مبادلہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 795
عنوان مبادلہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 230198
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مبادلہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مبادلہ - کی دوسری شاخیں-
حواشی بابِ دوم

مبادلہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

شدہ یونیورسل مساوی القوت حالت میں بدل جاتی ہے۔چنانچہ اس سماجی عمل کے تحت ،یونیورسل مساوی القوت ہونا ہی اُس وقت اس شے کا مخصوص کردار بن جاتا ہے، جب اسے دوسری تمام اشیاء اپنی صف سے خارج کر دیتی ہیں۔اس طرح سے یہ روپیہ بن جاتا ہے۔"ان کا ایک ہی ذہن ہے اور وہ جانور کو اپنی قوت اور توانائی دے دیتے ہیں۔ اور یہ کہ کوئی آدمی نہ تو خریدے گا نہ ہی بیچے گا سوائے اس کے جس کے پاس جانور کی چھاپ یا نام ہو، یا جانورکے نام کی تعداد[مالیت]۔(Apocalypse)

مبا دلوں کے عمل میں ،روپیہ ضرورت کی تخلیق کردہ وہ شفاف صورت ہے ،جس کے تحت محن کی مختلف مصنوعات عملاً ایک دوسری کے مساوی مانی جاتی ہیں،اور [سماجی] عمل کے ذریعے اشیاء میں بدلتی ہیں۔مبادلوں کی تاریخی ترقی اور وسعت ہی دراصل اشیاء میں مخفی قدرِ صرف اور قدر کے تضاد کو افشاں کرتے ہیں۔اس تضاد کو تجارتی کاروبار کی خاطر خارجی اظہار تفویض کرنے کی ضرورت ،جو قدر کی آزاد بنترکا تقاضہ کرتی ہے،اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک اشیاء کی تفریق اشیاء اور روپے میں نہیں ہوتی ۔پھر جس طرح مصنوعات کے اشیاء میں بدلے جانے کا عمل انجام پذیر ہوتا ہے بالکل اسی طرح ایک خاص الخاص شے روپے میں بدلتی ہے۔4؂

اشیاء کا براہ راست ادلہ بدلہ(barter )ایک صورت میں تو قدر کے متعلقاتی اظہار کی ابتدائی شکل میں آ جاتا ہے ،جبکہ دوسری صورت میں ایسا نہیں ہوتا ۔وہ صورت حسبِ ذیل ہے:

x شے A = y شےB

اور براہِ راست ادلے بدلے کی شکل یہ ہو گی:

x قدرِ صرف A =y قدرِ صرف B 5 ؂

اس مسئلے کی رو سے AاورB ،ہر دو عناصر بہر حال کسی طرح بھی دو اشیاء نہیں،چنانچہ یہ ادلے بدلے کا عمل ہی ہے جو انہیں اشیاء بناتا ہے۔ ایک کار آمد چیز جب قدرِ مبادلہ کی شکل میں بدلتی ہے تو پہلے درجے پر وہ اپنے مالک کے لئے غیر قدرِ صرف بن جاتی ہے،ایسا اس وقت ہوتا ہے جب یہ کسی ایسی چیز کا غیر ضروری حصہ بنتا ہے جو اسے وقتی حاجات کے لئے درکار ہوتی ہے۔چیزیں انسان سے خارج میں ہیں اور اس کے نتیجے میں اس سے بُعد میں جا سکتی ہیں۔اس لئے کہ یہ بُعد [انسانوں میں]دو طرفہ بھی ہو صرف اس لئے یہ انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک سمجھے سمجھائے اصول کے تحت ایک دوسرے کو ان قابلِ بُعد اشیاء کے نجی مالکان ، اورا سی طرح آزاد افراد کے بطور قبول کریں۔ لیکن دو طرفہ آزادی کی اس قسم کی حالت ایسے قدیم سماج میں کوئی وجود نہیں رکھتی جس میں جائیداد کی حیثیت مشترکہہوتی ہے،چاہے یہ پدر سری معاشرہ ہو،قدیمی ہندوستانی کمیونٹی،یا پھر پیرو کی انکا Inca ریاست۔ اس وجہ سے اشیاء کا تبادلہ،ان معاشروں کے اس مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں ان کا رابطہ اسی قسم کے دوسرے معاشروں کے ساتھ ہوتا ہے یا پھر آخر الذکر کے افراد کے ساتھ۔جونہی مصنوعات ایک معاشرتی ڈھانچے کے خارجی تعلقات کے تحت اشیاء میں بدلتی ہیں ،تو اس کے ردِ عمل میں داخلی طور پر بھی ایسا ہی ہو جاتا ہے۔جن مقداروں میں یہ [اشیاء] ایک دوسرے سے بدلی جا سکتی ہیں،ان کی اوّ لین حیثیت اتفاقیہوتی ہے۔ان[ اشیاء] کو مبادلے کی صورت جبھی حاصل ہوتی ہے ، جب ان کے مالکان باہمی خواہش کے تحت ان کو بُعد میں لے جاتے ہیں۔اس دوران میں باہر کی مفید چیزوں کی ضرورت اپنے آپ کو مضبوط تر بنا چکی ہوتی ہے۔مبادلے کیمسلسلرونما ہونے والی گردش اسے ایک عام سماجی عمل میں بدل دیتی ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محن کی مصنوعات کا کچھ حصہ لازماًمبادلے کے مقصد کے لئے بنایا جانا چاہئے۔اسی لمحے سے ایک عنصر کی استعمال کی افادیت اور مبادلے کی افادیت کا فرق مکمل طور پر قائم ہو جاتا ہے۔اس کی قدرِ صرف ، قدرِ مبادلہ سے واضح طور پر الگ ہو جاتی ہے۔دوسری طرف وہ مقداری تناسب، جس کے تحت یہ چیزیں آپس میں بدلی جا سکتی ہیں ، محض ان کی پیداوار پر ہی منحصر رہ جاتا ہے ۔روایت ان پر اقدار کے مخصوص حجموں کی مہر ثبت کر دیتی ہے۔

مبادلے کے بلا واسطہ ادلے بدلے میں ہر شے اپنے مالک کے لئے مبادلے کا ایک براہ راست ذریعہ ہوتی ہے،اور دوسرے تمام لوگوں کی لئے ایک مساوی القوت،واضح رہے کہ ایسا صرف اس وقت ممکن ہے جب یہ ا ن سب کے لئے قدرِ صرف رکھتی ہو۔چنانچہ ، اس مقام پر مبادلے میں شامل چیزیں اپنی قدرِ صرف ،یا مبادلہ کرنے والے افراد کی انفرادی ضروریات سے آزاد ہو کر قدری شکل نہیں اختیار کر سکتیں۔مبادلے میں آنے والی اشیاء کی اقسام اور انواع میں اضافے کے ساتھ ان کے قدری پیمانے کی ضرورت بھی بڑھتی جائے گی۔مسائل پیدا ہوتے ہیں تو ساتھ ساتھ ان کے حل بھی نکل آتے ہیں۔شے کے مالکان کبھی بھی اپنی اشیاء کو[مبادلے میں] دوسروں کی اشیاء کے برابر نہیں لاتے نہ ہی ان کا بڑے پیمانے پر تبادلہ کرتے ہیں،سوائے اس صورت کے کہ بہت سی اقسام کی اشیا جو مختلف مالکوں کی ملکیت ہوں ، بطور قدر ایک ہی خاص شے سے بدلی جا سکتی ہوں اور اسی کے برابر لائی جا سکتی ہوں۔ آخر میں بیان کیا جانے والا یہی عنصر تمام دوسری اشیاء کا مساوی القوت بنتے ہوئے بیک وقت ، مگر محدود طور پر عمومی سماجی مساوی القوت کا درجہ پا جاتا ہے ۔ ان عارضی سماجی عوامل کی وجہ سے یہ خاصہ کچھ عرصے کے لئے ہی[کسی خاص شے کو ]میسر آتا ہے اور پھر اس سے وابستہ نہیں رہتا۔اس کے نتیجے میں یہ اپنے آپ کو ،عارضی طور پر،پہلے ایک شے کے ساتھ وابستہ کرتا ہے اور پھر دوسری کے ساتھ۔ لیکن تبادلے کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ یہ اپنے آپ کو کچھ مخصوص اشیاء کے ساتھ مضبوطی سے اور کلی طور پر مخصوص کر دیتا ہے،اور اس کی شفاف ترین صورت جب ہوتی ہے جب یہ شکل روپیہ اختیار کرلے۔ پہلے پہل تووہ مخصوص شے جس کے ساتھ یہ [خاصہ] چمٹ کر رہ جاتا ہے اتفاقی ہی ہوتی ہے،تا ہم اس سلسلے میں دو عوامل ہی قطعی طور پر فیصلہ کن ہو سکتے ہیں ۔شکلِ روپیہ یا تو بدیس سے آنے والی مبادلے کے اہم ترین اشیاکے ساتھ وابستہ ہو جاتی ہے ،اور یہ در حقیقت وہ قدیم اور فطری شکلیں ہیں جن میں دیسی مصنوعات کی قدرِ مبادلہ اظہار پاتی ہے،دوسری صورت میں یہ[شکلِ روپیہ] امفید اشیا،جیسے مو




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

مبادلہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے