مشینری کی ترقی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 842
عنوان مشینری کی ترقی
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 235801
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کی ترقی کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کی ترقی - کی دوسری شاخیں-

مشینری کی ترقی


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

دونوں پیروں کو استعمال میں لا سکے۔ یہ کام بڑا مشکل تھا۔ بعد ازاں دو تکلوں والا چرخہ ایجاد ہوا، لیکن یہ صرف اس شخص ہی کو کاتنے میں تاک کرتا تھا جو بیک وقت دو دھاگوں کو کات سکتا تھا، یہ اتنا ہی کم یاب تھا جتنا دوسروں والا آدمی۔ دوسری طرف، جینی(Jenny)اپنی ابتدا ہی میں 12سے 18تکلوں تک کے ساتھ کتائی کرتی تھی، اور جرابیں بنانے والی لوم بیک وقت کئی ہزار سوئیوں کے ساتھ بُنتی تھی۔ آلات کی وہ تعداد جسے ایک مشین بیک وقت حرکت میں لا سکتی ہو بہت ابتدا ہی سے اُن نامیاتی حد بندیوں سے چھٹکارا پا گئی جو دستکار کے آلات میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔

بہت سارے دستی آلات میں ، انسان بحیثیت محرک قوت، اورانسان بحیثیت مشین آپریٹر کا فرق نہایت واضح ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر چرخے کے لیے پیر کی حیثیت محض محرک قوت کی ہے ؛ جبکہ ہاتھ تکلے پر کام کرتا ہے اور کھینچتے اور بل دیتے ہوئے کتائی کے اصل افعال سرانجام دیتا ہے۔دستکار کے آلات کا یہی وہ آخری حصہ ہے جس پر صنعتی انقلاب نے سب سے پہلے روک لگائی، اور کاریگر کے لئے آنکھوں سے مشین کا معائنہ کرتے ہوئے ہاتھوں سے اس کی خرابیوں کو دور کرنے کے نئے محن کے ساتھ ساتھ اُسے محر ک قوت کے محض میکانکی حصے تک محدود کر دیا۔ دوسری طرف ، آلات، جن کے مطابق انسان نے ہمیشہ نِری محرک قوت کا کام کیا ہے، جیسے مثال کے طور پر کسی مِل کی چولوں کو کستے ہوئے،7؂ پمپ کرتے ہوئے، دھونکنی کے بازو اوپر نیچے کرتے ہوئے، اوکھلی میں دھنکتے ہوئے وغیرہ ، ایسے آلات کو جلد ہی محرک قوتوں کے بطور جانوروں، پانی 8؂، اور ہواکی ضرورت ہوتی ہے۔ مینوفیکچرmanufactur کے عہد سے بہت عرصہ پہلے کہیں کہیں، اور کسی حد تک اس عہد کے دوران بھی یہ آلات مشینوں میں بدلتے گئے، لیکن اِنہوں نے طبعِ پیداوار میں کوئی انقلاب بپا نہ کیا۔ جدید صنعت کے عہد میں یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ آلات اپنے جسمانی اوزاروں کی صورت میں بھی مشینیں ہی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ پمپ جس کے ساتھ 1836-37میں اہلِ جرمن نے Harlem کی جھیل کو خالی کیا، عام پمپوں کے اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہی بنایا گیا تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ اُن کے پِسٹنوں کو افراد کے بجائے بھاپ کے دیو قامت انجن چلاتے تھے۔ انگلستان میں لوہاروں کی عام اور بڑی غیر موزوں دھونکنی کو،اس کے بازو بھاپ کے انجن کے ساتھ جوڑتے ہوئے، وقتی طور پرblowing-engineمیں بدل دیا گیا۔ خود بھاپ کے انجن نے __جیسا کہ یہ اپنی ایجاد کے وقت سترھویں صدی کے اواخر میں مینوفیکچر menufacturingکے عہد میں تھا، اور جیسا کہ یہ 1780تک 9؂رہا__ کسی قسم کے صنعتی انقلاب کو جنم نہ دیا۔ اس کے برعکس یہ تو مشینوں کی ایجاد تھی جس نے بھاپ کے انجنوں کی ساختوں میں انقلابات کو یقینی بنایا۔ جونہی انسان اپنے محن کے معمول پر کسی اوزار سے کام کرنے کے بجائے ایک آلاتی مشین کی محرک قوت بن کر رہ جاتا ہے ، تو یہ محض اتفاق ہی ہے کہ محرک قوت انسانی پٹھوں کا بہروپ دھار لیتی ہے؛ اور اسی طرح یہ ہوا، پانی، یا بھاپ کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ یقینا یہ صورتِ حال ساخت کی ایسی تبدیلی کو روک نہیں سکتی جو اُس میکانزم میں عظیم الشان ردوبدل پیدا کر دیتی ہے ، جسے پہلے پہل انسان کے چلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔آج کل تمام مشینیں جن کا [چیزیں]بنانے کا اپنا ایک طریقہ ہے، جیسے سلائی مشینیں، روٹی بنانے والی مشینیں وغیرہ،جب تک ان کی نوعیت کے لحاظ سے اُن کے ایک چھوٹے پیمانے پر استعمال کے امکانات خارج نہیں ہو جاتے، اُنہیں ایسے طریقے سے بنایا گیا ہے کہ انسان اور میکانکی قوت ہر دو اِنہیں چلا سکتے ہیں۔

مشین جو صنعتی انقلاب کا نقطۂ آغاز بنتی ہے ، اُس کاریگر کی جگہ لے لیتی ہے جو تنہا اوزار کو استعمال کرتا ہے، اورجس[مشین] کے میکانزم میں اس طرح کے کئی آلے کام کر رہے ہوتے ہیں، اور اسے ایک ہی محرک قوت کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس قوت کی شکل کیا ہے۔10؂یہاں ہمارے پاس مشین تو موجود ہے مگر مشینری کی پیداوار کے محض ابتدائی عنصر کی حیثیت سے۔

ایک مشین کی جسامت ، اور اس میں استعمال ہونے والے آلات کی تعداد میں اضافہ اپنی حرکت کے لئے ایک بھاری بھرکم میکانزم کا محتاج ہوتا ہے۔ اور اس میکانزم کو اس[مشین] کی مزاحمت پر قابو پانے کے لئے انسان کی بہ نسبت ایک زیادہ طاقتور متحرک قوت کی ضرورت ہوتی ہے، اس حقیقت سے درکنار کہ انسان ایک متوازن مسلسل حرکت پیدا کرنے کے لئے انتہائی غیر موزوں آلہ ہے۔لیکن اگر صرف یہ فرض کریں کہ وہ محض ایک موٹر [محرک قوت] کے بطور کام کر رہا ہے ، مطلب یہ کہ مشین نے اُس کے آلے کی جگہ حاصل کر لی ہے، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اُس کو فطری قوتوں کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جتنی بھی بڑی بڑی محرک قوتیں مینوفیکچر کے عہد سے چلی آرہی ہیں اُن میں سب سے بدترین گھوڑے کی طاقتہے، اس کی جزوی وجہ تو یہ ہے کہ گھوڑے کے پاس اپنا سر بھی ہوتا ہے، اور کچھ وجہ یہ ہے کہ وہ بڑا مہنگا ہوتا ہے، اور اُسے بہت محدود طور پر کارخانوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔11؂ اس کے باوجود جدید صنعت کے آغاز میں گھوڑے کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا تھا۔ اس بات کا جتنا ثبوت ہمیں اس عہد کے زراعت دانوں کی شکایات میں ملتا ہے اُتنا ہی‘‘ ہارس پاورکی اصطلاح اس کو تقویت دیتی ہے، جو میکانکی قوت کے اظہار کے لئے آج بھی مستعمل ہے۔

اسی طرح ہوا بھی غیر مستقل اورناقابلِ ضبط تھی، اور علاوہ ازیں جدید صنعت کی جنم بھومی انگلستان میں پانی کی قوت کا استعمال مینوفیکچر کے عہد ہی میں زور پکڑ چکا تھا۔ 17ہویں صدی میں غلہ پیسنے والی دو چکیوں کو ایک ہی پن پہیے سے چلانے کی کوششیں کی جا چکی تھیں۔ لیکن کَل پُرزوں کا بڑھا ہوا حُجم پانی کی قوت کے لئے بہت زیادہ تھا، جو اب ناکافی ہو چکی تھی، اور یہ اُن وجوہات میں سے ایک تھی جو رگڑ کے قوانین کی زیادہ ٹھیک تحقیقات کا باعث بنیں۔ اسی طرح مِلوں میں لیور کو اوپر نیچے کھینچنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی محرک قوت کے عدمِ تسلسل نے fly-wheelکے نظریے اور اطلاق کو جنم دیا، جس نے بعد ازاں جدید صنعت میں اہم کردار ادا کیا۔ 12؂ مینوفیکچر کے عہد کے دوران ، اس طریقے سے جدید میکانکی صنعت کے ابتدائی سائنسی اور تکنیکی عوامل نے نشوونما پائی۔ آرک رائٹ کی تھروسل سپننگ مِل کو سب سے پہلے پانی سے چلایا گیا۔ لیکن اس سارے کام کے لئے ، پانی کاایک غالب محرک قوت کے بطور استعمال مشکلات کے نرغے میں آ گیا۔ اس میں اپنی مرضی کے مطابق اضافہ نہ کیا جا سکتا تھا، اور سال کے کچھ موسموں میں یہ ناکام ہو جاتا تھا، سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ مقامی طور پر چلایا جاتا تھا۔13؂ دوہرا کام کرنے والے سٹیم انجن کی واٹ کی نام نہاد ایجادتک ایسی محرک قوت دستیاب نہ ہوسکی جو کوئلے اور پانی کو خرچ کرتے ہوئے اپنی قوت خود پیدا کرتی ہو، جس کی طاقت کُلی طور پر انسان کے قابو میں تھی، یہ متحرک تھا اور نقل و حرکت کا ذریعہ ت




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

مشینری کی ترقی ان داشلائوں میں استعمال ھے
محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے