محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 821
عنوان محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 221030
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس - کی دوسری شاخیں-

محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ


محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس

Manufacturer and Boyard

محنِ زائد سرمائے کی ایجاد نہیں۔جہاں کہیں بھی ذرائع پیداوار پر معاشرے کے ایک طبقے کی اجارہ داری ہو ، وہاں آزاد اور غیر آزاد ہر دو قسم کے مزدور کو اپنی بحالی کے لیے ضروری عرصۂ محن میں ایک مخصوص حصہ زائد عرصۂ محن کا اضافہ بھی کرنا ہوتا ہے تاکہ ذرائع پیداوار کے مالکان کے لیے ذرائع بقا پیدا کئے جا سکیں7؂، ان مالکان کا تعلق چاہے ایتھنز کے امراء سے ہو،یاقدیم روم کے دولت مندیا( Wallachian Boyard)، جدید رؤسا ، یا سرمایہ دار سے ہو۔8؂ تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ سماج کی کسی بھی ایسی معاشی بنتر میں جہاں مصنوعہ کی قدرِ مبادلہ کے بجائے قدرِ صرف حاوی ہو وہاں محنِ زائد حاجات کی مخصوص تعداد کی رو سے محدود ہو گا ،یہ حاجات زیادہ بھی ہو سکتی ہیں اور کم بھی ۔ مزید یہ کہ اس میں پیداوا ر کی اپنی نوعیت محنِ زائد کے لا محدود لالچ کا سبب نہیں بنتی۔پس ازمنۂ قدیم میں کام کی کثرت صرف اس وقت خطرناک صورتِ حال اختیار کرتی ہے جب مقصد قدرِ مبادلہ کواس کی مخصوص آزاد بُنتر یعنی روپے میں حاصل کرنا ہو،یعنی سونے اور چاندی کی پیداوار کی صورت میں۔ یہاں موت پر منتج ہونے والا لازمی کام کثرتِ محن کی تسلیم شدہ شکل تھی۔ محض Diodorus Siculusہی کا مطالعہ کریں۔9؂ تاہم ازمنۂ قدیم میں یہ مستثنیات کے زمرے میں آتی ہے۔ایسے لوگ جن کی پیداوار اب بھی غلام محن اور بیگار سے چلنے والے محن جیسی نچلی سطح تک محدود تھی، جونہی یہ کسی بین الاقوامی منڈی کے ہنگاموں میں الجھ جاتی ہے، جس میں سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار حاوی ہوتو برآمد کے مقصد کے تحت مصنوعات کی فروخت ہی ان کا بڑا مقصد بن جاتا ہے،ایسے میں مہذب دنیا کے کام کی کثرت کی دلخراشیاں غلامی اور نیم غلامی وغیرہ جیسے مظالم پر مستزاد بن جاتی ہیں۔ پس متحدہ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں کام کرنے والا نیگرو اپنے اندر اس وقت تک پدر سری خاصے کو موجود رکھتا جب تک پیداوار فوری مقامی استعمال کے لیے مختص رہی۔ لیکن جوں جوں روئی کی برآمد ان ریاستوں کا اہم مقصد بنتا گیانیگرو کے محن کا کثرتِ استعمال بھی بڑھتا گیا۔ اور بعض وقت تو اس کی پوری زندگی کو محض سات سال کے محن کی مدت میں ختم کر دینا اس عیار و مکار نظام کا خاصہ بن گیا۔اب سوال یہ نہ تھا کہ اس سے مفید پیداوار کی محض ایک خاص مقدار ہی حاصل کی جائے۔ اب تو سوال خود محنِ زائد کی پیداوار کا تھا۔ یہی حال بیگار کرنے والوں کا تھا ، مثال کے طور دریائے ڈینوب کے قریبی صوبہ جات میں (اب جو رومانیہ کے نام سے موسوم ہے)۔

ڈینوبی صوبوں میں پائے جانے والے محنِ زائد کے لالچ کا موازنہ اگر انگلستان کے کارخانوں میں موجود اس قسم کے لالچ سے کیا جائے تو دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں، کیونکہ بیگار میں کام کرنے والوں کا محنِ زائد آزاد اور واضح شکل رکھتا ہے۔

فرض کریں کہ دیہاڑی 6گھنٹے کے محنِ لازم اور 6گھنٹے کے محنِ زائد پر مشتمل ہے ۔ اس صورت میں آزاد مزدور ہر ہفتے 6×6یعنی 36گھنٹے کا محن سرمایہ دار کو دے رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اُس نے ہفتے میں 3دن اپنے لیے کام کیا اور 3دن سرمایہ دار کے لیے مفت میں۔ لیکن بظاہر یہ بات واضح دکھائی نہیں دیتی۔محنِ زائد اور محنِ لازم ایک دوسرے میں خلط ملط ہو جاتے ہیں۔چنانچہ میں اس تعلق کو ان الفاظ میں بیان کر سکتا ہوں: مزدور ہر منٹ کے 30سیکنڈ اپنے لیے کام کرتا ہے اور 30سیکنڈ سرمایہ دار کے لیے، وغیرہ وغیرہ۔ بیگار کے سلسلے میں بات اس سے برعکس ہے۔ولیشیا کا مزارع اپنی بقا کے لیے جس ضروری محن کی انجام دہی کرتاوہ اُس محنِ زائد سے واضح طور پر ممیز ہے جس کی انجام دہی وہ اپنے آقا کے لیے کرتا۔ پہلے قسم کا کام وہ اپنے کھیتوں میں کرتا اور دوسرے قسم کا کام آقا کے کھیتوں میں۔چنانچہ عرصۂ محن کے دونوں حصے آزادانہ طور پر مگر ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ بیگار کے معاملے میں محنِ لازم کو واضح طور پر محنِ زائد سے ممیز کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ بات محنِ لازم اور محنِ زائد کے مقداری تعلق پر کسی طرح کا اثر نہیں ڈالتی۔ اور ایک ہفتے میں تین دن کا محنِ زائد تین دن ہی رہتا ہے اور اس میں خود مزارع کے لیے کسی قسم کا مساوی القدر نہیں پیدا ہوتا؛ اب چاہے اس کو بیگار کا محن کہہ لیں یا اُجرت کا۔ سرمایہ دار میں محنِ زائد کی ہوس دیہاڑی کو لمبے سے لمبا کھینچنے کی کوشش میں ظاہر ہوتی ہے اور جاگیردار میں یہی ہوس بیگار کے دنوں کی براہِ راست ڈکیتی میں۔10؂

ڈینوب کے صوبوں میں بیگار کو جنس کی شکل میں لگان اور غلامی کے دیگرنذرانوں کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا۔تاہم یہ چیزیں حکمران طبقے کے لیے انتہائی اہم نذرانوں کی شکل اختیار کر گئیں۔ جہاں پر حالات ایسی صورتِ حال اختیار کر جائیں وہاں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ بیگار نیم غلامی کی سطح سے بلند ہوئی ہو جبکہ نیم غلامی نے بیگار سے بہت زیادہ تیزی سے جنم لیا۔11؂ رومانیہ کے صوبوں میں کچھ ایسی ہی صورتِ حال تھی۔زمینی اجتماعیت ان کے ابتدائی طبعِ پیداوار کی بنیاد تھی لیکن یہ Slavonicیا ہندوستانی طرز پر نہ تھی۔ زمین کے ایک حصے کو آزاد ملکیت کے بطور برادری کے ارکان آزادانہ طور پر جدا جدا زیرِ کاشت لاتے تھے؛ اور دوسرے حصے _عوام کے کھیتوں_کو وہ سب مشترکہ طور پر زیرِ کاشت لاتے تھے۔ اس مشترکہ محن کی پیداوار کا ایک حصہ جزوی طور پر فصل کی خرابی اور دوسرا ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے محفوظ رکھا جاتا ، اور کچھ حصہ جنگ ، مذہب اور دوسرے عمومی اخراجات کے لیے استعمال ہوتا۔ کچھ عرصے کے بعد فوج اور مذہبی اربابِ عظام نے [کاشت کاری کی] عام زمین کے ساتھ ساتھ اس پر استعمال ہونے والے محن کو بھی غصب کر لیا۔ آزاد کسانوں کے محن کو اُن کی مشترکہ زمین پر اس[زمین] کے چوروں کے لیے بیگار میں بدل دیا گیا۔ جلد ہی اس بیگار نے غلامی کے تعلق کی شکل اختیار کر لی جوعملاً تو تھا لیکن اسے قانونی درجہ میسر نہ تھا؛ تا آنکہ دُنیا کے نجات دہندہ روس نے غلامی کی تنسیخ کے بہانے اس کو قانونی شکل دے دی۔ بیگار کے جس قانون کااعلان روسی جرنیل Kisseleffنے 1831کو کیا وہ یقینی طور پر جاگیر داروں نے بنوایا تھا۔ اسی طرح سے روس نے ایک ہی نشانے میں ڈینوب کے صوبوں کے رؤ سا کو بھی فتح کر لیا اور یورپ بھر کے لبرل جہلاء کی تعریف و توصیف بھی حاصل کر لی۔

بیگار کے قانون Reglement organique کی رو سے ولیشیا کا ہر کسان نام نہاد زمیندار کواجناس کے علاوہ جو ادائیگیاں کر




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس ان داشلائوں میں استعمال ھے
محنِ زائد کا لالچ - کارخانہ دار اور رئیس
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے