محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 849
عنوان محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 231620
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش - کی دوسری شاخیں-

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

ہ افزودہ بناتے ہیں۔114؂ جدید صنعت کے عہد سے کافی عرصہ قبل اشتراکِ عمل اور آلاتِ محن کا کچھ افراد کے ہاتھوں میں ارتکاز نے بہت سارے ایسے ممالک میں پیداواری طبعوں میں اچانک اور طاقتور انقلابات کو جنم دیا، اور پھر اس کے نتیجے میں بودوباش کے حالات اور دیہی آبادی کے لیے ذرائع روز گار کو بھی جنم دیا، جہاں یہ طریقے زراعت میں استعمال کئے جاتے تھے۔ لیکن یہ آویزش پہلے پہل زمین کے چھوٹے اور بڑے مالکان کے درمیان رونما ہوتی ہے، پھر سرمائے اور اُجرتی مزدور کے درمیان؛ دوسری طرف جب مزدوروں کی جگہ آلاتِ محن، بھیڑیں، اور گھوڑے وغیرہ آ جائیں تو اس صورت میں قوت پہلی مثال کی رو سے صنعتی انقلاب کی کلید کی شکل میں براہِ راست مجتمع ہو جاتی ہے۔ پہلے تو مزدوروں کو زمین سے بے دخل کیا جاتا ہے، اور پھر بھیڑیں آ جاتی ہیں۔ ایک بڑی پیمانے پر زمین کی دُزدی ، جیسا کہ اس کا ارتکاب انگلستان میں کیا گیا، زراعت کو بڑے پیمانے پر جاری کرنے کا پہلا قدم ہے۔ 115؂پس زراعت کا یہ اُلٹ پھیر ابتدائی طور پر کافی حد تک سیاسی انقلاب کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔

محن کا آلہ جب مشین کی بُنتر میں آ جاتا ہے تو اُسی وقت مزدور کا حریف بن جاتا ہے۔ 116؂مشینری کے ذریعے سرمائے کا خود اپنے اندر پھیل جانا اُسی وقت سے محن کاروں کی اُس تعداد سے براہِ راست تناسب میں آ جاتا ہے جِن کی روزی کے ذرائع اس مشینری نے تباہ کئے ہوتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ پیداوار کا سارے کا سارا نظام اس حقیقت پر مبنی ہوتا ہے کہ محنت کش اپنی قوتِ محن کو شے کے بطور بیچتا ہے۔ محن کی تقسیمِ کار اس قوتِ محن کو ایک خاص اوزار کو استعمال کرنے کی مہارت میں بدلتے ہوئے تخصیص بخشتی ہے۔ پھر جونہی اس اوزار کا استعمال ایک مشین کا کام ہو جاتا ہے ، اُسی وقت سے محنت کش کی قوتِ محن کی قدرِ صرف کی طرح قدرِ مبادلہ بھی ختم ہو جاتی ہے؛ محنت کش ناقابلِ فروخت ہو جاتا ہے، جیسے قانونی چارہ جوئی کے تحت کاغذ کے روپے کو کرنسی [مطلب گردش] سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ مزدور طبقے کا وہ حصہ جسے مشینری بے کار کر دے، مطلب یہ کہ جو سرمائے کے اپنے آپ میں پھیلاؤ کے لئے فوری طور پر ضروری نہ رہے، یا تو قدیم دستکاروں کی مینوفیکچروں کی مشینری کے ساتھ عدمِ توازن کی چپقلش کی شکل میں فنا ہو کر رہ جاتا ہے، یا پھر صنعت کی آسان رسائی میں موجود شاخوں میں بہہ جاتا ہے، محن کی منڈی میں ہیجان بپا کر دیتا ہے، اور قوتِ محن کی قیمت کو اس کی قدر سے بھی گِرا دیتا ہے۔ محنت کشوں کی دلجوئی کے لئے اولاًتو اُنہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اُن کے مصائب فقط عارضی ہیں(‘‘ ایک عارضی زحمت)ثانیاً یہ کہ مشینری پیداوار کے ایک خاص نظام کی کُلیت پر محض بتدریج غلبہ چاہتی ہے، وہ اس لئے کہ اس کے تباہ کُن اثرات حد اور شدت کو کم تر کیا جا سکے۔ پہلی دلجوئی دوسری کے اثر کو ذائل کر دیتی ہے۔ جب مشینری کسی صنعت پر آہستہ آہستہ غلبہ حاصل کرتی ہے، تو یہ اُن کاریگرو ں کو سخت ترین تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے جو اس کے مقابل آتے ہیں۔ جہاں تبدیلی کا عمل تیز تر ہو وہاں یہ اثر زیادہ مکمل انداز میں ظاہر ہوتا ہے اور بہت زیادہ لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ تاریخ میں اس سے زیادہ دہشت ناک المیہ کبھی نظر نہیں آیا جتنا انگلستانی ہینڈ لوم کے جولاہوں کی درجہ بدرجہ اموات میں پایا جاتا ہے، اموات کا یہ دورانیہ ایسا تھا جو کئی دہائیوں کو محیط ہے، اور آخر کار جس کا خاتمہ 1838 میں ہوا۔ اُن میں سے بہت سارے ایسے تھے جو فاقوں مر گئے، اور بہت سوں کی اُن کے کنبوں سمیت 2 -BD ڈالر روزانہ کے حساب سے طویل عرصہ تک کفالت ہوتی رہی۔ 117؂ دوسری طرف انگلستانی کاٹن کی مشینری نے ہندوستان میں مضر اثرات مرتب کئے۔ 1834-35 میں گورنر جنرل نے بیان صادر کیا:‘‘ ان مصائب کی مثال تجارت کی تاریخ میں شاز ہی ملتی ہے۔ روئی کاتنے والوں کی ہڈیاں ہندوستان کے میدانوں کو بنجر کر رہی ہیں۔ شک نہیں کہ اُنہیں اس‘‘ عارضی دُنیا سے نجات دلانے کے لئے مشینری اُن کے لئے‘‘ ایک عارضی زحمت سے زیادہ کچھ ثابت نہ ہوئی۔ باقی کے لئے اس کے عارضی اثرات حقیقتاً مستقل ہوتے ہیں ، اگرچہ مشینری پیداوار کے نئے میدانوں پر غلبہ پاتی رہتی ہے۔ پس آزادی اور اجنبیت کا جوخاصہ سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار مجموعی طور پر آلاتِ محن اور مصنوعہ کو مزدور کے خلاف تفویض کرتی ہے، وہ مشینری کے ذریعے ایک وسیع مخاصمت میں ارتقا پا جاتا ہے۔ 118؂چنانچہ یہ مشینری کی آمد ہی سے ممکن ہے کہ محنت کش پہلی مرتبہ آلاتِ محن کے خلاف وحشیانہ انداز میں برسرِ پیکار ہو جاتا ہے۔

آلاتِ محن مزدور کو شکست سے دوچار کر دیتے ہیں۔ دونوں کی یہ بلاواسطہ آویزش اُس وقت بہت زیادہ شدت اختیار کر جاتی ہے جب بھی نئی متعارف ہونے والی مشینری اُن دستکاریوں یا مینوفیکچریوں کے ساتھ مقابلے میں آ جائے جو اگلے وقتوں ہی سے چلی آ رہی ہے۔ لیکن جدید صنعت میں بھی مشینری کی مسلسل ترقی اور خود کار نظام کا ارتقا مشابہہ اثرات کا حامل ہوتا ہے۔‘‘ ترقی یافتہ مشینری کا مقصد جسمانی محن کو کم کرنا، ایک عمل کی انجام دہی کے لئے یاایک مینوفیکچر میں کسی ربط کی تکمیل کے لئے انسان کے بجائے لوہے کے اوزار بہم پہنچانا ہے۔ 119؂ ‘‘ قوت کا مشینری کے مطابق ڈھل جانا جو آج تک ہاتھ سے چلائی جاتی تھی اب روز مرہ کی بات ہے...، مشینری میں آنے والی معمولی نوعیت کی ترقی جس کا مقصد قوت کی کفایت شعاری، بہتر کام کی تحصیل، ایک ہی وقت میں زیادہ کام کی تحصیل، یا ایک بچے، عورت یا آدمی کی جگہ کو بھر دینا تواتر سے ہو رہا ہے، اگر ایسے امور عام طور پر بظاہر کسی بڑی اہمیت کے حامل نہیں ہوتے لیکن اِن کے نتائج مفید برآمد ہوتے ہیں۔ 120؂ ‘‘ جب بھی ایک عمل کو ہاتھ کی مہارت اور استقلال کی ضرورت ہو ، تو اسے جتنی جلدی ممکن ہو مکار مزدور کے ہاتھ سے لے لیا جاتا ہے، جو کئی قسم کی بے قاعدگیوں کا عادی ہوتا ہے،اور اسے ایک خاص میکانزم کے تحت کر دیا جاتا ہے اور یہ اس حد تک خود کار ہوتا ہے کہ ایک بچہ بھی اسے چلانے کا اہل ہوتا ہے۔ 121؂ ‘‘ خود کار پلان پر ہنر یافتہ محن سے تیزی سے اجتناب برتا جاتا ہے۔122؂‘‘ مشینری میں آنے والی بہتری کا اثر، محض جوان محن کی پہلے جتنی تعداد کو اس مقصد کے لئے کام پر لگانے کی لازمیت سے احتراز میں نہیں کہ ایک خاص نتیجہ پیدا کیا جا سکے، بلکہ انسانی محن کی ایک انفرادیت کو کسی دوسری میں تبدیل کر دینے میں، مطلب یہ کہ کم مہارت یافتہ کو زیادہ مہارت یافتہ سے، نوجوان کو جوان سے، عورت کو مرد سے بدل دینے سے اُجرت کی شرح بالکل نئے انداز میں متاثر ہوتی ہے۔123؂

‘‘ عام کھڈی کی جگہ پر خود کار کھڈی کو لے آنے کا نتیجہ یہ رہتا ہے کہ کاتنے والے جوانوں کے ایک بڑے حصے




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش ان داشلائوں میں استعمال ھے
محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے