متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 830
عنوان متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228640
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی12

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

نے ہی وقت میں جوتے کے دو جوڑے بنانے پڑیں تو لازم ہے کہ اس کے محن کی افزوگی دو چند ہو جائے۔ اور ایسا اُس کے اوزاروں، یا اُس کے کام کرنے کے طریقوں یا دونوں میں تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ پس پیداواری حالات یعنی اس کی طبعِ پیداوار اور خود عملِ محن میں انقلاب کا آنا ضروری ہے۔ لیکن محن کی افزودگی میں اضافے سے ہماری مراد عموماً عملِ محن میں ایسی تبدیلی ہوتا ہے جو ایک شے کی پیداوار کے لئے درکار سماجی طور پر ضروری عرصۂ محن میں کمی کر دے اور محن کی ایک مخصوص مقدار کو ایک ایسی قوت دے جو قدرِ صرف کی زیادہ مقدار پیدا کرنے کی اہلیت رکھتی ہو2؂۔ اب تک قدرِ صرف کی بات کرتے ہوئے جو دیہاڑی کی سیدھی سادی بڑھت سے پیدا ہوتی ہے،ہم طبعِ پیداوار کو طے شدہ اور بے بدل تصور کر چکے ہیں۔ لیکن جب محنِ لازم کو محنِ زائد میں بدلتے ہوئے قدرِ زائد حاصل کرنا مقصود ہو تو یہ بات کسی صورت بھی سرمائے کے لئے مفید نہ ہو گی کہ عملِ محن کو اُسی شکل میں قبول کر لے جس میں یہ تاریخی طور پر موجود تھی، اور پھر محض اس عمل کے دورانیے میں اضافہ کرتا رہے۔ اس عمل کی تکنیکی اور سماجی صورتِ احوال اور نتیجتاً طبعِ پیداوار ہی میں انقلاب بپا ہونا چاہئے اس سے پہلے کہ محن کی افزودگی میں اضافہ حاصل کیا جا سکتاہو ۔ محض اُن ذرائع ہی سے قوتِ محن کی قدر کی تخفیف ممکن ہوسکتی ہے ، اور اس قدر کی تخلیقِ نو کے لئے درکار دیہاڑی کے حصے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

دیہاڑی کو طویل کھینچتے ہوئے پیدا ہونے والے قدرِ زائد کو میں مطلق قدرِ زائد کہتا ہوں۔ جبکہ لازمی عرصۂ محن کی تخفیف اور دیہاڑی کے دو اجزاء کی طوالتوں میں آنے والی باہمی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والی قدرِ زائد کو میں متعلقاتی قدرِ زائد کا نام دیتا ہوں۔

اگر قوتِ محن کی قدر میں کمی کرنا مقصود ہو تو صنعت کی اُن شاخوں میں محن کی افزودگی لاگو کرنا پڑے گی جن کی مصنوعات قوتِ محن کی قدر متعین کرتی ہیں، اور نتیجتاً چاہے ان کا تعلق روایتی ذرائع خوردونوش سے ہو یا وہ ان ذرائع خوردونوش کے لئے جگہ فراہم کر سکتی ہوں۔ لیکن ایک شے کی قدر کی تعیین نہ صرف اس مقدارِ محن سے ہوتی ہے جو مزدور اس شے میں براہِ راست شامل کرتا ہے بلکہ اس محن سے بھی جو ذرائع پیداوار میں پہلے سے موجود ہے۔ مثال کے طور پر جوتے کے ایک جوڑے کی قدر کا انحصار نہ صرف موچی کے محن پر ہے بلکہ چمڑہ ،موم اور دھاگے وغیرہ کی قدر پر بھی ہے۔ پس قوتِ محن کی قدر میں کسی قسم کی کمی محن کی افزودگی میں اضافے اور اسی لحاظ سے اُن صنعتوں کی اشیاء کی قیمتوں میں نسبتی کمی ہی سے ممکن بنائی جاتی ہے، جو آلاتِ محن اور خام مواد فراہم کرتی ہیں، یعنی جو ضروریاتِ زندگی پیدا کرنے والے بقا پذیر سرمائے کے لئے مادہ عوامل مہیا کرتے ہیں۔لیکن صنعت کی اُن شاخوں میں محن کی افزودگی میں اضافہ جونہ تو ضروریاتِ زندگی مہیا کرتی ہیں اور نہ ایسی ضروریات کے لئے ذرائع پیداوار ہی مہیا کرتی ہیں، قوتِ محن کی قدر پر ہر گز اثر انداز نہیں ہوتا۔

شے کی قیمت میں کمی یقینا قوتِ محن کی قدر میں محض ضمنی کمی کا باعث بنتی ہے ایک ایسی کمی جو قوتِ محن کی تخلیقِ نو میں اُس شے کے استعمال کی سطح کی نسبت سے آتی ہے۔ مثال کے طور پر قمیص شلوار ذرائع بقا کا ضروری عنصر ہے مگر یہ دیگر کئی میں سے ایک ہے۔ چنانچہ ضروریاتِ زندگی کی کُلیت مختلف اشیاء پر مشتمل ہے اور ان میں سے ہر شے ایک الگ صنعت کی پیداوار ہے۔ ان تمام میں سے ہر شے کی قدر قوتِ محن کی قدر میں ایک جزو کے بطور شامل ہوتی ہے۔ یہ آخرلذکر قدر اس کی تخلیقِ نو کے لئے درکار ضروری عرصۂ محن میں کمی کی وجہ سے گھٹتی ہے ۔ یہ مجموعی کمی مختلف اور علیحدہ صنعتوں میں عرصہ محن میں کی جانی والی میں مختلف کمیوں کا مجموعہ ہے۔یہاں اس عمومی نتیجے کو یوں لیا گیا ہے گویا کہ یہ وہ فوری نتیجہ ہے جسے ہر ایک صورت میں بلا واسطہ مقصد کے بطور رکھا جاتا ہے۔مثلاً جب ہر انفرادی سرمایہ دار محن کی افزودگی میں اضافہ کرتے ہوئے قمیص شلوار کے نرخ کم کرتا ہے تو اس کا مقصد کسی طور پر بھی قوتِ محن کی قدر اور ساتھ ساتھ ضروری عرصۂ محن میں کمی نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ تو صرف اتنا ہے کہ وہ بہر حال اس نتیجے کی طرف حصہ ڈالتا ہے، یعنی وہ صرف قدرِ زائد کی عمومی شر ح میں اضافے میں مدد گار ہوتاہے3؂۔ سرمائے کے عمومی اور لازمی رجحانات کی تعیین کو ان کے ظہور کی بُنتروں سے ممیز کیا جانا چاہیے۔

یہاں اُن طریقوں پر بحث کرنا ہمارا مقصد نہیں جن کے تحت سرمایہ دارانہ پیداوار میں چھپے قوانین اپنا اظہار سرمائے کے فردی موادوں کی حرکت میں کرتے ہیں، جہاں وہ مقابلے کے سخت ترین قوانین میں اپنااظہار پاتے ہیں اور ایک انفرادی سرمایہ دار کے ذہنی شعور میں اس طرح آتے ہیں جیسے وہ اس کی کاوشوں کے مقاصد ہیں۔ لیکن صاف بات ہے کہ مقابلے کاسائنسی تجزیہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم سرمائے کی داخلی نوعیت سے آگاہی حاصل نہیں کر پاتے، بالکل اسی طرح جیسے اجرامِ فلکی کی ظاہری گردش سے صرف وہی آگاہی حاصل کر سکے گا جو ان کی حرکت کی نوعیت سے باخبر ہو گاایسی حرکات جنہیں حسیات کی مدد سے براہِ راست جاننا ممکن نہیں ۔ تاہم متعلقاتی قدرِ زائد کی بہتر تفہیم کے سلسلے میں ہم مندرجہ ذیل آراء کا اضافہ کرسکتے ہیں، جس میں ہم صرف اُس نتیجے ہی کو فرض کریں گے جو ماقبل اخذ کیا جا چکا ہے۔

اگر ایک گھنٹے کا محن 6 پینس میں مجتمع ہو تو 12گھنٹے کی ایک دیہاڑی میں 6شلنگ کے مساوی قدر پیدا ہو گی۔ فرض کریں کہ محن کی افزودگی کی حالیہ صورت میں ان 12گھنٹوں کے دوران 12چیزیں تیار ہوتی ہیں۔ ہر چیز کی تیاری میں استعمال ہونے والے ذرائع پیداوار کی قدر کو 6پینس تصور کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہر چیز پر12شلنگ لاگت آئے گی، جن میں 6پینس ذرائع پیداوار کی قدر کے اور 6پینس ان ذرائع پیداوار سے عمل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اب اگر کوئی سرمایہ دار محن کی افزودگی کو دو چند کرنے کا اہتمام کرتا ہے اور 12گھنٹے کی ایک دیہاڑی میں 12کے بجائے 24چیزیں پیدا کرتا ہے ۔ اگر ذرائع پیداوار کی قدر یکساں رہے تو ہر چیز کی قدر کم ہو کر 9پینس رہ جائے گی، جن میں 6پینس ذرائع پیداوار کی قدر اور 3پینس محن کی نئی پیدا ہونے والی قدر کے ہوں گے۔ اگرچہ محن کی افزودگی دو چند ہو چکی ہے، ایک دن کا محن پہلے کی طرح اب بھی صرف اور صرف 6شلنگ کی قدر ہی پیدا کر رہا ہے اور




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے