مبادلہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 795
عنوان مبادلہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 230184
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مبادلہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مبادلہ - کی دوسری شاخیں-
حواشی بابِ دوم

مبادلہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

سرمایہ دارانہ پیداوار کا تنقیدی تجزیہ

جلد اول

CAPITAL

A Critical Analysis of Capitalist Production

باب 2

ترجمہ: امتیاز حسین۔ ابن حسن







_____________________________________

حصہ اوّل

دوسرا باب: مبادلہ

یہ واضح امر ہے کہ اشیاء ،خود اپنے بل بوتے پر ،مبادلے کے لئے منڈی میں نہیں آ سکتیں۔چنانچہ ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اشیاء کے ان نگہبانوں سے رجوع کریں جو ان کے مالکان بھی ہیں۔اشیاء چونکہ بے جان ہوتی ہیں اس لئے انسان کے خلاف مزاحم نہیں ہو سکتیں۔اگر وہ بلاشرکتِ غیرے پڑی ہوں تو انسان قوت استعمال کرنے کا اہل ہوتا ہے؛یعنی وہ ان پر قابض ہو سکتا ہے1؂۔ان اشیاء کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کی صورت دینے کے لئے یہ ضروری ہو گا کہ ان کے مالکان بھی ان افراد کی حیثیت سے باہمی تعلق میں آ جائیں جن کی منشا ان چیزوں میں موجود ہے۔ان میں سے ہر ایک کو اس طرح کا رویہ اپنانا ہو گا کہ وہ دوسرے کی شے کو ہتھیا نہ لے نہ ہی اپنی شے دوسرے کے حوالے کرے سوائے ایسی صورت کے جس میں باہمی رضا مندی شامل ہو۔ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مالکانہ حقوق کو بھی تسلیم کریں۔یہ قانونی تعلق ،جو اپنے آپ کو ایک معاہدے کی صورت میں ظاہر کرتا ہے، چاہے ایسا معاہدہ ایک ترقی یافتہ عدالتی نظام کا حصہ ہو یا نہ ہو،در حقیقت دو ارادوں کے درمیان تعلق کی مثل ہوتا ہے، اور یہ ان دونوں کے مابین معاشی تعلق کا پرتو ہی ہوتا ہے۔یہی وہ معاشی تعلق ہے جو اس طرح کے ہر عدالتی قانون کے مافیہ کا تعین کرتا ہے2؂۔افراد ایک دوسرے کے لئے صرف اور صرف اشیاء کے نمائندگا ن ، لہٰذا ان کے مالکان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ہمیں اپنی تحقیق کے دوران یہ بھی پتا چلے گا کہ وہ کردار جو معاشی میدان میں اترتے ہیں محض ان معاشی تعلقات کی جسمانتیں ہیں جو ان کے درمیان استوار ہوتے ہیں ۔

ایک شے کو اپنے مالک سے یہی حقیقت بیّن طور پر ممیز کرتی ہے کہ یہ [ ایک شے] ہر دوسری شے کو اپنی ہی قدر کے کسی دوسرے ظاہر کے بطور لیتی ہے۔شے ہر تفرید و تقسیم کو نظر کرنے والی وہ سنکی مخلوق ہے جوہمہ وقت نہ صرف روح بلکہ جسم بھی کسی اور سے ادل بدل کرنے پر تیار ہے چاہے وہ انتہائی کریہہ المنظر چیز ہی کیوں نہ ہو۔مالک اپنی شے کی اس مقرونی حس کی کمی کو خود اپنے حواس خمسہ بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ سے دور کرتا ہے۔اس کی شے خود اس کے لئے فی الوقت کسی قسم کی قدرِ صرف نہیں رکھتی۔بصورتِ دیگر وہ اسے منڈی میں کبھی نہ لے جاتا۔یہ صرف اور صرف دوسروں کے لئے قدرِ صرف کا درجہ رکھتی ہے؛لیکن خود اس کے لئے اس کی قدربراہِ راست صرف یہی ہے کہ یہ قدرِ مبادلہ کااجماع ہے ،چنانچہ مبادلے کا ایک ذریعہ ہے3؂۔اس وجہ سے وہ اسے ان اشیاء سے بدل لینے کا سوچتا ہے جن کی اقدارِ صرف اس کے کام کی ہوتی ہیں۔تمام اشیا اپنے مالکان کے لئے غیر اقدارِ صرف اور دوسروں کے لئے اقدارِ صرف ہوتی ہیں۔چنانچہ ان سب کو اپنی ملکیتیں بدلنا ہوتی ہیں۔ملکیت کی یہ تبدیلی ہی ان کا مبادلہ ہے اورمبادلہ ہی انہیں اقدار گردانتے ہوئے اسی حیثیت سے ایک دوسرے کے سامنے لاتا ہے۔چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اشیاء کو اقدارِ صرف سمجھنے سے قبل محض اقدار سمجھا جائے۔

دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ محض اقدار ہونے سے قبل ان کی شناخت اقدارِ صرف ہی کی ہے۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اس پر استعمال شدہ محن کو محض اس صورت میں موثر سمجھا جائے گا جب یہ اس انداز میں خرچ کیا جائے کہ دوسروں کے لئے مفید ہو۔آیا کہ وہ محن دوسروں کے لئے مفید ہے ، نتیجتاً [اس کی مصنوعہ] دوسروں کی کسی حاجت کی تسکین کر سکتی ہے، اسی صورت میں ثابت ہو گا جب یہ مبادلہ کے عمل میں آئے۔

شے کا ہر مالک صرف اسی صورت میں اپنی شے کامبادلہ کرناچاہے گا جب ایسی اشیاء بھی موجودہوں جو اس کی کسی حاجت کی تسکین کرتی ہوں ۔اگر اس اعتبار سے دیکھیں تو مبادلہ اس کے لئے صِرف نجی لین دین ہی رہ جاتا ہے۔دوسری طرف وہ اپنی شے کو قدر کی ایک ایسی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے جو اسے کسی بھی مساوی قدر کی حامل شے میں بدل سکے،اسے اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس کی اپنی شے دوسری شے کے مالک کے لئے قدرِ صرف کا درجہ رکھتی ہے یا نہیں۔اس نقطۂ نظر کے تحت مبادلہ اُس کے لئے عمومی کردار کا حامل سماجی لین دین ہے۔لیکن لین دین کا ایک ہی نظام اشیاء کے تمام مالکان کے لئے ایک ہی وقت میں مکمل طور پر نجی اور مکمل طور پر سماجی اور عمومی نہیں ہو سکتا ۔

اب اس مسئلے پر مزید غور کرتے ہیں ۔شے کے ایک مالک کے نزدیک اس کی اپنی شے کے حساب سے ہر دوسری شے ایک مخصوص مساوی القوت ہے ،چنانچہ اس کی اپنی شے دوسری تمام اشیاء کے لئے یونیورسل مساوی القوت کا درجہ رکھتی ہے۔اب چونکہ یہ بات ہر مالک پر صادق آتی ہے،تو درحقیقت ایسی کوئی شے نہیں رہ جاتی جسے یونیورسل مساوی القوت کہا جا سکے۔اور اشیاء کی متعلقاتی قدر کی ایسی کوئی عمومی شکل نہیں جس کے تحت ان کو اقدار کے طور پر ایک دوسرے کے مساوی ٹھہرایا جا سکے،اور ان کی اقدار کے حجم کا موازنہ کیا جا سکے۔اس وجہ سے وہ ایک دوسرے کے مدِ مقابل اشیاء کے طور پر نہیں آتیں بلکہ محض مصنوعات یا اقدارِ صرف کے طور پر آتی ہیں۔اپنی مشکلات میں اشیاء کے یہ مالکان فاؤسٹ کے انداز میں سوچتے ہیں: ‘‘ آغاز میں عدم ہی تھا ’’ ؛ چنانچہ وہ سوچے سمجھے بغیر ہی عمل ، یعنی لین دین کر لیتے ہیں۔جبلی طور پر وہ ان اصولوں کے تابع ہو تے ہیں جو [خود] اشیا کی اپنی فطرت کی وجہ سے ہیں۔وہ اپنی اشیاء کو اقدار کی حیثیت سے آمنے سامنے رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بطور اشیاء کے ،مگر ایک ایسی چیز کے ساتھ انہیں مقابل ٹھہرا کر جسے یونیورسل مساوی القوت تصور کیا گیا ہو۔اس کا جائزہ ہم شے کے تجزئے میں لے چکے ہیں۔لیکن کوئی مخصوص شے سماجی عمل کے بغیریونیورسل مساوی القوت نہیں بن سکتی۔دوسری تمام اشیاء کا یہ سماجی عمل ایک خاص شے کو ایک علیحدہ حیثیت تفویض کرتا ہے،جس میں وہ سب اپنی اقدار بیان کرتی ہیں۔اس موقع پر اس شے کی جسمانی شکل ،سماجی طور پر تسیلم




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

مبادلہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے