مشینری کی ترقی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 842
عنوان مشینری کی ترقی
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 235775
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کی ترقی کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کی ترقی - کی دوسری شاخیں-

مشینری کی ترقی


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ


CAPITALIST PRODUCTION

حصہ چہارم۔( جاری)

PART IV._( continued)

باب :15مشینری اور جدید صنعت

CHAPTER XV

MACHINERY AND MODERN INDUSTRY

فصل اول: مشینری کی ترقی

SECTION 1._ THE DEVELOPMENT OF MACHINERY



کتابPrinciples of Political Economy میں جان سٹیورٹ مِل کہتا ہے:‘‘ یہ بات قابلِ استفسار ہے کہ آیا آج تک کی تمام میکانکی ایجادات نے کسی انسان کی سخت کوشی میں کوئی کمی کی ہے۔1؂ تاہم یہ کسی حوالے سے بھی مشینری کے سرمایہ دارانہ استعمال کا مقصد نہیں بنتا۔محنت کی افزودگی میں ہر قسم کے اضافے کی طرح مشینری کا مقصد بھی اشیاء کو سستا کرنا ہوتا ہے، اوردیہاڑی کے اُس حصے کو کم کرتے ہوئے جس میں مزدور اپنے لئے کام کرتا ہے ، دیہاڑی کے اس دوسرے حصے کو کسی قسم کا مساوی القدر پیدا کئے بغیر، وسعت دینا جو وہ سرمایہ دار کو دیتا ہے۔ قصہ مختصر، یہ قدرِ زائد پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

مینوفیکچر میں ، طبعِ پیداوار کی ترقی کا آغاز قوتِ محن سے ہوتا ہے، اور جدید صنعت میں یہ آلاتِ محن سے ہوتا ہے۔چنانچہ ہماری اولین تفتیش اس بات پر ہو گی کہ آلاتِ محن اوزاروں سے مشینوں میں کس طرح بدلتے ہیں، یا ایک مشین اور دستکاری کے آلے میں کیا فرق ہوتا ہے؟ یہاں ہمیں صرف اہم اور عمومی خواص ہی سے سروکار ہو گا؛ کیونکہ سماج کے تاریخی ادوار حجریہ ادوار کی حد بندیوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھیٹھ نوعیت کی حدود ِ فاصل سے ممیز نہیں ہوتے ۔

ریاضی دان اور ماہرینِ میکانیات، اور کچھ انگریز معیشت دان بھی اوزار کو سادہ مشین، اور مشین کو ایک پیچیدہ اوزار قرار دیتے ہیں۔ اُنہیں ان میں کوئی بنیادی فرق نظر نہیں آتا، وہ تو سادہ میکانکی قوتوں کو بھی مشین کا نام دے دیتے ہیں، جیسے لیور، سطح مائل، پیچ screw، اور فانہ وغیرہ2؂۔حقیقت یہ ہے کہ ہر مشین ان سادہ قوتوں کا مجموعہ ہوتی ہے ، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔معاشیاتی نقطۂ نظر سے یہ وضاحت کسی اہمیت کی حامل نہیں، کیونکہ اس میں تاریخی عنصر شامل نہیں۔ اوزار اور مشین کے فرق کی دوسری توضیح یہ ہے کہ اوزار کے سلسلے میں محرک قوت انسان ہے ، جبکہ مشین کی محرک قوت انسان کی جگہ کچھ اور ہے ، جیسے کوئی جانور، پانی، ہواوغیرہ۔3؂ اس [مفروضے] کے مطابق جس ہل کو بیل کھینچتے ہیں _ جس ترکیب کو بالکل مختلف ادوار میں مشترک طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے_ایک مشین ہو گی، جبکہ Claussenکی مدور لوم، جسے صرف ایک ہی مزدور چلاتا ہے، ایک منٹ میں 96,000پُتلیاں کاتتی ہے، محض ایک اوزار ہو گا۔نہیں، بلکہ یہی لوم ، جب اسے ہاتھ سے چلایا جائے تو ایک اوزار ہے، اور اگر اسے بھاپ سے چلایا جائے تو یہ مشین ہو گی۔ اور چونکہ حیوانی قوت کا استعمال انسان کی ابتدائی ایجادات میں سے ایک ہے ، اس لئے ممکن ہے کہ مشینری سے حاصل ہونے والی پیداوار دستکاریوں کی پیداوار سے پہلے آئی ہو۔ جب 1735میں جان واٹ نے اپنی کتائی والی مشین کو متعارف کرایا ، اور 18ہویں صدی کے صنعتی انقلاب کی بنا ڈالی تو اس نے اِس بارے میں کچھ نہ کہا کہ اسے انسان کی جگہ ایک گدھا چلا رہا تھا، اور اس کے باوجود یہ اعزاز گدھے کو ہی گیا۔اُس نے اس کو ایسی مشین قرار دیا جو‘‘ اُنگلیوں کے بغیر کاتتی ہے۔4؂

مکمل طور پر ارتقا یافتہ مشینری کی ہر قسم تین بنیادی طور پر مختلف حصوں پر مشتمل ہوتی ہے: موٹر کا میکانزم، ترسیلی میکانزم، اور آخر میں اوزار یا کام کرنے والی مشین۔ موٹر میکانزم وہ ہے جو پوری[مشین] کو حرکت دیتا ہے۔ یہ یا تو اس کی اپنی محرک قوت کو پیدا کرتا ہے، جیسے بھاپ کا انجن، کوئلے کا انجن، برقی مقناطیسی مشین وغیرہ؛ یا یہ اس محرک (impulse )کو پہلے سے موجود کسی قدرتی قوت سے حاصل کرتا ہے: جیسے پانی کے کسی ہیڈ سے پن چکی، یا جیسے آندھی سے پون چکی وغیرہ۔ ترسیلی میکانزم میں ساکن پُلیاں، shafting، آرے، چرخیاں، پھندے، رسّے، منڈلیاں، ریتیاں، اور مختلف انواع و اقسام کے دیگر پُرزہ جات وغیرہ۔ یہ [ترسیلی میکانزم] حرکت کو منظم کرتا ہے، جہاں ضروری ہو اس کی ہیئت بدلتا ہے، مثال کے طور پر خطی حرکت کو گردشی حرکت میں بدلتا ہے، اور اسے تقسیم کرتے ہوئے چلتی ہوئی مشینوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس پورے عمل کے ان پہلے دو حصوں کا واحد مقصد کام کی مشینوں کو متحرک کرنا ہوتا ہے، اس حرکت کی بنا پر ہی محن کے معمول پر کام ہوتا ہے اور مرضی کے مطابق اس میں ترقی لائی جاتی ہے۔ اوزار یا کام کرنے والی مشین مشینری کا وہ حصہ ہے جس سے انگلستان کے اٹھارہویں صدی کے صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا۔ اور آج تک یہ ایک ایسے نقطۂ آغاز کا کام دیتا آیا ہے ، جب کبھی کوئی دستکاری یا مینوفیکچرکو صنعت میں بدل دیا جاتا ہے تو اِسے مشینری سے چلایا جاتا ہے۔

خاص ورکنگ مشین کے بغور مطالعے سے ہمیں اس میں عمومی اصول کے بطور، اس بات کا پتا چلتا ہے __جو اکثر بہت بدلی ہوئی اشکال میں ہی ہوتا ہے__کہ وہ آلات یا اوزار جسے کوئی دستکار یا مینوفیکچر کرنے والا مزدور استعمال کرتا تھا ،اب اِس تبدیلی کے ساتھ وہ انسانی استعمال کے آلات ہونے کے بجائے ایک میکانزم کے آلات یا میکانکی آلات بن جاتے ہیں۔ یا تو تمام کی تمام مشین دستکاری کے کسی پرانے آلے کی کم وبیش میکانکی ترقی ہوتی ہے ، مثال کے طور پر جس طرح پاور لوم ہے، 5؂ یا پھر مشین کے فریم میں جوڑے جانے والے متحرک حصے ، پُرانے جانے پہچانے پُرزوں پر مشتمل ہیں، جیسے ایک ہتھ کھڈی میں تکلا، جرابیں بنانے والی مشین میں سوئی،آرا مشین کے آرے، اور کٹائی والی مشین کے چاقو۔ اِن آلات اور مشین کے مخصوص ڈھانچے میں پایا جانے والا فرق اِن کی بنیادوں ہی میں موجود چلا آ رہا ہے؛ کیونکہ وہ کافی حد تک دستکاری یا مینوفیکچر کے ذریعے تیار ہوتے چلے آ رہے ہیں، اور اِنہیں بعد ازاں مشین کے ڈھانچے میں جوڑ دیا جاتا ہے جو مشینری کی پیداوار ہے۔ 6؂خاص مشین بذاتِ خود اِسی وجہ سے ایک ایسا میکانزم ہے جو حرکت میں آنے کے بعد اپنے اوزاروں کے ساتھ وہی افعال سرانجام دیتا ہے جو اس سے پہلے کاریگر اسی قسم کے اوزاروں سے سرانجام دیتا تھا۔ چنانچہ اس صورت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ محرک قوت کا منبع انسان ہو یا کوئی اور مشین۔ جس لمحے سے اوزار کو انسان سے لیتے ہوئے کسی میکانزم کا حصہ بنا دیا جاتا ہے اسی لمحے سے مشین ایک آلے کی جگہ لے لیتی ہے۔ یہ فرق بہت نمایاں لگتا ہے ، حتیٰ کہ اُن معاملات میں بھی جہاں خود انسان ہی محرک قوت کا کام سرانجام دے رہا ہو۔ آلات کی ایسی تعداد جسے وہ خود بیک وقت استعمال کر سکتا ہے، اُس کے اپنے فطری آلاتِ پیداوار _مطلب یہ کہ اس کے جسمانی اعضاء _ سے محدود ہو جاتے ہیں ۔جرمنی میں پہلے تو اُنہوں نے یہ کوشش کی کہ ایک کاتنے والا دو چرخوں پر کام کرے، مطلب یہ کہ وہ بیک وقت دونوں ہاتھوں اور




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

مشینری کی ترقی ان داشلائوں میں استعمال ھے
محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے