متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 830
عنوان متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
شاخ سرمایہ
پڑھا گیا 228642
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ کے بنیاد
سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ - کی دوسری شاخیں-
حوالہ جات و حواشی12

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ


شاخ سرمایہ
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

کچھ نہیں۔ تاہم اب یہ قدر پہلے کی نسبت دوگنی چیزوں تک پھیل چکی ہے۔ اب ہر چیز میں اس قدر کے -03 ویں حصے کے بجائے -03واں متجسم ہے یعنی 6پینس کے بجائے 3پینس، یا پھر یوں کہہ لیں کہ پورے ایک گھنٹے کے عرصۂ محن کے بجائے صرف آدھے گھنٹے کا عرصۂ محن ذرائع پیداوار میں اُس وقت نیا شامل کیا جا رہا ہے جب ان کی نئی چیزیں بن رہی ہیں۔اب ان سب چیزوں میں سے ہر ایک کی انفرادی قدر اُن کی سماجی قدر سے کم ہے۔ دوسرے لفظوں میں اوسط سماجی حالات میں پیدا ہونے والی ہزارہا چیزوں کی بہ نسبت ان پر کم عرصۂ محن استعمال ہوا ہے۔ ہر چیز پر اوسطاً ایک شلنگ خرچ ہوا ہے اور وہ 2گھنٹے کا سماجی محن بیان کر رہی ہے۔ لیکن بدلے ہوئے اندازِ پیداوار میں اس پر صرف 9پینس خرچ ہوئے ہیں، یا اس میں صرف -03گھنٹے کا محن شامل ہے۔ تاہم ایک شے کی اصل قدر اس کی سماجی قدر ہوتی ہے نہ کہ انفرادی قدر۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اصل قدر کی پیمائش اُس عرصۂ محن سے ممکن نہیں ہوتی جتنا ہر چیز کے سلسلے میں ایک پیداکار کا خرچ آتا ہے، بلکہ اس کی پیداوار کے لئے درکار سماجی طور پر ضروری عرصۂ محن ہی سے اسے جانا جا سکتا ہے۔ اس لئے اگر جو سرمایہ دار ایک نیا طریقہ اختراع کرتا ہے وہ ایسی اشیاء کواُن کی سماجی قدر یعنی 1شلنگ پر ہی فروخت کرتا ہے۔ وہ اس شے کواُس کی انفرادی قدر سے 3شلنگ مہنگا بیچتا ہے پس 3شلنگ کی اضافی قدرِ زائد حاصل کر لیتا ہے۔ دوسری طرف 12گھنٹے کی دیہاڑی کی نمائندگی اب 12چیزوں کے بجائے 24چیزیں کر رہی ہیں۔ پس ایک دیہاڑی کی پیداوار سے چھٹکارا پانے کے لئے طلب کو پہلے کی نسبت دُگنا کرنا ہو گا یعنی منڈی کی وسعت دو چند ہونی چاہیے۔اگر دوسری چیزیں یکساں رہیں تو اس کی اشیاء محض اس وقت منڈی میں توسیع لا سکیں گی جب ان کی قیمتیں کم کی جائیں گی۔ چنانچہ وہ ان[اشیاء] کو انفرادی قدر سے زیادہ مگر سماجی قدر سے کم پر بیچے گا، فرض کر لیں کہ یہ 10پینس فی کس کے حساب سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اب بھی ہر شے سے ایک پینس کے مساوی قدرِ زائد حاصل کر رہا ہے۔ قدرِ زائد کی اس بڑھت کو وہ اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔ چاہے اس کی اشیاء اُن ضروی ذرائع بقا کا حصہ بنیں یا نہ بنیں جو قوتِ محن کی عمومی قدر متعین کرنے میں حصہ دار بنتے ہیں۔ پس اس آخرالذکر صورتِ حال سے آزاد رہ کر ہر انفرادی سرمایہ دار کے پاس محن کی افزودگی میں اضافہ کرتے ہوئے اپنی اشیا سستا کرنے کا محرک موجود رہتا ہے۔

تاہم ، حتیٰ کہ اس معاملے میں بھی قدرِ زائد کی بڑھائی گئی پیداوار ضروری عرصۂ محن کی تخفیف اور اس سے وابستہ محنِ زائد کی بڑھت ہی سے پیدا ہوتی ہے4؂۔ فرض کریں کہ محنِ لازم 10گھنٹے پر مشتمل ہے اور ایک دن کی قوتِ محن کی قدر 5شلنگ ، زائد عرصۂ محن 2گھنٹے اور روزانہ کی قدرِ زائد 1شلنگ ہے۔ لیکن اب سرکایہ دار 24چیزیں پیدا کرتا ہے جنہیں وہ 10پینس فی عدد کے حساب سے فروخت کرتا ہے جس سے وہ مجموعی طور پر 20شلنگ حاصل کرلیتا ہے۔ جبکہ ذرائع پیداوار کی قدر 12شلنگ ہے، اب ان چیزوں کا -03حصہ لگائے جانے والے بقا پذیر سرمائے ہی کو بحال کرتا ہے۔ 12گھنٹے کی دیہاڑی کا محن باقی ماندہ -03چیزوں میں اظہارپاتا ہے۔چونکہ قوتِ محن کی قیمت 5شلنگ ہے اور 6چیزیں ضروری عرصۂ محن کو بیان کرتی ہیں، اور -03 چیزیں محنِ زائد کو۔ اوسط سماجی حالات میں محنِ لازم کا محنِ زائد کے ساتھ جو 5:1کا تناسب تھا اب وہ 5:3کا ہو چکا ہے۔ درج ذیل انداز میں بھی یہی نتیجہ حاصل ہو گا۔12گھنٹے کی مصنوعات کی قدر 20شلنگ ہے۔ اس رقم میں سے 12شلنگ ذرائع پیداوار کے ہیں_ایک ایسی قدر جس کی محض باز تشکیل ہو رہی ہے۔ باقی 8شلنگ بچ رہتے ہیں، اوریہ رقم دیہاڑی کے دوران نئی پیدا ہونے والی قدر کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ رقم اُس سے بڑی ہے جس میں اسی نوع کا اوسط سماجی محن اظہار پاتا ہے:آخرلذکر محن کے 12گھنٹے اب محض 6شلنگ میں اظہار پا رہے ہیں۔ غیر معمولی طور پر ہنر یافتہ محن اس وقت شدید تر محن کے انداز میں کام کرتا ہے۔ یہ کام کے مساوی وقفوں میں اسی نوع کے اوسط سماجی محن کی بہ نسبت زیادہ چیزیں پیدا کرتا ہے۔(دیکھئے باب 1فصل دوم )لیکن ہمارا سرمایہ دار پہلے کی طرح اب بھی ایک دیہاڑی کی قوتِ محن کے 5شلنگ ہی ادا کر رہا ہے۔ پس اس قدر کو پیدا کرنے کے لئے اب مزدور صرف -03گھنٹے کام کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے محنِ زائد میں اب -03گھنٹے کا اضافہ ہو چکا ہے، اور وہ جو قدرِ زائد پیدا کرتا ہے اب وہ 1شلنگ سے بڑھ کر 3شلنگ ہو چکی ہے۔ پس جو سرمایہ دار ترقی یافتہ پیداواری طریقہ استعمال کرتا ہے وہ اسی شعبے سے متعلقہ دوسرے سرمایہ دار کی نسبت محنِ زائد کی مد میں دیہاڑی کا زیادہ حصہ حاصل کر لیتا ہے ۔ جو کام دوسرے سرمایہ دار متعلقاتی قدرِ زائد پیدا کرنے کے سلسلے میں اجتماعی طور پر کرتے ہیں، وہ انفرادی طور رپرکر رہا ہے۔ تاہم دوسری طرف یہ اضافی قدرِ زائد اس وقت ہوا ہو جائے گی جیسے ہی پیداوار کا نیا طریقہ عام ہو جاتا ہے اور نتیجتاً ارزاں شدہ چیز کی انفرادی قدر اور اس کی سماجی قدر میں آنے والا فرق بھی ختم ہو جائے گا۔عرصۂ محن کے ذریعے قدر کی تعیین کا اصول _ایک ایسا اصول جو پیداوار کے نئے طریقے استعمال کرنے والے انفرادی سرمایہ دار کو اپنے تابع کر لیتا ہے اور اسے اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے سامان کو اس کی سماجی قدر سے کم پر فروخت کرے ، یہی قانون مقابلے کے ناگزیر قانون کے بطور کام کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں آنے والے حریفوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پیداوار کا نیا طریقہ اختیار کریں 5؂۔ چنانچہ قدرِ زائد کی عمومی شرح اس پورے عمل سے صرف اس وقت متاثر ہوتی ہے جب محن کی افزودگی میں اضافہ پیداوار کی اُن شاخوں پر لاگو آ جائے جو ذرائع بقا سے جُڑی ہوئی ہیں اور اُن اشیاء کو سستا کرتی ہیں جو ان ذرائع بقا کا حصہ ہیں ، اور اسی لیے قوتِ محن کی قدر کے عناصر ہیں۔

اشیاء کی قدر محن کی افزودگی سے معکوس تناسب میں ہوتی ہے۔ اس طرح سے قوتِ محن کی قدر بھی کیونکہ اس کا دارومدار اشیاء کی قدر پر ہے۔ اس کے برعکس، متعلقاتی قدرِ زائد اس افزودگی سے براہِ راست تناسب میں ہوتی ہے۔ یہ ا




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
متعلقاتی قدرِ زائد کا نظریہ
سرمایہ - موضوع کے دوسرے داخلے