مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 850
عنوان مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 193716
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ - کی دوسری شاخیں-

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ5
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذشتہ صفحہ

وقفوں کی وجہ سے مسلسل طور پر متاثر ہوتی رہتی ہیں، جن کے دوران کارخانوں میں مروج تکنیکی بنیادوں پر ہی فیکٹریوں کی مقداری بڑھت رونما ہوتی ہے۔ ایسے وقفوں کے دوران مزدور اپنی تعداد میں بڑھ جاتے ہیں۔ پس 1835 میں متحدہ برطانیہ کی روئی، اون، پٹ سن، سِن، اور ریشم بنانے والی فیکٹریوں میں محنت کشوں کی تعداد صرف 354,684 تھی، جبکہ 1861 میں صرف پاور لوم پر کپڑا بُننے والوں کی تعداد ہی 230,654 تھی،( ان میں آٹھ سال سے زیادہ عمر کے دونوں جنسوں سے تعلق رکھنے والے تمام افراد شامل ہیں)۔ [مزدوروں کی تعداد میں] یہ اضافہ یقینا اُس وقت کم اہم نظر آتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ 1838 میں ہاتھ سے چلنے والی لوم پر کام کرنے والے افراد کی تعداد مع جملۂ اہلِ خانہ ابھی تک 800,000 ہی رہی ہے،150؂ اس سلسلے میں اُن افراد کا مذکور نہیں جنہیں ایشیا اور یورپ کے برِ اعظموں میں کام سے برطرف کیا گیا۔

اس نقطے پر میں ابھی مزید کچھ کہنا چاہوں گا، میں کچھ حقیقی وجود رکھنے والے تعلقات کا حوالہ دینا چاہوں گا، جن کے وجود کو ابھی ہماری تفتیش دریافت نہیں کر سکی۔

صنعت کی ایک خاص شاخ میں نظامِ کارخانہ قدیم دستکاری اور مینوفیکچر کے بل بوتے پر اپنے آپ کو جس قدر وسعت دیتا ہے، اس کا نتیجہ اسی قدر حتمی ہو گا جو نتیجہ جدید توپ خانے سے مسلح فوج اور تیر کمان سے مسلح فوج کے ٹکراؤ سے برآمد ہو گا۔ یہ پہلا عہد جس کے دوران مشینری اپنے دائرۂ عمل کو فتح کرتی ہے اُن نفعوں کی وجہ سے حتمی اہمیت کا حامل ہے جن کے حصول میں یہ مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ یہ منافع جات نہ صرف اسراع یافتہ ارتکاز کا وسیلہ تشکیل دیتے ہیں، بلکہ سازگاز پیداواری کُرے میں ایک اضافی سماجی سرمائے کے اُس بڑے حصے کے لئے کشش کا باعث بھی بنتے ہیں جس کو مسلسل پیدا کیا جا رہا ہے، اور جو ہمیشہ نئی سرمایہ کاری کے انتظار میں ہوتا ہے۔تیز اور خوفناک سرگرمیوں کے اس پہلے عہد کے خصوصی مفادات صنعت کی ہر اُس شاخ میں دیکھے جا سکتے ہیں جہاں مشینری حملہ آور ہوتی ہے۔ تاہم جیسے ہی نظامِ کارخانہ اپنے قدم جمانے کے لئے مخصوص زمین اور پختگی کی ایک خاص سطح پا جائے، اور بالخصوص، جونہی اس کی تکنیکی بنیاد ،مطلب یہ کہ مشینری، کو خود مشینری ہی سے پیدا کیا جانے لگے ؛ جونہی کوئلے اور لوہے کی کان کنی، دھات سے متعلق صنعتیں، اور ذرائع نقل و حرکت میں انقلاب برپا ہو جائے؛ مختصراً یہ کہ جیسے ہی جدید صنعتی نظام میں پیداوار کے لئے درکار عمومی حالات قائم ہو جائیں، تو پیداوار کی یہ طبع ایک لچک پا جاتی ہے، یعنی کمال کی سُرعت کے ساتھ پھیلاؤ پانے کی ایک ایسی صلاحیت جس کے آگے خام مال کی رسد اور پیداوار کی روانگی کے علاوہ کوئی چیز مزاحم نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف مشینری کا فوری اثر خام مال کی رسد کو اُسی انداز میں بڑھانا ہے، مثال کے طور پر روئی سے بیج الگ کرنے والی مشین نے روئی کی پیداوار میں اضافہ کیا۔ 151؂دوسری طرف مشینری کی پیدا کردہ چیزوں کا سستا ہونا ، اور ارتقا یافتہ رسل و ترسیل اور نقل و حرکت کے وسائل غیر ملکی منڈیوں پر غلبہ پانے کے اسباب مہیا کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں دستکاری کی پیداوار کو تباہ کرنے کے بعد مشینری اُنہیں زبردستی اپنے لئے خام مال مہیا کرنے والے حلقوں میں بدل دیتی ہے۔ اسی طریق پر مشرقی ہندوستان کو مجبور کیا گیا کہ وہ برطانیۂ عظمیٰ کے لئے روئی، حشیش، پٹ سن، اور نیل پیدا کرے۔ 152؂مزدوروں کے ایک حصے کو‘‘ بے کار کرتے ہوئے مشینری ہر اُس ملک کو باہر کے ملکوں کی طرف نقل مکانی اور اُنہیں نو آبادیات میں بدلنے کے لئے تحریک دیتی ہے جس میں بھی یہ جڑ پکڑ جاتی ہے، اور اس کے بعد یہ ملک اپنے مالک مُلک کے لئے خام مال کی پیداوار کے حالات استوار کرتا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے آسٹریلیا کو اون کی پیداوار دینے والی کالونی میں بدل دیا گیا۔153؂ محن کی نئی اور بین الاقوامی تقسیمِ کار، ایک ایسی تقسیم جو جدید صنعت کے بڑے بڑے مراکز کی ضروریات کے لئے موزوں ہو، پھوٹ پڑتی ہے، اور کُرۂ ارض کے ایک حصے کو پیداوار کے بنیادی طور پر زراعتی میدان میں بدل دیتی ہے، جس کا کام دوسرے حصے کو رسد مہیا کرنا ہے جو بنیادی طور پر صنعتی میدان ہی رہتا ہے۔ یہ انقلاب زراعت میں آنے والی بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے، جس کی تفصیل میں جانے سے ہمیں فی الوقت کوئی سروکار نہیں۔154؂

مسٹر گلیڈ سٹون کی تحریک پر 17 فروری 1867 میں ہاؤس آف کامنز نے اُن تمام اقسام کے غلہ، مکئی، اور آٹے کی واپسی کے احکامات جاری کئے، جنہیں 1831سے لے کر 1866 تک متحدہ برطانیہ سے درآمد کیا گیا تھا۔ میں ذیل میں اس کے نتائج کا خلاصہ پیش کرتا ہوں۔ آٹا مکئی کی نسبت سے ایک چوتھائی کے حساب سے دیا جاتا ہے۔( ذیل میں آنے والا جدول دیکھیں)















سال 1866 اور گزشتہ پانچ پانچ سال



سالانہ اوسط

-01-08-00-00-001831-35

-01-08-00-00-001836-40

-01-08-00-00-001841-45

-01-08-00-00-001846-50

-01-08-00-00-001851-55

-01-08-00-00-001856-60

-01-08-00-00-001861-65

-01-05-00-00-001866

-01

-8Bرآمد



-01-0A-00-00-001,096,373

-01-0A-00-00-002,389,729

-01-0A-00-00-002,843,865

-01-0A-00-00-008,776,552

-01-0A-00-00-008,345,237

-01-0B-00-00-0010,913,612

-01-0B-00-00-0015,009,871

-01-0B-00-00-0016,457,340



-01

-82رآمد

-01-08-00-00-00225,263

-01-08-00-00-00251,770

-01-08-00-00-00139,056

-01-08-00-00-00155,461

-01-08-00-00-00307,491

-01-08-00-00-00341,150

-01-08-00-00-00302,754

-01-08-00-00-00216,218

-011-00-00-00برآمد پر درآمد کی بڑھت

-01-01-00-00-00



871,110

-01-01-00-00-00



2,137,959

-01-01-00-00-00



2,704,809

-01-01-00-00-00



8,621,091

-01-01-00-00-00



8,037746

-01-01-00-00-00



10,572,462

-01-01-00-00-00



14,707,117

-01-02-00-00-001



6,241,122

-01

-81ٓبادی

ہر عہد میں سالانہ اوسط



-01-01-00-00-00



24,621,107



-01-01-00-00-00



25,929,507

-01-01-00-00-00



27,262,569

-01-01-00-00-00



27,797,598

-01-01-00-00-00



27,572,923

-01-01-00-00-00



28,391,544

-01-01-00-00-00



29,381,460

-01-01-00-00-00



29,335,404

-01/-00-00-00غلہ وغیرہ کی اوسط مقدار

-01-01-00-00-00

0.036

-01-01-00-00-00

0.082

-01-01-00-00-00

0.099

-01-01-00-00-00

0.310

-01-01-00-00-00

0.291

-01-01-00-00-00

0.372

-01-01-00-00-00

0.501

-01-01-00-00-00

0.543

-01-01-00-00-00

نظامِ کارخانہ کی گھٹی میں شامل قلانچیں بھرتے ہوئے بڑھنے کی بے انتہا قوت، اور اس نظام کا عالمی منڈیوں پر انحصار یقینی بات ہے کہ پیداوار کو سُرعت میں قبول کرتا ہے، جس کے ساتھ منڈیوں کا بھر جانا بھی لازم وملزوم ہے، جہاں کہیں بھی منڈیوں کا سکڑاؤ پیداوار کو بے بس کر دیتا ہے۔ جدید صنعت کی زندگی معتدل سرگرمی، خوش حالی، اضافی پیداوار، بحران اور انجماد کا ایک سلسلہ بن کر رہ جاتی ہے۔مشینری ملازمین کو جس بے یقینی اور عدمِ استحکام میں مبتلا کرتی ہے، اِن صنعتی چکروں کے نتیجے میں آنے والی مسلسل تبدیلیوں کے باعث کاریگروں کی بقا کے حالات نارمل ہو جاتے ہیں۔ خو




ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ5
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذريل صفحو

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے