مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 850
عنوان مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 193720
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ - کی دوسری شاخیں-

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذشتہ صفحہ

ئے روپے کی شکل میں اُجرت کے بطور موصول ہوا۔ روپے کی بُنتر میں قالینوں کے ذریعے اُنہوں نے 1,500قدر کے مساوی ذرائع معاش حاصل کئے۔ چنانچہ یہ ذرائع اُن کے نزدیک سرمایہ نہ تھے بلکہ اشیاء تھے، اور وہ اُن اشیاء کے حوالے سے اُجرتی مزدور نہ تھے بلکہ خریدار تھے۔ اس صورتِ احوال کی بدولت، کہ وہ مشینری کی وجہ سے ذرائع خرید سے محروم ہوئے، وہ خریداروں سے غیر خریدار بن گئے۔ پس نتیجہ یہ رہا کہ ان اشیاء کی طلب میں کمی آ گئی۔ اگر اس تخفیف کو کسی دوسری طرف سے اضافے کے ذریعے پورا نہ کیا جائے ، تو اشیاء کی منڈی کی قیمت گِر جاتی ہے۔اگر چیزوں کی یہ حالت کچھ عرصہ تک رہ جائے اور اس میں بڑھوتری آ جائے تو اس کے سبب اِن اشیاء کی پیداوار کے سلسلے میں لگائے جانے والے مزدوروں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہو گی۔ سرمائے کا کچھ حصہ جو قبل ازیں ضروری ذرائع معاش کی پیداوار کے لئے مختص تھا ، اب ضروری ہے کہ اُس کی کسی اور بُنتر میں باز تخلیق کی جائے۔ جس دوران قیمتیں گِرتی ہیں اور سرمائے کو موقوف کیا جاتا ہے، تو ضروری ذرائع معاش کی پیداوار کے سلسلے میں لگائے جانے والے مزدور اس کے نتیجے میں اپنی اُجرت کے ایک حصے سے‘‘ آزاد ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ اس بات کا ثبوت فراہم کرنے کے بجائے، کہ جب مشینری ایک مزدور کو اُس کے ذرائع معاش سے آزاد کرتی ہے، تو یہ اُن ذرائع کو خود بخود ہی سرمائے میں بدل لیتی ہے تاکہ اس کو مزید استعمال میں لایا جا سکے، ہمارے عذر خواہ [معاشیات دان] اپنے بنے بنائے رسد اور طلب کے اصول کے ذریعے اس کے برعکس یہ ثابت کرتے ہیں کہ مشینری نہ صرف مزدوروں کو پیداوار کی اُس شاخ سے بے کار کرتے ہوئے نکال باہر کرتی ہے جس میں اسے [پہلے پہل] متعارف کرایا جاتا ہے، بلکہ اُن شاخوں میں بھی جس میں ابھی اسے متعارف نہیں کرایا گیا۔

اصل حقائق جو معاشیات دانوں کی رجائت کے لبادے میں ہوتے ہیں درج ذیل ہیں: جب مشینری مزدوروں کو کارگاہوں سے بے دخل کرتے ہوئے انہیں منڈی کی طرف دھکیل دیتی ہے تو اُن مزدوروں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے جو سرمایہ دار وں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ اس کتاب کے ساتویں حصے میں ہم دیکھیں گے کہ مشینری کا یہ اثر جو، جیسا کہ ہم نے دیکھا، مزدور طبقے کی تلافی کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے، اس کے برخلاف ایک انتہائی دہشت انگیز تازیانہ ہے۔فی الحال میں صرف یہ کہنے پر ہی اکتفا کروں گا کہ: وہ مزدور جو صنعت کی کسی بھی شاخ سے نکال باہر کئے جاتے ہیں، وہ بے شک صنعت کی کسی دوسری شاخ میں ملازمت پا سکتے ہیں۔اگر اُنہیں یہ ملازمت مِل جائے تو اس کے نتیجے میں اُن کے اور ذرائع پیداوار کے درمیان موجود بندھن کی تجدید ہو جاتی ہے، یہ سب کچھ محض کسی نئے اورایسے اضافی سرمائے کی آمد سے ہوتا ہے جو لگائے جانے کا متقاضی ہو؛ اُس سرمائے کی عملداری سے بالکل بھی نہیں جس نے اُنہیں پہلے کام پر لگایا ہوا تھا اور اب جو مشینری میں بدل چکا ہے۔ اور اگر اُنہیں نوکری مِل بھی جائے تو اُن کی حالت کس قدر خستہ ہو گی! جیسا کہ وہ محن کی تقسیمِ کار کی وجہ سے پہلے ہی اس قدر معذور ہیں اور اپنے پرانے پیشے سے باہر یہ معصوم روحیں اس قدر کم وقعت کی حامل ہیں کہ گھٹیا درجے کی نوکری کے سوا اُنہیں صنعت کی کسی بھی شاخ میں جانے کی اجازت نہیں ملتی جنہیں کم اُجرت پانے والے محنت کشوں کے ساتھ بہتات میں رکھ لیا جاتا ہے۔134؂ مزید یہ بھی ہے کہ صنعت کی ہر شاخ اپنے ساتھ ہر آنے والے سال میں افراد کا ایک نیا جتھہ نتھی کر لیتی ہے جو ایک ایسا حادثاتی گروہ تشکیل دیتے ہیں جس میں سے اسامیاں پُر کی جاتی ہیں اور مزدوروں کی تعداد بڑھ جانے کی صورت میں واپس نکال لئے جاتے ہیں۔ مشینری جیسے ہی صنعت کی ایک خاص شاخ میں لگائے گئے مزدوروں کے ایک حصے کو فارغ کرتی ہے تو بچے کھنچے افراد کو بھی نوکری کے ایک نئے چینل میں داخل کر دیا جاتا ہے، جو دوسری شاخوں میں کھپا دئے جاتے ہیں؛ ایسے میں تبدیلی کے عہد میں پیدا ہونے والی بنیادی برائیاں کافی حد تک فنا ہو جاتی ہیں۔

یہ ایک بیّن حقیقت ہے کہ مزدوروں کو ذرائع بقا سے ‘‘ محروم کرنے کے سلسلے میں مشینری ذمہ دار نہیں۔ یہ اُس شاخ میں پیداوار کو سستا کرتی ہے اور اسے بڑھت دیتی ہے جس پر اسے لاگو کیا جائے، اور پہلے پہل دوسری شاخوں میں پیدا ہونے والے ذرائع معاش کے حجم میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی۔ پس اس کے متعارف کرائے جانے کے بعد بھی سماج بے کار کئے جانے والے مزدوروں کے لئے اگر زیادہ نہیں تو اُتنی ہی ضروریاتِ زندگی کاحامل ضرور ہوتا ہے۔ اور یہ سب کچھ سالانہ پیداوار کے اُس بہت بڑے حصے کے علاوہ ہے جسے غیر مزدور ضائع کر دیتے ہیں۔اور یہ وہی نکتہ ہے جس پر ہمارے عذر خواہ تکیہ کئے ہوئے ہیں! مشینری کے سرمایہ دارانہ استعمال میں اٹوٹ طور پر پایا جانے والا تضاد اور اختلاف ، وہ کہتے ہیں ، کہ موجود ہی نہیں، حالانکہ وہ مشینری سے یوں بنے بنائے برآمد نہیں ہوتے بلکہ اس کے سرمایہ دارانہ استعمال سے برآمد ہوتے ہیں! چنانچہ یہی وجہ ہے کہ محض مشینری ہی کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ محن کے گھنٹوں میں تخفیف کرتی ہے، مگر جب سرمائے کے حق میں اسے بڑھت دیتی ہے؛ اگرچہ یہ خود اپنے اندر محن کو تطویل دیتی ہے، لیکن جب اسے سرمایہ زیرِ استعمال لاتا ہے تو یہ محن کی شدت میں اضافہ کرتی ہے؛ اگرچہ یہ خود اپنے اندر فطرت کی قوتوں پر انسان کی نصرت ہے، لیکن سرمائے کے ہاتھوں میں یہ انسان کو اُن قوتوں کا غلام بنا دیتی ہے؛ اگرچہ یہ اپنے اندر پیداکاروں کی دولت میں اضافہ کرتی ہے، لیکن سرمائے کے ہاتھوں میں اُنہیں محتاج بنا دیتی ہے__ ان تمام وجوہات کی بنا پرجبکہ دیگر وجوہات ان کے علاوہ ہیں، بورژوا معاشیات دان کسی اور تکلف کے بغیر یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام تضادات حقیقت کے محض اظہارات ہی ہیں، اور یہ کہ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ اُن کا حقیقی طور پر کوئی وجود ہے اور نہ نظریاتی طور پر۔اس طرح وہ اپنے آپ کو مزید ذہنی اُلجھاوے سے بچا لیتا ہے، اور زیادہ اہم بات تو یہ ہے کہ اپنے مخالفین کو اتنے زیادہ احمق قرار دیتا ہے جو مشینری کے سرمایہ دارانہ استعمال کے مخالف نہیں آتے بلکہ خود مشین کی مخالفت ہی میں صف آرا ہو جاتے ہیں۔

وہ بلا شبہ اس بات کا انکار کرنے سے کوسوں دور ہے کہ مشینری کے سرمایہ دارانہ استعمال کی وجہ سے ایک عارضی مخاصمت ضرور جنم لے س




ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذريل صفحو

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے