مصنوعہ کی قدر کے اجزا کا خود مصنوعہ کے متعلقہ اجزائے ترکیبی کے تناسبی حصوں کے ذریعے بیان : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 815
عنوان مصنوعہ کی قدر کے اجزا کا خود مصنوعہ کے متعلقہ اجزائے ترکیبی کے تناسبی حصوں کے ذریعے بیان
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 225335
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مصنوعہ کی قدر کے اجزا کا خود مصنوعہ کے متعلقہ اجزائے ترکیبی کے تناسبی حصوں کے ذریعے بیان کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مصنوعہ کی قدر کے اجزا کا خود مصنوعہ کے متعلقہ اجزائے ترکیبی کے تناسبی حصوں کے ذریعے بیان - کی دوسری شاخیں-

مصنوعہ کی قدر کے اجزا کا خود مصنوعہ کے متعلقہ اجزائے ترکیبی کے تناسبی حصوں کے ذریعے بیان


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ


متعلقہ اجزائے ترکیبی کے تناسبی حصوں کے ذریعے بیان

اب ہم ایک بار پھر اسی مثال کی طرف رجوع کرتے ہیں جس سے اس بات کی وضاحت ہوئی تھی کہ سرمایہ دار روپے کو سرمائے میں کیسے بدلتا ہے۔

12گھنٹے کی ایک دہاڑی کی پیداوار 20گرام سوت ہے جس کی قدر 30شلنگ کے مساوی ہے۔اس قدر کا کم از کم -03، یا 24شلنگ ذرائع پیداوار کی قدر کی باز آمدید ہے( یعنی 20گرام روئی جس کی قدر 20شلنگ ہے اور 4شلنگ کے برابر تکلا گھسا ہے)اس لیے یہ بقا پذیرسرمائے کی ذیل میں آئے گا۔ باقی ماندہ -03حصہ یا 6شلنگ کتائی کے عمل کے دوران پیدا ہونے والی نئی قدر ہے۔ اس کا آدھا حصہ ایک دن کی قوتِ محن کی جگہ آ جاتا ہے جسے تغیر پذیر سرمایہ کہیں گے۔ باقی ماندہ آدھا حصہ 3شلنگ کی قدرِ زائد پر مشتمل ہے۔اس طرح سے 20پونڈ سوت کی کُل قدر ذیل میں بنتی ہے:

3surpl.شلنگ 3var.+شلنگ 24 const.+ شلنگ=سوت کی 30شلنگ کے مساوی قدر

(30s value of yarn = 24s. cosnt. + 3s Var. + 3s. surpl)

چونکہ یہ ساری کی ساری قدر پیدا ہونے والے 20پونڈ سوت میں موجود ہے ، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس قدر کے مختلف اجزا کو مصنوعہ کے جزوی حصوں کے بطور پیش کیا جا سکتا ہے۔

اگر 30شلنگ کی قدر 20پونڈ سوت میں پائی جائے تو پھر اس قدر کا -03واں ، یا پھر 24شلنگ اس کا بقا پذیر حصہ بناتے ہیں، اور یہ مصنوعہ کا -03واں ہے یا پھر 16پونڈ سوت ہے۔ آخرالذکر میں سے-03 پونڈ خام مال کی قدر بیان کرتے ہیں، 20شلنگ قدر کے مساوی روئی کاتی گئی، اور -03پونڈ 4شلنگ قدر کے مساوی گھسنے والے تکلے وغیرہ کو بیان کرتی ہے۔

پس 20پونڈ سوت کاتنے میں استعمال ہونے والی تمام روئی کو -03پونڈ سوت سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ سوت کا یہ آخرالذکر وزن روئی کے -03پونڈ وزن سے زیادہ بیان نہیں کرتاجس کی قدر -03شلنگ کے مساوی ہے۔ لیکن اس میں شامل -03 شلنگ کی اضافی قدر اُس روئی کی مساوی القدر ہے جو باقی ماندہ -03پونڈ وزن کا سوت کاتنے میں صرف ہوئی۔بات وہی ہے کہ جیسے سوت کے ان -03پونڈ میں کوئی روئی شامل نہیں ، اور تمام کی تمام 20پونڈ وزن کی روئی -03 پونڈ سوت میں سمٹ آئی ہے۔ دوسری طرف آخرالذکر وزن میں معاون مواد ، آلات کی قدر کا کوئی جزو شامل ہے اور نہ اس عمل میں پیدا ہونے والی نئی قدر کاکوئی جزو۔

اسی طریقے سے سوت کا -03پونڈ وزن ،جس میں باقی ماندہ سرمائے کے 4شلنگ متجسم ہیں ، محض 20پونڈ وزن کے سوت بنانے میں خرچ ہونے والے آلاتِ محن اور معاون مواد کو بیان کرتے ہیں۔

چنانچہ ہم درج ذیل نتیجے پر پہنچ چکے ہیں:اگرچہ مصنوعہ کا -03واں حصہ یا سوت کے 16پونڈ کار آمد چیز ہونے کے خاصے سے اتنی ہی کاتنے والے کے محن کی بنی ہوئی ہے جتنا کہ اس مصنوعہ کا باقی ماندہ حصہ بھی؛ تاہم جب اس کو اس نقطۂ نگاہ ے تحت دیکھا جاتا ہے تو اس میں کوئی ایسا محن شامل نہیں نہ ہی اس نے ایسا محن جذب کیا ہے جو کاتنے کے عمل کے دوران خرچ ہوا ہو۔ بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے روئی نے اپنے آپ کو بغیر کسی مدد کے سوت میں بدل لیا ہو؛ جیسے جو شکل اس نے حاصل کی ہے وہ محض شعبدہ بازی اور دکھاوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ہی ہمارا سرمایہ دار اسے 24شلنگ میں فروخت کرتاہے ،اور اس روپے سے وہ [استعمال شدہ] ذرائع پیداوار کی جگہ نئے ذرائع پیداوار لاتا ہے، اُس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ 16پونڈ وزن کا یہ سوت اِتنی روئی اور تکلے کی گھسائی کے ایک نئے روپ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

دوسری طرف مصنوعہ کا باقی-03 واں حصہ یا 4پونڈ وزن کا سوت محض 6شلنگ کی نئی قدر ہی کو بیان کرتا ہے جو 12گھنٹے کے کتائی کے عمل میں پیدا ہوئی تھی۔ خام مال اورخرچ شدہ آلاتِ محن سے اس4 پونڈ وزن میں منتقل ہونے والی ساری کی ساری قدر، یوں کہہ لیں کہ درمیان میں روک لی گئی تھی تاکہ 16پونڈ [سوت کی] پہلی کتائی میں مجتمع ہوسکے ۔ اس معاملے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کاتنے والے نے 4پونڈ سوت ہوا ہی سے کات ڈالا یا پھر اس نے اس [سوت]کو روئی اور تکلے کی مدد کے ذریعے کاتا، جس نے فطرت کا خود رو تحفہ ہونے کی وجہ سے مصنوعہ میں کوئی قدر منتقل نہیں کی۔

سوت کے یہ 4پونڈ جن میں نئی پیدا ہونے والی ساری کی ساری قدر اکٹھی ہو چکی ہے ، اس کا آدھہ حصہ خرچ ہونے والے محن کی قدر کا مساوی القدر بیان کرتا ہے، یعنی 3شلنگ کا تغیر پذیر سرمایہ؛ اور دوسرے آدھے حصے کے ذریعے 3شلنگ کی قدرِ زائد بیان ہوتی ہے۔

چونکہ کاتنے والے کی دہاڑی کے 12گھنٹے 6شلنگ میں متجسم ہوئے ہیں ،اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سوت کی 30شلنگ کی قدر میں 60گھنٹے کا کام مجتمع ہونا چاہیے۔ عرصۂ محن کی یہ مقدار در حقیقت 20پونڈ وزن کے سوت میں موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ -03ویں حصے یا 16پونڈ میں ذرائع پیداوار پر کتائی کا عمل جاری کرنے سے قبل 48 گھنٹے کا خرچ شدہ محن، یعنی ذرائع پیداوار پر [خرچ شدہ محن مجتمع ہے]۔ اور باقی -03ویں حصے یا 4پونڈ میں 12گھنٹے کا وہ کام شامل ہے جو خود [کتائی کے]عمل کے دوران سر انجام پایا۔

ہم پچھلے صفحوں پر دیکھ چکے ہیں کہ سوت کی قدر اِسی سوت کی پیداوار کے دوران نئی تخلیق ہونے والی قدر اور ذرائع پیداوار میں پہلے سے موجود قدر کے حاصلِ جمع کے مساوی ہے۔

اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مصنوعہ کی قدر کے اجزائے ترکیبی ، یعنی وہ حصے جو ایک دوسرے سے خواصی طور پر ممیز ہو تے ہیں ، کس طرح سے خود مصنوعہ کے اندر موجود ہم آہنگ تناسبی اجزا کے ذریعے سے بیان ہوتے ہیں۔

اس انداز میں مصنوعہ کو ایسے مختلف حصوں کی صورت میں تقسیم کرنا جن میں سے ایک حصہ اُس محنِ ماضی کو بیان کرے جو ذرائع پیداوار یعنی بقا پذیر سرمائے پر خرچ ہوا، دوسرا صرف اس محنِ لازم کو بیان کرے جو عملِ محن کے دوران خرچ ہوا، یعنی تغیر پذیر سرمائے کو؛ اور تیسرا اور آخری حصہ اسی عمل کے دوران خرچ ہونے والے محنِ زائد کو بیان کرے یعنی قدرِ زائد کو۔ اس کام کا کرنا جتنا سادہ ہے اُتنا غیر اہم نہیں جیسا کہ یہ اُس وقت نظر آئے گا جب اس کو پیچیدہ اور تا حال غیر حل شدہ مسائل پر لاگو کیا جائے گا۔

زیرِ بحث تحقیق میں ہم نے کُل مصنوعہ کو آخری نتیجے کے طور پر برتا ہے جو 12دن کی دہاڑی کے بعداستعمال کے لیے تیار ہے۔ ہم اس کُل مصنوعہ کا مطالعہ اس کی پیداوار کے تمام مراحل سے کر سکتے ہیں اور اس طریقے سے بھی ہمیں وہی نتیجہ حاصل ہو گا جو پہلے ہوا ہے یعنی اگر ہم اُن جزوی مصنوعات کو بیان کریں جو[مصنوعہ کی پیداوار کے] مختلف مدارج پر آخری یا کُل مصنوعہ کے خواصی طور پر مختلف اجزا کے بطور حاصل ہوتی ہیں۔

کاتنے والا 12گھنٹے میں 20پونڈ سوت تیار کرتا ہے جو 1گھنٹے میں-03 پونڈہوئی۔ اس طرح سے اُس نے 8گھنٹے میں -03پونڈتیار کی ؛یا پھر ایک ایسی جزوی مصنوعہ جو پوری دہاڑی میں کاتی جانے والی ساری روئی سے قدر میں مساوی ہے۔ اس انداز میں 1گھنٹے اور 36منٹ کے اگلے دورانیے کی جزوی مصنو




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

مصنوعہ کی قدر کے اجزا کا خود مصنوعہ کے متعلقہ اجزائے ترکیبی کے تناسبی حصوں کے ذریعے بیان ان داشلائوں میں استعمال ھے
قدرِ زائد کی شرح
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے