض کریں کہ وہ 3شلنگ ہے ، تو درحقیقت وہ محض اس قدر کا مساوی القدر ہی پیدا کرتا ہے جس کو سرمایہ


ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قوتِ محن کے استحصال کی سطح ان داشلائوں میں استعمال ھے
اشتراکِ عمل
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے