مشینری کی ترقی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 842
عنوان مشینری کی ترقی
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 235803
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کی ترقی کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کی ترقی - کی دوسری شاخیں-

مشینری کی ترقی


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5-گذشتہ صفحہ

س کے بعد تمام جزیات کو یکجا کیسے کیا جائے۔17؂ لیکن یقینا اس مسئلے میں بھی تھیوری کو ایک وسیع تر پیمانے پر تجربے کے تحت ہی اکملیت دی جا سکتی ہے۔ ہر جزویاتی مشین [پیداوار کے ایک مربوط ] سلسلے میں اپنے سے اگلی مشین کے لیے خام مال فراہم کرتی ہے، اور چونکہ تمام مشینیں بیک وقت چل رہی ہیں اس لئے مصنوعہ اپنی تشکیل کے مختلف مدارج سے ہمیشہ ہی گزر رہی ہوتی ہے، اور یہ ایک درجے سے دوسرے میں جاتے ہوئے مسلسل طور پر تبدیلی کے عمل سے بھی دوچار ہو رہی ہوتی ہے۔ جیسے مینوفیکچر میں جزیاتی مزدوروں کا بلاواسطہ اشتراکِ عمل خاص جتھوں کے درمیان عددی تناسب قائم کرتا ہے، اسی طرح مشینری کے منظم نظام میں بھی ، جہاں ایک جزویاتی مشین مسلسل طور پر ایک اور مشین کے ساتھ وابستہ رہتی ہے، اُن کی تعداد، حُجم اور رفتار کے حساب سے اُن کے درمیان ایک طے شدہ ربط قائم ہو جاتا ہے۔ وہ اجتماعی مشین ، جو اب مختلف قسم کی تنہا مشینوں ،اور تنہا مشینوں کے جتھے کا ایک منضبط نظام ہے، اُس وقت زیادہ سے زیادہ اکملیت میں آ جاتی ہے جس وقت یہ عمل مجموعی طور پر زیادہ تسلسل میں آ جاتا ہے، مطلب یہ کہ خام مال کو اپنے پہلے درجے سے آخری درجے تک پہنچنے میں جتنے کم وقفے کرنے پڑیں؛ دوسرے لفظوں میں اس کی ایک سے دوسرے مرحلے میں ترسیل انسان کے ہاتھ سے نہیں بلکہ خود مشین سے ہوتی ہے۔ مینوفیکچر میں ہر جزیاتی عمل کا علیحدہ ہونا محن کی تقسیمِ کار کی نوعیت کی لاگو کردہ شرط ہوتی ہے، جب کہ مکمل طور پر ارتقا یافتہ فیکٹری میں ان افعال کا تسلسل لازم ہوتا ہے۔

مشینری کا ایک نظام_ چاہے یہ ایک طرح کی مشینوں کے صرف اشتراکِ عمل پر منحصر ہو ، جیسے بُنائی میں، یا مختلف مشینوں کے اکٹھ پر جیسے کتائی میں_ جب بھی خود کار محرک قوت کی مدد سے چلایا جاتا ہے، اپنے اندر ایک بڑا سا خود کار نظام قائم کر لیتا ہے۔ لیکن چاہے فیکٹری کو اس کے اپنے سٹیم انجن سے چلایا جائے، اس کے باوجودچند ایک انفرادی مشینیں ایسی بھی ہوسکتی ہیں جن میں کچھ امور کی انجام دہی کے لئے مزدور کی امداد درکار ہو(ایسی امداد ہتھ کھڈی کو چلانے کے لئے اس وقت ضروری تھی جب ابھی خود کار کھڈی ایجاد نہ ہوئی تھی ، اور یہ عمدہ کتائی والی مِلوں میں اب بھی ضروری ہے )؛ یا ، مشین کو اس قابل بنانے کے لئے کہ یہ کام کرنا شروع کر دے، ضروری ہے کہ اس کے کچھ حصوں کو کوئی مزدور ایک دستی آلے کی طرح چلائے؛ یہ صورت مشین سازوں کی کارگاہ میں اُس وقت پیش آتی تھی جب ابھی Slide restکو خود کار نہیں بنایا گیا تھا۔ جونہی کوئی مشین انسانی مدد کے بغیر وہ تمام مراحل طے کرنے میں کامیاب ہو جائے جو خام مال کو کھپانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں ، جبکہ اس کو صرف دیکھ بھال ہی درکار ہو تو ہمیں مشینری کا خود کار نظام حاصل ہو جائے گا، اور یہ ایک ایسا نظام ہے جو اپنی جزیات میں مسلسل ترقی کا رُجحان رکھتا ہے۔ایسی بہتری جیسا کہ کسی سلور کے ٹوٹ جانے پر مشین ڈرائنگ فریم کو روک دے ؛ یا پھر خود سے رکنے والا نظام جو چرخی سے پیٹے کا دھاگا ختم ہونے پر کھڈی کو اسی وقت روک دے ، جدید ایجادات ہیں۔ پیداوار کے تسلسل اور خود کار اصول کی انجام دہی ، دونوں کی وضاحت کے لئے ایک جدید کاغذ ساز مِل کی مثال لے سکتے ہیں۔ کاغذ کی صنعت میں عمومی طور پر ہم نہ صرف اُن طبعِ پیداواروں کا تفصیلی مطالعہ کر سکتے ہیں جن کی بنیاد مختلف ذرائع پیداوار پر استوار ہوتی ہے، بلکہ اُن طبعوں کے ساتھ پیداوار کے سماجی حالات کے ربط کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں: کیونکہ جرمنی کی قدیم کاغذ سازی میں ہمیں دستکاری کی پیداوارکے نمونے بھی مل جاتے ہیں؛ سترھویں صدی کے ہالینڈ میں اور اٹھارھویں صدی کے فرانس میں ہمیں ٹھیٹھ معنوں میں مینوفیکچرکے نمونے ملتے ہیں ؛ اور جدید انگلستان میں اسی کی خود کار تیاری کے نمونے ملتے ہیں ۔ان کے علاوہ ہندوستان اور چین میں اب بھی اسی صنعت کی دو قدیم اور ممیز ایشیائی شکلیں بھی موجود ہیں۔

مشینوں کا ایک ایسا منضبط نظام جس کو حرکت کی ترسیل ایک مرکزی خود کار نظام سے ترسیلی میکانزم کے ذریعے کی جائے مشینری کی پیداوار کی ترقی یافتہ ترین شکل ہے۔یہاں ہمارے پاس ایک تنہا مشین کی جگہ ایک ایسا میکانکی دیوہیکل ہے جس کا جسم تمام فیکٹریوں کی بھرائی کرتا ہے، اور جس کی انتہائی قوت پہلے پہل اُس کے بڑے بڑے بازوؤں کی سُست اور نپی تُلی حرکت میں چھپی ہوئی ہوتی ہے جو آخر کار اُس کے ان گنت متحرک اعضاء کے تیز اور خوف ناک چکر میں یک بارگی پھیل جاتی ہے۔

اس سے قبل کہ کوئی مزدور بھی تھے ،ہتھ کھڈیاں اور سٹیم انجن موجودتھے جن کا کام صرف ہتھ کھڈیاں اور سٹیم انجن بنانا تھا؛ بالکل اُسی طرح کہ جیسے درزیوں سے پہلے بھی لوگ لباس پہنتے تھے۔ تاہم واؤکنسن، آرک رائٹ، واٹ اور دوسروں کی ایجادات صرف اس وجہ سے قابلِ استعمال ہوئیں کہ ان موجدین کو میکانکی انداز کے مہارت یافتہ مزدوروں کی ایک معقول تعداد مینوفیکچر کے توسل سے میسر تھی۔ ان میں سے کچھ کاریگر مختلف پیشوں کے حامل خود مختار دستکار تھے، دیگرمینوفیکچر میں اکٹھے ہوئے جن میں، جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، محن کی تقسیمِ کار پر سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ جوں جوں ایجادات میں اضافہ ہوتا گیا، اور نئی دریافت ہونے والی مشینوں کی مانگ بڑھتی گئی ، توں توں مشین سازی کی صنعت مختلف آزاد شاخوں کی صورت میں حصوں میں بٹتی گئی، اور ان مینوفیکچریوں میں محن کی تقسیمِ کار بہتر سے بہتر ہوتی گئی۔پھر مینوفیکچر میں ، ہمیں جدید صنعت کی فوری تکنیکی بنیاد نظر آتی ہے۔مینوفیکچر نے مشینری کو تخلیق کیا جس کے ذریعے سے جدید صنعت نے دستکاری ،اور مینوفیکچر کا محنت کے اُن کُروں سے خاتمہ کر دیا جس پراس کا اول اول تسلط تھا۔ چنانچہ نظامِ کارخانہ کو فطری انداز میں ، غیر موافق بنیادوں پر کھڑا کیا گیا۔ جب اس نظام نے ارتقا کا ایک خاص درجہ پا لیا ، تواسے اس بنی بنائی بنیاد کی افزائش کرنی پڑی_جو اس دوران قدیم طرز میں ہی پروان چڑھتی رہی تھی_ اور اپنے لئے ایک ایسی بنیاد تشکیل دینا پڑی جو اس کے پیداواری طریقے کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ جیسے ایک تنہا مشین اس وقت تک اپنی خاصیت میں کم تر رہتی ہے جب تک یہ محض انسانی قوت کے ساتھ چلتی رہے، اور جیسے مشینری کا کوئی نظام بھی اس وقت تک صحیح معنوں میں ترقی نہ کر سکا جب تک سٹیم انجن نے اولین محرک قوتوں، جیسے جانوروں، آندھی، پانی وغیرہ کی جگہ حاصل نہ کر لی؛ اسی طرح جدید صنعت اس وقت تک اپنے مکمل ارتقا کی طرف رینگتی رہی جب تک اس کا پیداوار کا خواصی آلہ ، یعنی مشین، اپنے وجود میں انفرادی قوت اور انفرادی مہارت کا مرہونِ منت ، اور جسمانی ارتقا، نگاہ کی باریک بینی، اور ہاتھ کی




ٹوٹل صفحے6
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5-گذريل صفحو

مشینری کی ترقی ان داشلائوں میں استعمال ھے
محنت کش اور مشین کے درمیان آویزش
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے