مبادلہ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-17
داخلا نمبر 795
عنوان مبادلہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 230195
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مبادلہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مبادلہ - کی دوسری شاخیں-
حواشی بابِ دوم

مبادلہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

یشی،جوکہ ملکی قابلِ بُعد دولت کی ایک بڑی مقدار ہے، سے منسلک ہو جاتی ہے۔خانہ بدوش اقوام(Nomad Races)نے سب سے پہلے شکلِ روپیہ کو رواج دیا،کیونکہ ان کا تمام دنیاوی سازوسامان منقولہ چیزوں پر مشتمل تھا ،چنانچہ بلا واسطہ قابلِ بُعد تھا،اور یہ کہ ان کا طرزِ زندگی ،غیر ملکی اقوام کے ساتھ مسلسل تعلقات رکھنے کی وجہ سے مصنوعات کے تبادلے کا باعث بنتا تھا۔انسان نے اکثر خود انسان ہی کو ،غلاموں کی شکل میں ،دولت کی قدیم شکل بننے پر مجبور کیا ہے،مگر اس نے زمین کو اس مقصد کے لئے کبھی استعمال نہیں کیا ۔اس قسم کا تصور صرف اُس بورژوا سماج میں رونما ہو سکتا تھا ،جو کہ پہلے ہی سے ترقی یافتہ ہو۔اس کی تاریخ سترھویں صدی کے آخری تیس سال میں ظاہر ہوئی ہے، اور اس کو ملکی سطح پر فعال بنانے کی پہلی باقائدہ کوشش ایک صدی بعد ،فرانسسی بورژوا انقلاب کے دور میں رو پذیر ہوئی۔

جس تناسب میں مبادلہ اپنی مقامی حدود توڑتا جاتا ہے ،اور اشیاء کی قدر جیسے جیسے اپنے آپ کو انسانی محن کی مجرد تجسیم میں بدلتی جاتی ہے،اسی تناسب میں روپے کا عنصر اپنے آپ کو ان اشیاء کے ساتھ وابستہ کرتا جاتا ہے، جو یونیورسل مساوی القوت کا سماجی کردار ادا کرنے کے لئے فطری طور پر ہی موزوں کی جاتی ہیں۔وہ اشیاء قیمتی دھاتیں ہیں۔

اس مفروضے کی حقیقت کہ:‘‘ اگرچہ سونا اور چاندی خواصی طور پر روپیہ نہیں ہوتے ،مگر روپیہ خواصی طور پر سونا اور چاندی ہی ہوتا ہے6؂، ’’ ان دھاتوں کے ان جسمانی خواص سے آشکار ہوتی ہے جن کے تحت یہ روپے کا منصب ا دا کرنے کے لئے موزوں ٹھہرتی ہیں7؂۔اس نکتے تک ہم صِرف روپے کے منصب ہی سے آگاہ ہیں،یعنی جس کے تحت یہ اشیاء کی قدر کے اظہار کی ایک شکل کا کام دیتا ہے، یا اس چیز کا کہ جس میں ان کی اقدار کے حجم سماجی طور پر بیان کئے جاتے ہیں۔یہ قدر کے اظہار کی مناسب شکل ہے،اور مجرد ، ناقابلِ تخصیص اور نتیجتاً مساوی محنِ انسانی کی مکمل ترین تجسیم،ایسی چیز کہ جس کا ہر ٹکڑا[یا حصہ] ایسی ہی خاصیتوں کا حامل ہے۔دوسری طرف اگرچہ ،اقدار کے حجموں کے مابین فرق خالصتاً مقداری ہوتا ہے،چنانچہ شے‘روپے’کو بھی محض مقداری تخصیص ہی کا متحمل ہونا چاہئے،اور منشا کے مطابق قابلِ تقسیم اور ساتھ ساتھ اتصالِ نو کا اہل بھی ہونا چاہئے۔سونے اور چاندی میں اس قسم کے خواص بنیادی طور پر ہی موجود ہیں۔

شے‘روپے ’کی قدرِ صرف کی خاصیت دو رُخی ہو جاتی ہے۔شے کے طور پر اپنی خصوصی قدرِ صرف کے ساتھ ساتھ( مثال کے طور پر سونے کا سب سے بڑا خاصہ یہ ہے کہ یہ سامانِ آرائش وغیرہ کے لئے خام مال فراہم کرتا ہے۔)ایک روایتی قدرِ صرف حاصل کر لیتا ہے،جو اس کے خاص سماجی عمل میں نمود پذیر ہوتی ہے۔

چونکہ تمام اشیاء محض [خاص مقدار میں ہی] روپے کی مساوی القوت ہوتی ہیں،اور آخرالذکر ان کا یونیورسل مساوی القوت ہوتا ہے،چنانچہ وہ [تمام اشیاء]آخرالذکر کے مساوی القوت ہونے کی وجہ سے عمومی اشیاء کا کردار ادا کرتی ہیں8؂۔

ہم دیکھ چکے ہیں کہ شکلِ روپیہ، دوسری تمام اشیاء کے قدری تعلق کا محض ایک ایسا انعکاس ہے، جو صرف ایک شے پر ڈالا جاتا ہے۔یہ کہ روپیہ ایک شے ہے9؂ ،صرف اور صرف ان لوگوں کے لئے نئی دریافت ہے جو اس کے تجزئے کا آغاز ہی اس کی ارتقاء یافتہ شکل سے کرتے ہیں۔مبادلے کا عمل اس شے کو، جوکہ روپے میں بدل چکی ہوتی ہے، اس کی قدر نہیں بلکہ ایک خاص قدری شکل تفویض کرتا ہے۔ان دو متفرق عناصر کو خلط ملط کر کے کچھ لوگ یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ سونے اور چاندی کی قدر فرضی ہے10؂۔اس حقیقت نے کہ، روپیہ بعض اوقات خود اپنی ہی علامات سے بدلا جا سکتا ہے ،اُن غلط نظریات کو جنم دیا ،جن کے تحت یہ گمان کیا جانے لگا کہ یہ خود بھی ایک علامت علاوہ کچھ نہیں۔ اس غلطی میں یہ تعصب پنہاں تھا کہ ایک شے کی شکلِ روپیہ اس کا جزوِ لاینفک نہیں ہوتی،بلکہ یہ تو صرف وہ شکل ہوتی ہے کہ جس کے تحت مخصوص سماجی تعلقات اپنا اظہار پاتے ہیں۔اس خیال کی رو سے ہر شے ایک علامت ہے ،لیکن چونکہ یہ قدر بھی ہے ،اس وجہ سے یہ محض اس محنِ انسانی کا مادی جامہ ہے جو اس پر استعمال ہوا ہے11؂۔لیکن اگر یہ دعویٰ کر دیا جائے کہ وہ سماجی خاصہ جو چیزیں اختیار کرتی ہیں ،یا وہ مادی شکلیں جو محن کے سماجی خواص ،ایک مخصوص پیداوارانہ نظام کے تحت ،اختیار کرتے ہیں نری علامات ہی ہوتی ہیں، توایک ہی سانس میں یہ بھی دعویٰ کیا جائے گا کہ یہ خواص گھڑی گھڑائی کہانیاں ہیں جنہیں بنی نوع انسان کی نام نہاد آفاقی رضا و رغبت حاصل ہے۔اس طرح کی تشریحات کا انداز اٹھارویں صدی کے ماحول سے مطابقت رکھتا تھا۔ جب یہ سماجی روابط کی پیچیدہ اشکال کو سمجھنے سے قاصر رہے تو انہوں نے ان [سماجی روابط ] کی عجیب و غریب دکھائی دینے والی شکل کو ختم کرنے کے لئے انہیں روایتی ماخذوں سے منسوب کر دیا۔

اس بات کا پہلے ہی ذکر کیا جا چکا ہے کہ ایک شے کی مساوی القوت شکل سے مراد اس کی قدر کے حجم کا تعین نہیں۔اب اگرچہ ہم اس حقیقت سے آگاہ بھی ہوں کہ سونا ہی روپیہ ہے اورنتیجتاً دوسری تمام اشیاء سے بلاواسطہ بدلا جا سکتا ہے ،اس کے باوجود ہمیں اس بات کا پتا نہیں چلتا کہ 10 گرام سونے کی خود اپنی مالیت کتنی ہے۔ہر دوسری شے کی طرح روپیہ بھی اپنی قدر کا حجم نہیں ظاہر کر سکتا ، مگر دوسری اشیاء میں متعلقاتی طور پر۔یہ قدر اس عرصۂ محن سے اخذ کی جاتی ہے جو اس کی تیاری کے لئے درکار ہوتا ہے،اور اسے کسی بھی دوسری قسم کی شے کی اُس مقدار میں بتایا جا سکتا ہے جس پر اس کے مساوی عرصۂ محن استعمال ہوا ہو۔اس کی متعلقاتی قدر کا اس قسم کا مقداری تعین اس کی پیداوار کے ماخذ پر ہی ادلے بدلے کے ذریعے ہوتا ہے۔جب یہ روپے کی حیثیت سے گردش میں آ جاتا ہے تو اس کی قدر پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔سترھویں صدی کے آ خری عشروں میں یہ بات پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکی تھی کہ روپیہ ایک شے ہی ہے،لیکن یہ درجہ صرف اور صرف اس تجزیے کی ابتدائی شکل ہی بتاتا ہے۔اصل مشکل یہ نہیں کہ روپیہ ایک شے ہے بلکہ اس بات کو جاننے میں ہے کہ کوئی شے کیوں ، کیسے اور کن شرائط کے تحت روپے میں بدلتی ہے13؂۔

ہم قدر کے اظہار کی انتہائی ابتدائی شکل یعنی:x شے A = y شےB

میں دیکھ چکے ہیں کہ وہ چیز جس میں کسی بھی دوسری چیز کی قدر کا حجم بتایا جاتا ہے ،اس تعلق سے بالا ہی مساوی القوت شکل کی حامل معلوم ہوتی ہے،اور بطور ایک ایسی سماجی خاصیت کے جو اسے فطری طور پر ودیعت کی گئی ہو۔ہم اس جھ




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

مبادلہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے