مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 850
عنوان مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
شاخ مشینری اور جدید صنعت
پڑھا گیا 193718
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ کے بنیاد
مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ - کی دوسری شاخیں-

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ


شاخ مشینری اور جدید صنعت
ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ7
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذشتہ صفحہ

ان کی اکثریت دیوالہ ہو گئی۔ وہ اُس تجارتی بحران میں بھی ایسے ہی مقدر کا شکار ہوئے ہوں گے جس کی وجہ صرف روئی کا کال ہی بنا تھا۔ اگرچہ وہ مینوفیکچرکرنے والوں کی کُل تعداد کا تیسرا حصہ بنتے ہیں، اس کے باوجود اُن کی مِلیں روئی کے پیشے میں لگائے جانے والے سرمائے کا بہت چھوٹا حصہ ہی زیرِ استعمال لاتی ہیں۔ جیسے‘ روککی حد کے تحت مصدقہ اعدادوشمار کی رو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 1862 میں 60.3%تکلے اور 58% لومیں بے کار پڑی رہیں۔ یہ صورتِ حال مجموعی طور پر روئی کے پیشے کا پتا دیتی ہے، اور یقینا ہر ضلعے میں معقول حد تک تجدید کا تقاضا کرتی ہے۔ صرف کچھ مِلیں ہی کُل وقتی طور پر کام کرتی ہیں( مطلب یہ کہ ایک ہفتے میں 60 گھنٹے )، باقی ماندہ میں کام کو وقفوں پر کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اُن چند صورتوں میں بھی جہاں کُل وقتی کام چلایا جاتا، اور ٹھیکے کی اُجرت کے پیشہ وارانہ بھاؤ پر، کارکنان کی ہفتہ وار اُجرت میں لازمی طور پر کمی آئی، اور اِس کی وجہ یہ تھی کہ اچھی روئی کی جگہ پر خراب روئی استعمال ہونے لگی تھی، بحری آئس لینڈ کی جگہ مصری(کاتنے والی عمدہ مِلوں میں )امریکی اور مصری روئی کی جگہ سورت اور خالص روئی کی جگہ کترن اور سورت کا مرکب استعمال ہونے لگا تھا۔ سورت کی کپاس کے چھوٹے چھوٹے ریشے اور اُن کی گندی صورتِ حال ، دھاگے کی حد سے زیادہ ناتوانی، شالوں کی تیاری کے سلسلے میں استعمال ہونے والے آٹے کی جگہ ہر قسم کے بھاری بھرکم موادوں کا استعمال کرنا، ان تمام نے مشینری کی رفتار میں کمی کر دی، یا وہ مشینیں کم ہو گئیں جو ایک کتائی والے کے زیرِ اختیار ہوتی تھیں، مشینری میں آنے والی خرابیوں نے محن میں بھی اضافہ کیا اور تیار ہونے والی چیزوں کی کمی کے تناسب میں ٹھیکے کی اُجرت میں تخفیف کر دی۔ جہاں سورات کی کپاس استعمال ہوتی تھی، وہاں جب مشینیں چلانے والے کُل وقت کام کرتے تو اُن کا نقصان 20، 30 فیصد سے بھی زیادہ ہو جاتا تھا۔لیکن اس سے درکنار اکثر مینوفیکچر کرنے والوں نے ٹھیکے کی اُجرت کو 5 فی صد ، 7 -BD فی صد،اور 10فی صد تک کم کر دیا۔ چنانچہ ہم اُن مزدوروں کی حالتِ زار کا اندازہ کر سکتے ہیں جنہیں صرف 3شلنگ یا 3 -BDشلنگ یا 4شلنگ فی ہفتہ ، یا پھر 6گھنٹے روزانہ کے حساب سے کام پر لگایا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ 1863 میں بھی، جبکہ صورتِ حال میں نسبتاً زیادہ ارتقا بھی آ چکا تھا، کاتنے والے اور بُننے والے کی ہفتہ وار اُجرتیں 3شلنگ4ڈالر، 3شلنگ 10ڈالر، 4شلنگ 6ڈالر اور 5شلنگ 1ڈالر تھیں۔158؂ تاہم اس قابلِ رحم صورتِ حال میں بھی ماسٹر کی موجدانہ سپرٹ کبھی نہ رُکی، بلکہ اُجرتوں سے کٹوتیوں کے سلسلے میں متحرک رہی۔ ان[کٹوتیوں] کی حیثیت کسی حد تک تیار شدہ چیز میں آنے والے نقائص کے حرجانے کی تھی، جس کی اصل وجہ خراب اور غیر موزوں روئی تھی۔ مزید برآں جہاں کہیں مزدوروں کے جھونپڑے وغیرہ مینوفیکچرر کی ملکیت تھے، وہاں ان قابلِ رحم اُجرتوں سے کٹوتی کرتے ہوئے وہ خود اپنے آپ کو ان کی ادائیگی کرتا۔ مسٹر ریڈ گریو ہمیں خود کار مشینوں کے کاریگروں(ایسے کاریگر جو خود کار تکلوں کے جوڑے کو چلاتے ہیں )کے بارے میں بتاتا ہے، ‘‘ مکمل پندرہ دنوں کے مسلسل کام کے بعد اُن کی کمائی 8شلنگ، 12ڈالر ہے، اور اس رقم سے مکان کے کرائے کی کٹوتی کی جاتی ہے، تاہم مینوفیکچرر اس میں سے آدھا کرایہ تحفے کے طور پر واپس کر دیتا ہے۔ اس کاریگر کے حصے میں 6پونڈ 11شلنگ کی رقم آتی۔ بہت ساری جگہوں پر خود کار مشینوں کے کاریگر 5 سے 9شلنگ فی ہفتہ کے حساب سے کما لیتے ، اور 1862کے نصفِ آخر کے دوران کاتنے والے 2سے 6ڈالر فی ہفتہ کے حساب سے اپنا عوضانہ حاصل کر تے تھے۔ 159؂حتیٰ کہ جز وقتی کام کے دوران بھی کارکنان کی اُجرت سے کرایہ جات کی اِسی طرح کٹوتی کی جاتی۔160؂ تب اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ لنکاشائر کے کچھ حصوں میں قحط کی وبا پھیل جاتی۔ لیکن ان سب باتوں میں سب سے اہم واقعہ وہ اہم انقلاب تھا جو پیداواری عمل میں محنت کشوں کے عوض رونما ہوا ۔ ماہرینِ علمِ ابدان کے مینڈک پر تجربات کی طرح یہ بھی بے مقصد تجربات تھے۔‘‘ اگرچہ مسٹر ریڈ گریو کہتا ہے،‘‘ میں نے بہت ساری مِلوں میں کام کرنے والے کاریگروں کی اصل کمائی دی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر ہفتے اِتنی ہی رقم کماتے ہیں۔ مینوفیکچر کرنے والوں کے مسلسل تجربات کی وجہ سے کاریگر انتہائی غیر یقینی حالات کا شکار رہتے ہیں.... روئی میں ملاوٹ کی شرح کے مطابق کاریگروں کی کمائی بھی گھٹتی بڑھتی ہے؛ بعض وقت وہ اپنی پہلے کی کمائی سے صرف 15 فی صدکم کما رہے ہوتے ہیں، اور پھر ایک یا دو ہفتوں کے اندر اندر اُن کی کمائی میں 50سے 60فی صد تک کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔161؂ اِن تجربات کو فقط محن کار کے ذرائع معاش کے بدلے ہی میں نہ سرانجام دیا جاتا تھا۔ بلکہ اُس کی حواسِ خمسہ کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا۔‘‘ جن لوگوں کو سورات کی روئی بنانے میں کام پر لگایا جاتا تھا اُن کی شکایات بہت زیادہ تھیں۔ روئی کی گانٹھیں کھولتے ہوئے اُنہوں نے مجھے خبردار کیا کہ اس سے ناقابلِ برداشت بدبو اُٹھتی ہے جو بیماری کا باعث بنتی ہے...۔ مِلانے، گاہنے اور ریشے بنانے والے کمروں میں اس سے خارج ہونے والا گردوغبار اور گندگی ہوا کے رستوں کو بند کر دیتی ہے اور یہ کھانسی اور سانس کی بندش کا موجب بنتے ہیں۔ بلا شبہ سورات کی روئی میں موجود گندگی کے پھیلنے کی وجہ سے ایک جلدی بیماری بھی پھوٹ پڑی ہے...۔ چونکہ اس کے ریشے بہت چھوٹے ہوتے ہیں اس لئے اس سلسلے میں جانوروں اور سبزیات ہر دو کی اچھی خاصی مقدار استعمال کی جاتی ہے...۔اس گردوغبار کی وجہ سے نرخرے کی بیماری عام ہے۔ گلے کی سوزش کا عام ہونا بھی اسی وجہ ہی سے ہے۔ تپ اور انتڑیوں کے ورم بھی تانے بانے کے ٹوٹنے کی وجہ سے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کاتنے والا شٹل کے سوراخ سے باہر آنے والے جالے کو سانس کے ذریعے اندر لے جاتا ہے۔162؂ دوسری طرف آٹے کے لئے متبادلات کے ذریعے سوت کا وزن بڑھا نا مینوفیکچر کرنے والوں کے لئے خوش قسمتی کا بٹوا ثابت ہوا۔ وہ 15 پونڈ وزن کے خام مال کو کتائی کے بعد 26پونڈ وزن کا بنا دیتے تھے۔ 30 اپریل 1864کی بابت فیکٹری کے معائنہ کاروں کی رپورٹ میں ہمیں درج ذیل عبارت ملتی ہے:‘‘ یہ پیشہ اس ذریعے سے فائدہ اٹھا رہا ہے اتنا کہ اب مشتبہ ہو چکا ہے۔ میں نے باوثوق ذریعے سے سنا ہے کہ 8 پونڈ وزن کا حامل کپڑا جو 5 -BC پونڈ سوت اور 2 -BE پونڈ ملاٹ سے مل کربنا؛ اور ایک دوسرا کپڑا جس کا وزن 5 -BC پونڈ تھا جس میں 2پونڈ وزن کی ملاوٹ تھی۔ یہ شرٹوں کی صورت میں عمومی طور پر برآمد کیا جاتا تھا۔ دوسری اقسام کے کپڑوں میں بعض وقت تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس میں 50% ملاوٹ کر دی جاتی ہے، اور وہ اس مقصد کے لئے کہ ایک مینوفیکچر کرنے والا یہ بڑھ ہانک سکے ، اور وہ یقینا ایسا ہی کرتا ہے، کہ وہ کپڑے کو وزن کے حساب سے اُس سے کم




ٹوٹل صفحے9
موجودہ صفحہ7
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4--5--6--7--8-گذريل صفحو

مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مشینری کے ذریعے محنت کشوں کی برطرفی کے حوالے سے مکافات کا نظریہ
مشینری اور جدید صنعت - موضوع کے دوسرے داخلے