متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 830
عنوان متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228636
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی12

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

حصۂ چہارم

Part IV

باب 12

Chapter XII

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ

The concept of Relative Surplus Value

ترجمہ: امتیاز حسین، ابن حسن



دیہاڑی کا وہ حصہ جس میں محض اس قدر کا مساوی القدر پیدا کیا جاتا ہے جس کی ادائیگی سرمایہ دار اس کی قوتِ محن کو کرتا ہے، اسے اب تک بقا پذیر مقدار کی حیثیت میں دیکھا گیا ہے؛ اور ایسا مخصوص پیداواری حالات اور سماج کی معاشی ترقی کی مخصوص سطح پر ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ مزدور اپنے لازمی عرصۂ محن سے بڑھ کر 2،3،4،6...گھنٹے تک کام کرسکتا ہے۔ قدرِ زائد کی شرح اور دیہاڑی کی طوالت کا دارومدار اس بڑھاوے کے حجم پر تھا۔ اگرچہ لازمی عرصۂ محن متعین تھا ، لیکن ہم نے دوسری طرف دیکھا کہ مجموعی طور پر دیہاڑی تغیر پذیر تھی۔ اب فرض کریں کہ ہمارے پاس ایک ایسی دیہاڑی ہے جس کی طوالت اور ، محنِ لازم اور محنِ زائد میں جس کی تقسیم متعین ہے۔ فرض کرتے ہیں کہ مثلاً پورا خط a cیعنی a___b_c ایک 12گھنٹے کی دہاڑی کو بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر 10گھنٹے کی ایک دیہاڑی میں a bکا حصہ 10گھنٹے کے محنِ لازم کو، اور b cکا حصہ 2گھنٹے کے محنِ زائدکوبیان کرتا ہے۔ اب قدرِ زائد کی پیداوار کس طرح بڑھ سکتی ہے، دوسرے لفظوں میںa cمیں ہر قسم کے ردوبدل یا اضافے سے قطع نظر محنِ زائد میں کس طرح توسیع کی جا سکتی ہے؟

اگرچہ a cکی طوالت طے شدہ ہے ،لیکن b cکی طوالت میں اضافہ ممکن نظر آتا ہے۔ اس کے نقطۂ منتہاc _جو دیہاڑی a cکا اختتام بھی ہے_ سے متجاوز ہوتے ہوئے نہ سہی،دیگر تمام مواقع پر اس کو اپنے نقطۂbکوaکی سمت میں دھکیلتے ہوئے۔ فرض کریں کہ خط a bb cمیں خط b _b ،خط b cکے نصف کے برابر ہے۔

a___b _b__c

یا ایک گھنٹے کے وقتِ محن تک۔ اگر اب a cمیں، جو کہ12گھنٹے کی پوری دیہاڑی ہے،ہم نقطہ bکو b کی طرف کھسکا دیں تو b cتبدیل ہو کرbcبن جائے گامطلب یہ کہ محنِ زائد میں آدھے برابر اضافہ ہوا ہے، یعنی یہ 2گھنٹے سے 3گھنٹے ہو گیاہے حالانکہ دیہاڑی وہی 12گھنٹے ہی کی ہے۔ صاف بات ہے کہ زائد وقتِ محن کی b cسےbc، یعنی 2سے 3گھنٹے میں یہ بڑھت لازمی عرصۂ محن a bکی a bیعنی 10سے9گھنٹے تک میں کمی کے بغیر ممکن نہیں۔ محنِ زائد میں آنے والا پھیلاؤ محنِ لازم میں کمی کے مطابق ہو گا؛ یاعرصۂ محن کا وہ حصہ جو در اصل اس سے پہلے خود مزدور کے فائدے کے لئے استعمال ہوتا تھا اب اُسے سرمایہ دار کے لئے مفید وقت کے حصے میں بدل دیا جائے گا۔ چنانچہ دیہاڑی کی طوالت میں تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ لازمی عرصۂ محن اور زائد عرصۂ محن میں اس کی تقسیم میں فرق پڑے گا۔

دوسری طرف یہ بات بھی واضح ہے کہ اگر دیہاڑی کی طوالت اور قوتِ محن کی قدر متعین ہوں تو محنِ زائد کا دورانیہ طے شدہ ہوتا ہے۔ قوتِ محن کی قدر، مطلب یہ کہ وہ عرصۂ محن جو قوتِ محن کی تخلیق کے لئے درکار ہے اُس قدر کی پیداوار کے لئے درکار عرصۂ محن کو متعین کرتا ہے۔ اگر محن کا ایک گھنٹہ 6پینس میں مجسم ہو ، اور ایک دن کی قوتِ محن کی قدر 5شلنگ ہو تو مزدور کو اس قدر کے مساوی پیدا کرنے کے لئے،یا پھر اپنے روزانہ کے ضروری ذرائع بقا کا مساوی القوت پیدا کرنے کے لئے 10گھنٹے کام کرنا ہو گاجس کی سرمایہ دار نے اُسے ادائیگی کی ہے۔ اگر ان ذرائع بقا کی قدر متعین ہوتو اس کی قوتِ محن کی قدر بھی طے شدہ ہو گی1؂۔ اور اگر اس کی قوتِ محن کی قدر متعین ہو تو اس کے لازمی عرصۂ محن کا دورانیہ بھی طے شدہ ہو گا۔ چنانچہ محنِ زائد کے دورانیے کو کُل دیہاڑی سے محنِ لازم کا دورانیہ منہا کرتے ہوئے اخذ کیا جا سکتاہے۔ بارہ گھنٹوں سے دس منہا کر دیں تو دو بچ جائیں گے ؛ اور یہ دیکھنا آسان نہیں کہ مخصوص حالات میں محنِ زائد کو دو گھنٹوں سے زیادہ کیسے طویل کیا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ سرمایہ دار مزدور کو 5شلنگ دینے کے بجائے 4شلنگ اور 6پینس یا اس سے بھی کم ادا کرسکتا ہے کیونکہ اس 4شلنگ اور 6پینس کی قدر کی پیداوار کے لئے 9گھنٹے کا عرصۂ محن ہی کافی ہو گا ، نتیجتاً دو کی بجائے تین گھنٹے کا محنِ زائد سرمایہ دار کے کھاتے میں جائے گا اور قدر زائد ایک شلنگ سے بڑھ کر اٹھارہ پینس ہو جائے گی ۔یہ نتیجہ محض اس شکل میں حاصل کیا جا سکتا ہے کہ مزدور کی اُجرت کو اس کی قوتِ محن کی قدر سے کم کر دیا جائے۔ 4شلنگ 6پینس کی اُس رقم کے ساتھ جو وہ 9گھنٹے میں پیدا کرتا ہے ، اب پہلے کی نسبت وہ اپنی ضروریاتِ زندگی کا نواں حصہ کم حاصل کر سکے گا چنانچہ اس کی قوتِ محن کی معقول بحالی ہتھیا لی جائے گی۔اس مسئلے میں محنِ زائد کو محض اس کی معمول کی حد سے متجاوز کرتے ہوئے طول دیا گیا ہے۔ اس کے دائرۂ کار میں اضافہ ضروری عرصۂ محن کے ایک حصے کو غصب کرنے ہی سے ممکن ہے۔ اس اہم کردار کے باوجود جو یہ طریقۂ کار عملاً ادا کرتا ہے ہم اس مقام پر اپنے اُس مفروضے کی وجہ سے اسے نظر انداز کر دیں گے کہ قوتِ محن سمیت تمام اشیاء اپنی پوری قدر پر خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ جب یہ بات طے ہو گئی تو یہ نتیجہ نکلتاہے کہ قوتِ محن کی پیداوار یا اس کی تخلیقِ نو کے لئے درکار ضروری عرصۂ محن یامزدور کی اُجرت کو اس کی قوتِ محن کی قدر سے کم کرتے ہوئے نہیں بلکہ خود قدر میں کمی کرتے ہوئے ہی گھٹایا جا سکتا ہے۔ اگر دیہاڑی کی طوالت متعین ہو تو لازمی بات ہے کہ محنِ زائد کو ضروری عرصۂ محن کی تخفیف ہی سے طول دیا جا سکتا ہے؛ ضروری عرصۂ محن سے محنِ زائد جنم نہیں لے سکتا۔ ہمارے زیرِ غور مثال میں قوتِ محن کی قدر میں دسویں حصے تک کمی آنا ضروری ہے تاکہ ضروری عرصۂ محن کا دسواں حصہ گھٹا یا جا سکے، مطلب یہ کہ دس سے کم کر کے نو گھنٹے اور یہ اس لئے کہ محنِ لازم کو دو سے تین گھنٹے تک لمبا کھینچ جا سکے۔

تاہم قوتِ محن کی ایسی تبدیلی سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ضروریاتِ زندگی جو ماقبل دس گھنٹے میں پیدا کی جا سکتی تھیں اب نو گھنٹے میں پیدا کی جاسکتی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ محن کی افزودگی میں اضافے کے بغیر نا ممکن ہے۔ مثلا ً فرض کریں ایک موچی چند مخصوص اوزاروں کے ساتھ 12گھنٹے کے ایک دن میں جوتے کا ایک جوڑا تیار کرتا ہے۔ اگر اُسے اِ




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے