مشینری کی ترقی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 842
عنوان مشینری کی ترقی
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 235800
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کی ترقی کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کی ترقی - کی دوسری شاخیں-

مشینری کی ترقی


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

ا، یہ شہری تھا ،ا ور پن چکی کی طرح دیہی نہیں تھا۔ اس سے پیداوار کو، پن چکیوں کی پیداوار کے برخلاف جو ملک میں اِدھر اُدھر بکھری ہوئی ہوتی ہے، قصبات میں مرتکز رکھنا ممکن ہوا14؂؛یہ اپنی تکنیکی نوعیت میں یونیورسل تھا، ا ور اگر متعلقاتی طور پر کہا جائے تو اس کی جائے تنصیب میں مقامی حالات کو کوئی دخل نہ تھا۔ واٹ کی ذہانت کی عظمت نے اپنے آپ کو اُس ایجاد کی تخصیص میں متعارف کرایا جسے وہ اپریل 1784 میں منظرِ عام پر لے کر آیا۔ اُس تخصیص میں اُس کا سٹیم انجن کسی خاص مقصد کی ایجاد کے تحت متعارف نہ کرایا گیا تھا بلکہ ایک ایسے عامل کے بطور جسے میکانکی صنعت میں عالم گیر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے اندر وہ ایسے مصرف متعارف کراتا ہے جو نصف صدی بعد تک بھی متعارف نہ ہوئے تھے،مثال کے طور پر بھاپ سے چلنے والا ہتھوڑا۔ تاہم جہاز رانی میں بھاپ کے انجن کے استعمال کے سلسلے میں وہ مذبذب تھا۔ اُس کے جانشینوں، بولٹن اور واٹ نے 1851 کی نمائش میں سمندری سٹیمروں کے لئے دیو قامت سٹیم انجن پیش کئے۔

جب اوزار انسان کے دستی آلے سے ایک مشین کے میکانکی ڈھانچے کے اوزاروں میں بدلے جا چکے، محرک میکانزم کو بھی ایک خود مختار شکل اختیار کر لی تھی، جو انسانی قوت کے نقائص سے مکمل طور پر آزاد تھی۔تب سے انفرادی مشین، جو یہاں ہمارے زیرِ بحث ہے، مشینری کی پیداوار کے زمرے میں محض ایک عنصربن کر رہ گئی۔ اب ایک محرک میکانزم بہت ساری مشینوں کو چلانے کا اہل ہو چکا تھا۔ محرک میکانزم بیک وقت چلائی جانے والی مشینوں کی تعداد میں اضافے کے لحاظ سے نشوونما پاتا ہے، اور ترسیلی میکانزم وسعت پاتا ہوا ڈھانچہ بن جاتا ہے۔

اب ہم ایک قسم کی مشینوں کے اشتراکِ عمل اور مشینری کے ایک پیچیدہ نظام کے مابین پائے جانے والے فرق کو ممیز کریں گے۔

پہلی صورت میں مصنوعہ کی تیاری پورے طور پر ایک ہی مشین سے کی جاتی ہے، جو مختلف قسم کے اُن تمام افعال کی انجام دہی کرتی ہے جنہیں قبل ازیں دستکار اپنے اوزاروں سے سرانجام دیتا تھا؛ مثال کے طور پر ، جولاہا اپنی لوم سے؛ یا پھر بہت سارے دستکار باری باری ، یا الگ الگ یا پھرمینوفیکچر کے نظام کے ممبران کی حیثیت سے۔ 15؂ مثلاً لفافوں کی مینوفیکچر میں، ایک آدمی فولڈر کی مدد سے کاغذ کو تہہ کرتا، دوسرا گوند لگاتا، اور تیسرا کاغذ کو چسپاں کر دیتا ہے جس کے اوپر کوئی شکل کندہ ہوتی ہے، چوتھا آدمی اس آلے سے شکل کندہ کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ، ان افعال میں سے ہر ایک کی انجام دہی کے لئے لفافے کو ایک سے دوسرے ہاتھ میں جانا پڑتا ہے۔اب لفافے بنانے والی ایک ہی مشین یہ تمام افعال بیک وقت ہی سرانجام دیتی ہے، اور ایک گھنٹے میں 3,000ہزار سے زیادہ لفافے بنا لیتی ہے۔ لندن میں منعقد ہونے والی 1862کی نمائش میں امریکہ کی ایک paper cornetsبنانے والی مشین بھی شامل تھی۔ یہ کاغذ کو کاٹتی، چسپاں کرتی، تہہ لگاتی اور ایک منٹ میں تین سو [cornets]تیار کرتی۔ یہاں پورے عمل کو _جسے مینوفیکچر کے انداز میں افعال کے ایک سلسلے کی صورت میں الگ الگ طور پر جاری رکھا جاتا تھا_ اب صرف ایک مشین کی مدد سے مکمل کیا جاتا ہے جو مختلف اوزاروں کے اشتراک سے کام کرتی ہے۔ اب چاہے ایسی مشین پیچیدہ دستی آلات کی محض تخلیقِ نو ہی ہو ، یا مختلف سادہ آلات کا مجموعہ ہو جن پر مینوفیکچر کرنے والا قدرت رکھتا ہے، دونوں صورتوں میں ، فیکٹری میں _مطلب یہ کہ اُس کارگاہ کے اندر جس میں مشینری ہی استعمال کی جاتی ہے_ ہمیں ایک بار پھر سادہ اشتراکِ عمل کا سامنا ہوتا ہے۔ اور اگر ہم ایک لمحے کے لئے مزدور کو ایک طرف کر دیں تو یہ اشتراکِ عمل پہلے پہل تو ہمارے سامنے بیک وقت چلتی ہوئی ایک نوع کی مشینوں کے اکٹھ کی حیثیت سے ظاہر ہو گا۔ پس ایک کپڑا بافی کی فیکٹری پاور لوموں کی ایک خاص تعداد کا مجموعہ ہو تی ہے، جو ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، اور سلائی والی فیکٹری میں بہت ساری سلائی مشینیں ایک ہی عمارت میں جمع ہوتی ہیں۔ لیکن اس پورے کے پورے نظام میں ایک تکنیکی یکسانگی پائی جاتی ہے۔ اور وہ اس حساب سے کہ ترسیل کے باہم مربوط میکانزم کے تحت تمام مشینیں بیک وقت اور برابر مقدار میں توانائی کے ایک ہی منبع سے ایک ترسیلی نظام کے وسیلے سے قوت حاصل کر رہی ہیں۔ اور یہ میکانزم کسی حد تک اُن سب میں مشترک بھی ہے، اگرچہ ہر مشین کو اس[میکانزم] کا محض ایک حصہ ہی منتقل ہوتا ہے۔ جیسے ایک خاص تعداد میں اوزاربعد ازاں ایک مشین کے اعضاء بن جاتے ہیں، اسی طرح ایک قسم کی مشینوں کی ایک خاص تعداد ایک محرک میکانزم کے اعضاء تشکیل دیتے ہیں۔

تاہم، مشینری کا ایک حقیقی نظام اُس وقت تک اِن خود کار مشینوں کی جگہ حاصل نہیں کر تاجب تک محن کا معمول مربوط جزوی افعال کے ایک ایسے سلسلے سے نہیں گزرتا جو مختلف قسم کی مشینوں کی ایک زنجیر کی شکل میں اس طرح سے جاری ہو کہ ہر مشین دوسری کی معاونت کر رہی ہو۔ یہاں ایک مرتبہ پھر ہمیں محن کی تقسیمِ کار کا وہ اشتراکِ عمل نظر آتا ہے جو مینوفیکچر کا خاصہ ہے؛ صرف اب ہی یہ جزیاتی مشینوں کا انضمام ہے۔ مختلف جزیاتی مزدوروں کے لئے مخصوص آلات ، جیسے اون کی کثیر دستی پیداوار میں دُرمٹ بردار، کنگھی بردار، کاتنے والا، وغیرہ، اب تخصیص شدہ مشینوں کے آلات میں بدل چکے ہیں، اور پورے نظام میں ہر مشین ایک خاص عضو تشکیل دیتی ہے جس کے ساتھ اس نظام میں ایک خاص فعل وابستہ ہے۔ صنعت کی اُن شاخوں میں جہاں مشینری کا نظام پہلی دفعہ متعارف ہو ، وہاں مینوفیکچر خود ہی ، عمومی طریقے سے، پیداواری عمل کی تقسیم اور نتیجتاً انضباط کے لئے فطری بنیادوں کو تراش لیتا ہے۔ تاہم اچانک ہی ایک بنیادی سا فرق خود بخود نمود پذیر ہو جاتا ہے۔16؂مینوفیکچر میں یہ کاریگر ہی ہیں جو اپنے جسمانی آلات سے یا اکیلے اکیلے یا پھر جتھے کی شکل میں ہر مخصوص جزیاتی عمل کوسر انجام دیتے ہیں۔ اگر ایک طرف کاریگر اِس عمل سے ہم آہنگ ہو جائے،تو دوسری طرف یہ عمل پہلے ہی سے کاریگر کے لئے موزوں بنایا جاتا ہے۔ محن کی تقسیم کا یہ موضوعی اصول مشینری سے حاصل ہونے والی پیداوار میں وجود نہیں رکھ سکتا۔ یہاں عمل کو اجتماعی طور پر اِس کی معروضیت میں، اپنے آپ ہی میں دیکھا جاتا ہے، کہنے کا مطلب یہ کہ اس سوال سے قطع نظر کہ اسے انسانی ہاتھ سے سرا نجام دیا جانا ہے ،یعنی اس کا تجزیہ اس کے اپنے اندر موجود تشکیلی مراحل کی رو سے کیا جاتا ہے؛ اور یہ مسئلہ مشینری ، اور کیمسٹری وغیرہ کی مدد سے حل کیا جاتا ہے کہ ہر جزیاتی عمل کو کس طرح سے انجام پذیر کیا جائے ، اور ا




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

مشینری کی ترقی ان داشلائوں میں استعمال ھے
محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے