مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 850
عنوان مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 193717
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ - کی دوسری شاخیں-

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذشتہ صفحہ

ا۔ اسی طرح مشینری سے پیدا ہونے والے کپڑا بافی کے سامان کی بہتات کی وجہ سے بھی درزیوں، درزنوں اور سلائی کڑھائی کرنے والی عورتوں کی تعداد میں بھی اس وقت تک اضافہ ہوتا چلا گیا جب تک سلائی مشین معرضِ وجود میں نہ آئی۔

جس تناسب میں مشینری محنت کشوں کی نسبتاً کم تعداد کی مدد سے خام مواد، آدھی تیار شدہ مصنوعات، اور آلاتِ محن وغیرہ میں اضافہ کرتی ہے ، ان خام موادوں اور آدھی تیار شدہ مصنوعات کی تکمیل و تیاری بے شمار شاخوں میں تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے؛ سماجی پیداوار میں اس سے بالعکس اضافہ ہوتا ہے۔نظامِ کارخانہ محن کی سماجی تقسیم کو مینوفیکچر کی بہ نسبت بہت زیادہ آگے لے جاتا ہے، کیونکہ یہ اُن صنعتوں کی افزودگی میں بہت بلند سطح تک اضافہ کر دیتا ہے جن پر اِسے لاگو کر دیا جاتا ہے۔

مشینری کا فوری نتیجہ قدرِ زائد اور اُن مصنوعات کے حجم میں اضافے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جن میں قدرِ زائد متجسم ہوتی ہے۔ اور پھر جس اعتبار سے سرمایہ دار اور اُس کے ماتحتوں سے خرچ ہونے والے موادوں میں اضافے کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے، اُسی اعتبار سے سماج کے اِن درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اُن کی بڑھتی ہوئی دولت اورحاجاتِ زندگی پیدا کرنے کے لئے درکار مزدوروں کی نسبتاً گھٹتی ہوئی تعداد، ان بڑھتی ہوئی نئی اور پُر تعیش حاجات کے ساتھ ان کی تسکین کے ذرائع بھی خود ہی حاصل کر لیتی ہیں۔ سماج کی پیداوار کا نسبتاً بڑا حصہ [اب] زائد پیداوار میں بدل جاتا ہے، اور اس زائد پیداوار کا نسبتاً بڑا حصہ [حاجات کی] مزّین شدہ اشکال کی کثرت میں کھپت کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آسائشوں کی پیداوار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔141؂ مصنوعات کی مزّین اور متنوع اشکال عالمی منڈی میں بننے والے نئے روابط کی وجہ سے بھی ہیں، ایسے روابط جو جدید صنعت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ نہ صرف بڑی مقداروں میں بدیسی پُر تعیش چیزوں کا دیسی مصنوعات کے ساتھ مبادلہ عمل میں آتا ہے، بلکہ بدیسی خام موادوں ، اجزاء اور نامکمل مصنوعات کو بھی مُلکی صنعتوں میں ذرائع پیداوار کے بطور استعمال کیا جاتا ہے۔عالمی منڈی کے ساتھ ان تعلقات کی بدولت رسل و رسائل کے شعبے میں محن کی طلب بڑھ جاتی ہے، جو متنوع اقسام میں منقسم ہے۔142؂

ذرائع پیداوار اور ذرائع معاش میں اضافہ جو مزدوروں کی تعداد کی تخفیف کے ساتھ جڑا ہوا ہے ،محض نہروں، گھاٹوں، سُرنگوں، اور پُلوں وغیرہ کی تعمیر کے لئے محن کی طلب میں اضافہ کرتا ہے، یعنی ایسے امور میں جو صرف مستقبل بعید ہی میں بارآور ثابت ہو سکتے ہیں۔ مشینری کے براہِ راست نتیجے میں یا پھر اس کی مرہونِ منت عمومی صنعتی تبدیلیوں کے نتیجے میں، پیداوار کی ایسی بالکل نئی شاخیں بھی معرضِ وجود میں آ جاتی ہیں جو محن کے نئے میدانوں کی جنم دیتی ہیں۔ لیکن عمومی پیداوار میں جو جگہ صنعت کی اِن شاخوں کے حصے آتی ہے، وہ بہت زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی انتہائی معمولی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ مزدوروں کی وہ تعداد جسے ان شاخوں میں ملازمت ملتی ہے، اُس گھٹیا ترین جسمانی محن کی طلب سے راست متناسب ہوتی ہے جو ان صنعتوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ آج کل اس قسم کی اہم صنعتوں میں ، گیسوں سے متعلقہ امور، ٹیلی گراف، فوٹو گرافی، بھاپ کی رسل و ترسیل، اور ریلوے شامل ہیں۔ انگلستان اور ویلز کے لئے 1861 کی مردم شماری کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ گیس کی صنعت کے ساتھ( گیس سے متعلقہ امور، میکانکی سازوسامان کی پیداوار، گیس کمپنیوں کے ملازمین ، وغیرہ )15,211 افراد وابستہ ہیں، ٹیلی گرافی میں 2,399،فوٹو گرافی میں 2,366 ، بھاپ کی رسل وتروسیل میں 3,570، اور ریلوے میں 70,599، ان میں سے غیر ہنر یافتہ‘‘ ملازمین کم و بیش مستقل بنیادوں پر ملازم ہیں، اور سارے کا سارا انتظامی اور کاروباری عملہ 28,000 کے قریب بنتا ہے۔ چنانچہ ان نئی پانچ صنعتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی کُل تعداد 94,145 افراد بنتی ہے۔

آخری بات یہ کہ جدید صنعت کی غیر معمولی پیداواری قوت، جیسا کہ اسے پیداوار کے دیگر تمام کُروں میں قوتِ محن کے زیادہ سخت اور زیادہ شدید استحصال کی مدد حاصل ہے، غیر ہنر یافتہ مزدور طبقے کے زیادہ سے زیادہ افراد کی بھرتی کی خواہاں ہے ، اور اس کے نتیجے میں زیادہ وسیع پیمانے پرملازم طبقے کے نام سے قدیم نجی غلاموں کی تخلیقِ نورونما ہوتی ہے ، ا ن میں مرد ملازمین، عورت ملازمین، اورہرکارے وغیرہ شامل ہیں۔ 1861 کی مردم شماری کے مطابق انگلستان اور ویلز کی آبادی 20,066,244 تھی؛ ان میں سے 9,776,259 مرد اور 10,289,965عورتیں تھیں۔ اگر ہم اس آبادی سے اُن افراد کو نکال دیں جو اِتنے عمر رسیدہ یا اِتنے چھوٹے ہیں کہ کام نہیں کر سکتے ، تمام غیر افزودہ عورتیں، نوجوان، اور بچے، تمام‘‘ نظریاتی گروہوں کو جیسے حکومتی افسران، پادری، قانون دان، اور سپاہی وغیرہ ؛ اس کے علاوہ اُن تمام افراد کو بھی جن کا بذاتِ خود تو کوئی پیشہ نہیں بلکہ جو لگان اور سود وغیرہ کی شکل میں دوسروں کا محن خرچ کرتے ہیں، اور آخر میں کنگالوں، آوارہ گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو بھی نکال دیں تو دونوں جنسوں کے مِل ملا کر اسّی لاکھ افراد رہ جاتے ہیں، اس تعداد میں ہر وہ سرمایہ دار بھی شامل ہے جو کسی انداز میں بھی صنعت، تجارت یا محکمۂ بیت المال سے متعلق ہے۔ان اسّی لاکھ افراد میں درج ذیل شامل ہیں:





-01-1D-00-00-00افراد کی تعداد

-01-F7-00-00-00زراعتی مزدور( ان میں چرواہے، کھیتوں میں کام کرنے والے ملازمین، اور کسانوں کے گھروں میں رہنے والی ملازم عورتیں بھی شامل ہیں)



-01-0A-00-00-001,098,261

-01;-01-00-00وہ تمام افراد جو روئی، اون، اونی کپڑا، پٹ سن، ریشم، اور پٹ سن کی رسیاں بنانے والے صنعتوں سے متعلق ہیں، جراب بافی ، اور مشین کی مدد سے فیتا بنانے سے متعلق ہیں

-01-0F-00-00-00143؂ 642,607

-01s-00-00-00وہ تمام افراد جو کوئلے اور دھات کی کانوں میں کام کرتے ہیں

-01-08-00-00-00565,835

-01-ED-00-00-00وہ تمام افراد جو دھاتی کاموں سے متعلق ہیں(برقی بھٹیوں ، اور رولنگ مِلوں میں )اور ہر قسم کی دھاتی مصنوعات سے متعلق ہیں۔

-01

44؂396,998

-01-1F-00-00-00ملازمین کا طبقہ

-01-0F-00-00-00145؂1,208,648

-01-01-00-00-00

ٹیکسٹائل فیکٹریوں اور کانوں میں کام کرنے والے تمام افراد کو اگر اکٹھے کر لیا جائے تو یہ تعداد 1,208,442 بنتی ہے، ٹیکسٹائل فیکٹریوں اور دھات کی صنعتوں میں کام کرنے والے افراد کی کُل تعداد 1,239,605 بنتی ہے؛ دونوں صورتوں میں یہ تعداد جدید گھریلو مزدوروں سے کم ہی رہتی ہے۔ مشینری کے سرمایہ دارانہ استحصال کا یہ کیسا شاندار نتیجہ ہے!



فصل ہفتم: نظامِ کارخانہ کی محن کاروں کے لئے دفع اور کشش، روئی کے کاروبار میں آنے والے بحران

SECTION 7._ R




ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذريل صفحو

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے