محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 849
عنوان محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 231623
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش - کی دوسری شاخیں-

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

نا ممکن ہو گا 128؂جن کا مقصد صرف اتنا ہی تھا کہ سرمایہ دار کو ایسے ہتھیار بہم پہنچائے جائیں جو مزدورطبقے کی تحریکوں کے خلاف کام آ سکیں۔ اہمیت کے لحاظ سے ان ایجادات میں خود کار کھڈی سرِ فہرست ہے، کیونکہ یہ خود کار نظام میں ہمارے لئے نئے ادوار کا آغاز کرتی ہے۔129؂

سٹیم ہیمر کا موجد Nasmyth ٹریڈز یونین کمیشن کے سامنے اُس ترقی کی بابت مندرجہ ذیل بیان رقم کراتا ہے جس کا وہ خود سزاوار ہے اور جو 1851 میں رونما ہونے والی انجینئروں کی طویل اور وسیع تر ہڑتالوں کے نتیجے میں متعارف کرائی گئی۔‘‘ ہماری جدید میکانکی ترقی کا خصوصی وصف اوزاروں کوخود کار انداز میں چلانے والی مشینری کا استعمال ہے۔ ہر میکانکی محنت کش کو اب جو کچھ کرنا ہے، اور جو کچھ ہر لڑکا کر سکتا ہے، یہ ہے کہ وہ خود کام نہ کرے بلکہ مشین کے خوب صورت کام کی دیکھ بھال کرے۔ ان نئی میکانکی گروہ بندیوں کا بھلا ہو، میں نے بڑھتے ہوئے افراد کی تعداد کو 1500 سے کم کرتے ہوئے750 کر دیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ رہا کہ میرے نفعوں میں معقول حد تک کا اضافہ ہوا۔

کپڑے پر چھپائی کرنے والی ایک مشین کے بارے میں یورے کہتا ہے:‘‘ آخر کار سرمایہ دار اس ناقابلِ برداشت بندھن سے سائنس کے ذرائع کی بدولت چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے ۔ [جسے اُن کی نظروں میں مزدوروں کے ساتھ اُن کے معاہدوں کی بھاری بھرکم شقیں قرار دیا جا سکتا ہے]‘‘ اور اپنی بنیادی حکمرانی کے حق کو تیزی سے بحال کرنے کے قابل ہو گئے ، اور حکمرانی کا یہ حق ادنیٰ ممبران پر تھا۔ تانے پیٹے کو شکل دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتا ہے:‘‘ یہ ایک ایسی ایجاد ہے جس کا مقصد صناع کاروں کے طبقات میں درجہ بندی قائم کرنا ہے...۔ یہ ایجاد پہلے ہی سے قائم کردہ اِس نظریے کی سند فراہم کرتی ہے کہ جب سرمایہ سائنس کو اپنے استعمال و استفادے کی فہرست میں شامل کر لیتا ہے تو مزدور کے باغی ہاتھ کو ہمیشہ فرمانبرداری کی تعلیم دی جائے گی۔130؂اگرچہ یورے کی کتاب 30سال قبل اس وقت منظرِ عام پر آئی جب نظامِ کارخانہ نے کم تر درجے کی ترقی پائی تھی، اس کے باوجود یہ کتاب فیکٹری کی سپرٹ کونہ صرف اپنی بے لاگ تنقید کے ذریعے بہت مکمل انداز میں پیش کرتی ہے، بلکہ یہ انتہائی بے ساختگی کے ساتھ سرمایہ دار کے دماغ میں پائے جانے والے بیہودہ تضاد کو بھی دوٹوک انداز میں بیان کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر محولہ بالا نظریے کو بیان کرنے کے بعد، کہ سرمایہ سائنس کو اپنی دسترس میں لاتے ہوئے مزدور کی بغاوت کو اپنی فرمانبرداری میں کر لیتا ہے، وہ خفا ہو جاتا ہے، کیونکہ‘‘ اس(جسمانی میکانکی سائنس )کو اس بات پر موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے کہ اس نے غریبوں کے لئے مشکل پیدا کرنے والے آلے کی حیثیت سے اپنے آپ کو امیر سرمایہ دار کے حوالے کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک لمبا خطبہ ارسال کرنے کے بعد کہ مشینری کی یہ تیز ترین ترقی مزدور طبقے کے لئے کس قدر سود مند ہے ، وہ اُنہیں تنبیہ کرتا ہے کہ اپنی ہٹ دھرمی اور ہڑتالوں کی وجہ سے وہ اس ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔‘‘ اس نوعیت کی پُر تشدد نفرینوہ کہتا ہے،‘‘ایسے تنگ نظر آدمی کی غمازی کرتی ہے جو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کی قبیح حرکت کرتا ہے کچھ صفحات پہلے اُس کا بیان اس سے برعکس ہے۔‘‘ کیا یہ اُن پُر تشدد تصادموں اور مخاصمتوں کے باعث نہیں جس کی وجہ فیکٹری کے مزدوروں کے غلط نظریات بنتے ہیں، اس کے باوجود نظامِ کارخانہ ہر لحاظ سے زیادہ رفتار کے ساتھ اور زیادہ منافع بخش انداز میں ترقی کرتا رہے گا۔ پھر وہ مزید کہتا ہے:‘‘ خوش قسمتی سے برطانیہ عظمیٰ کے روئی پیدا کرنے والے اضلاع میں سماج کی صورتِ حال کے لئے مشینری کی ترقی درجہ بدرجہ آ رہی ہے۔( مشینری میں آنے والی بہتری)‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جوانوں کے ایک حصے کو کام سے ہٹاتے ہوئے، اور نتیجتاً اُن کی تعداد کو اُن کے محن کی طلب کی نسبت سے بہت زیادہ متجاوز کرتے ہوئے اُن کی کمائی کی شرح میں کمی کی ہے۔ یہ یقینا بچوں کے محن کی طلب کو وسعت دیتی ہے، اور اُن کی اُجرت کی شرح میں اضافہ کرتی ہے۔ دوسری طرف درد کا یہی مداوا کرنے والا اِس بنیاد پر بچوں کی کم اُجرت کا دفاع کرتا ہے کہ اس کی بدولت والدین اپنے بچوں کو بہت کم عمر میں فیکٹری میں بھیجنے سے بچ جاتے ہیں۔ یہ ساری کی ساری کتاب ایک لا محدود طوالت کی حامل دیہاڑی کی مدلل حمایت کرتی ہے؛ یہ کہ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ 13 سال کے بچے روزانہ 12گھنٹے تک فیکٹری میں کام پر جُتے رہنے سے بچائے، قرونِ وسطیٰ کے اسفل ترین دور کی اُس کی لبرل ذہنیت کی یاد دلاتا ہے۔ اور یہ بات اُسے اِس امر سے باز نہیں رکھتی کہ وہ فیکٹری میں کام کرنے والوں کو یہ کہے کہ وہ مشیتِ ایزدی کا شکر ادا کریں جس نے مشینری کی صورت میں اُنہیں اُن کے‘‘ غیر فانی مفادات کے بارے بچار کی آزادی بخشی ہے۔131؂






ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش ان داشلائوں میں استعمال ھے
محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے