قوتِ محن کے استحصال کی سطح : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 814
عنوان قوتِ محن کے استحصال کی سطح
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 237593
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

قوتِ محن کے استحصال کی سطح کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

قوتِ محن کے استحصال کی سطح - کی دوسری شاخیں-

قوتِ محن کے استحصال کی سطح


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

font> دار4؂ نے ماقبل ہی لگایا تھا؛ پیدا ہونے والی نئی قدر محض بڑھائے گئے تغیر پذیر سرمائے کی جگہ ہی حاصل کرتی ہے۔اس کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ 3شلنگ کی قدر کی نئی پیداوارمحض تخلیقِ نو کے ظاہر( semblance)میں آ جاتی ہے۔دہاڑی کے جس حصے کے دوران یہ تخلیقِ نو رونما ہوتی ہے [دہاڑی کے] اس حصے کو میں لازمی عرصۂ محن قرار دیتا ہوں5؂اور اس عرصے کے دوران استعمال ہونے والے محن کو میں لازمی محن قرار دیتا ہوں۔ مزدور کے حوالے سے یہ اس لیے لازمی ہے کہ یہ اس کے محن کی مخصوص سماجی بنتر سے آزادہے، اور سرمائے اور سرمایہ داروں کی دنیا حوالے سے لازمی اس لیے ہے کہ مزدور کی مسلسل بقا کے ساتھ ان کی بقا بھی وابستہ ہے۔

عملِ محن کے دوسرے دور کے دوران، یعنی اس کا محن جس دوران میں محنِ لازم نہیں ، یہ سچ ہے کہ اس دوران مزدور کام کرتا ہے اور قوتِ محن خرچ کرتا ہے لیکن اس کا محن چونکہ محنِ لازم نہیں رہا اس لیے اب وہ اپنے لیے کوئی قدر بھی پیدا نہیں کرتا۔ اب وہ جو قدرِ زائد پیدا کرتا ہے جس کی سرمایہ دار کے لیے ایسے ہی کشش ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں سے تخلیق ہے۔دہاڑی کے اس حصے کو میں زائد عرصۂ محن کا نام دیتا ہوں اور اس عرصے کے دوران جو محن خرچ ہوتا ہے اس کو میں محنِ زائد کا نام دیتا ہوں۔ قدرِ زائد کی صحیح تفہیم کے لیے یہ جاننا اتنا ہی ضروری ہے کہ یہ زائد عرصہ محن کی مجتمع صورت ، محن کی تجسیم شدہ صورت ہے ، جتنا قدر کا صحیح مفہوم جاننے کے لئے کہ یہ کچھ گھنٹوں کا مجتمع محن ہے ۔ معاشرے کی مختلف معاشی بنتروں میں بنیادی فرق ،مثال کے طور پر ایک معاشرہ جس کی بنیاد غلام محن پر ہے اور ایک ایسا معاشرہ جس کی بنیاد دہاڑی دار محن پر ہے، محض اس انداز میں موقوف ہے جس میں یہ محنِ زائد ہر دو معاملات میں پیداکار یعنی مزدور سے حاصل کیا جاتا ہے۔6؂

اب چونکہ ایک طرف تو تغیر پذیر سرمائے اور سرمایہ دار کی خریدی گئی قوتِ محن کی اقدار برابر ہیں ؛ اور اس قوتِ محن کی قدر دہاڑی کے لازمی حصے کو متعین کرتی ہے ، اورچونکہ دوسری طرف قدرِ زائد دہاڑی کے زائد حصے سے متعین ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قدرِ زائد تغیر پذیر سرمائے سے اسی تناسب میں ہوتی ہے جو تناسب محنِ زائد اور محنِ لازم کا بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں -03لیکن یہ دونوں نسبتیں یعنی -03، اور-03ایک ہی چیز کو دو طریقوں سے بیان کرتی ہیں۔ ایک معاملے میں متجسم اور مجتمع محن کے حوالے سے اور دوسرے معاملے میں زندہ اور متحرک محن کے حوالے سے۔

قدرِ زائد کی شرح ہی اس با ت کی مکمل وضاحت کرتی ہے کہ سرمایہ قوتِ محن کا کس حد تک استحصال کر رہا ہے یا یہ کہ سرمایہ دار مزدور کا کس حد تک استحصال کر رہا ہے۔7؂

ہم نے اپنی مثال میں مصنوعہ کی قدر-A3 420 const. + -A3 90 var. + -A3 90فرض کی تھی اور یہ کہ بڑھایا گیا سرمایہ500پونڈ تھا۔ چونکہ قدرِ زائد 90پونڈ ہے، بڑھایا گیا سرمایہ 500پونڈ ہے ، اس لیے حساب کتاب کے روایتی انداز میں ہمیں قدرِ زائد کی شرح( جس کو عام طور پر نفع کی شرح سے گڈ مڈ کیاجاتا ہے)18% حاصل ہو گی؛ اور شرح اتنی کم ہے کہ اس نے مسٹر کیری اور اسی طرح کے دیگر لوگوں کو بڑی خوشگوار حیرانی میں مبتلا کیا ۔ لیکن در حقیقت قدرِ زائد کی شرح-03یا -03 کے برابر نہیں ہوتی۔ پس یہ [قدرِ زائد کی شرح]-03 نہیں ہے بلکہ -03 یا 100% ہے جو استحصال کے ظاہری درجے سے پانچ گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اگرچہ فرض کی گئی صورت میں ہم دہاڑی کی اصل طوالت، اور عملِ محن کے دنوں یا مہینوں کی شکل میں دورانیے سے بے خبر ہیں ، اور ساتھ ساتھ کام کرنے والے مزدوروں کی کُل تعداد سے بھی، لیکن اس کے باوجود قدرِ زائد کی شرح ، -03اپنی مساوی القوت شکل -03،یعنی محنِ زائد تقسیم محنِ لازم ،کے ذریعے سے ،ہم پر دہاڑی کے دونوں حصوں کے باہمی تعلق کا ٹھیک ٹھیک انکشاف کرتی ہے۔یہاں پر واحد تعلق صرف برابری کا ہے جس میں شرح100%رہتی ہے۔ پس یہ بات واضح ہے کہ ہماری مثال کی رو سے مزدور دہاڑی کا آدھا حصہ اپنے لئے کام کرتا ہے اور دوسرا آدھا حصہ سرمایہ دار کے لئے۔

اس لیے قدرِ زائد کی شرح اخذ کرنے کا طریقہ مختصراً ذیل میں درج ہے: ہم مصنوعہ کی مجموعی قدر لیتے ہیں اور اس میں صفر کے برابر مستقل سرمایہ داخل کرتے ہیں جو اس میں محض نئے سرے سے نمودار ہی ہوتا ہے۔اب یہاں صرف وہی قدر بچ رہتی ہے جو شے کی پیداوار کے دوران حقیقی طور پر تخلیق کی گئی ہے ۔اگر قدرِ زائد کی مقدار دی گئی ہو تو ہمیں اس کو محض اسی بقیہ ہی سے منہا کرنا ہو گا تا کہ تغیر پذیر سرمایہ حاصل ہو سکے۔ اسی طرح اگر آخرالذکر دی گئی ہو اور ہمیں قدرِ زائد مطلوب ہو تو پھر عمل اس سے اُلٹ ہو جائے گا۔اگر دونوں [مقداریں] دی گئی ہوں تو اس صورت میں ہمیں محض اختتامی عمل ہی دوہرانا ہو گا، مطلب یہ کہ اگر ہمیں -03 یعنی قدرِ زائد کا تغیر پذیر سرمائے سے تناسب حاصل کرنا مقصود ہو۔

اگرچہ یہ طریقہ بہت سادہ ہے اس کے باوجود چند مثالوں کی مددسے قاری کو اس جدید نظریے کی عملی صورت سے روشناس کرانا غلط نہ ہو گا۔

سب سے پہلے ہم کاتنے والی ایک مِل کو زیرِ بحث لائیں گے ۔ اس مِل میں سٹیل کے 10,000تکلے لگے ہوئے ہیں اور یہ امریکی روئی سے سوت کی 32نمبر کتائی کرتی ہے۔ اس میں ہر ہفتے ایک تکلا 1پونڈ سوت کاتتا ہے۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ اس میں سے 6فی صد ضائع ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں ہر ہفتے 10,600پونڈ روئی خرچ آتی ہے جس میں سے 600پونڈ ضائع ہو جاتی ہے۔ اپریل 1871میں روئی کی قیمت-03 ڈالر فی پونڈ تھی۔ چنانچہ خال مال 342پونڈ کی سیدھی سادی رقم میں پڑتا ہے۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ 10,000 تکلے ،مع تیاری کی مشینری اور بجلی وغیرہ 1پونڈ فی تکلا پڑتے ہیں چنانچہ کُل 10,000پونڈ ہوئے۔ اس میں تقریباً 10فی صد مشینری گھس جاتی ہے جو 1000پونڈ سالانہ اور 20پونڈ ماہانہ ہو جاتی ہے۔ہم فرض کرتے ہیں کہ عمارت کا کرایہ 300پونڈ سالانہ ہے جو ایک ہفتے کا 6 پونڈ بنتا ہے۔ اس عمل میں کوئلہ( 100ہارس پاور ، 4پونڈ کوئلے کے فی گھنٹہ ، 60گھنٹوں کے لئے ، جس میں مل کو گرم رکھنے کا خرچہ بھی شامل ہے۔ )ہر ہفتے میں 11ٹن استعمال ہوتا ہے جو 8شلنگ اور6ڈالر فی ٹن کے حساب سے -03پونڈ فی ہفتہ پڑتا ہے۔ اسی طرح سے گیس 1پونڈ فی ہفتہ ، اور تیل وغیرہ -03 پونڈ فی ہفتہ۔درج بالا معاون مواد کی کُل کھپت 10پونڈ فی ہفتہ بنتی ہے۔ چنانچہ ایک ہفتے کی مصنوعہ کی قدر کا مستقل حصہ 378پونڈ بن جاتا ہے




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

قوتِ محن کے استحصال کی سطح ان داشلائوں میں استعمال ھے
اشتراکِ عمل
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے