موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 824
عنوان موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 224602
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ - کی دوسری شاخیں-

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

فصلِ پنجم:

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔

چودھویں صدی کے نصف سے سترھویں صدی کے اختتام تک دیہاڑی کی توسیع کی بابت جابرانہ قوانین

دیہاڑی ہوتی کیا ہے؟اُس عرصے کی کیا طوالت ہو نی چاہیے جس دوران سرمایہ اپنی خریدی ہوئی قوتِ محن کو خرچ کر سکے؟ دیہاڑی کو اُس وقت سے کتنا زیادہ طویل کیا جا سکتا ہے جس میں خود قوتِ محن کی بحالی عمل میں آتی ہے؟ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس طرح کے سوالات کا جواب سرمایہ اس انداز میں دیتا ہے: دیہاڑی پورے 24 گھنٹے پر مشتمل ہوتی ہے جس میں سے چند ایک گھنٹے کم کئے جا سکتے ہیں اور جو قوتِ محن کے آرام کے لئے مختص ہیں جس کے بغیر قوتِ محن کام کے دوبارہ آغاز کے لئے بالکل تیار نہیں ہوتی۔ پس یہ بات ازخود عیاں ہے کہ مزدور کی ساری کی ساری زندگی قوتِ محن کے سوا اور کچھ نہیں؛ چنانچہ اُس کا سارے کا سارا قابلِ استعمال وقت فطرت اور قانون کی نظروں میں وقتِ محن ہے جو کہ سرمائے کی اپنی توسیع کے لئے وقف ہونا چاہئے ۔ ہر وہ وقت جو تعلیم کے لئے،ذہنی ارتقا کے لئے، سماجی فرائض اور سماجی تعلقات کی انجام دہی کے لئے اُس کی ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں کے آزادانہ استعمال کے لئے، حتیٰ کہ اتوار کے روز آرام کے لئے وقف ہے(اور وہ بھی اتوار کے دن مذہبی طور پر کام نہ کرنے والوں کے ملک میں)72؂ سب بے معنی بکواس ہے۔لیکن اپنے بے قابو اوراندھے جذبے میں اور قدرِ زائد کے لیے اپنی انسان نما بھیڑیے کی بھوک میں سرمایہ نہ صرف اخلاقی حدود پھاند جاتا ہے بلکہ دیہاڑی کی زیادہ سے زیادہ طبعی حدود بھی۔یہ جسمانی صحت و نشوونما اور ارتقاو بقا کے لیے درکارضروری وقت کو بھی غصب کر لیتا ہے۔یہ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی کے لیے مختص وقت کو بھی چُرا لیتا ہے۔ یہ کھانے کے اوقات پر بھی ٹھگی بازی کرتا ہے، اور جہاں ممکن ہوتا ہے اس کو پیداواری عمل میں مجتمع کر لیتا ہے۔حتیٰ کہ مزدور کو غذا بھی صرف ذرائع پیداوار کے طور پر ہی دی جاتی ہے؛ جیسے بوائلر کو کوئلہ اور مشنری کو تیل اور گریس مہیا کئے جاتے ہیں۔ یہ انسانی جسم کی بحالی، بجا آوری، تازگی کے لیے درکارپُرسکون نیند میں بھی کمی کر کے اس کو چند گھنٹوں کی غنودگی میں بدل دیتا ہے۔اور یہ غنودگی ایک مکمل طور پر تھکے ہوئے جسم میں دوبارہ تروتازگی کے لئے طاری ہونالازمی ہے۔قوتِ محن کی معمول کی بحالی [کے لئے درکار وقت] سے دیہاڑی کی حدود کا تعیین نہیں کیا جا سکتا؛ یہ تو قوتِ محن کے خرچ ہونے کی زیادہ سے زیادہ ممکن مقدار ہوتی ہے، چاہے [قوتِ محن کا]یہ خرچ کتنا مریضانہ، جابرانہ اور تکلیف دہ ہی کیوں نہ ہو ، یہی وہ پیمانہ ہے جس سے مزدور کے آرام کرنے کے دورانیے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ سرمائے کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ قوتِ محن کی عمر کس قدر طویل ہو گی۔ وہ واحد چیز جس سے سرمائے کو سرو کار ہے وہ زیادہ سے زیادہ قوتِ محن ہے جس کو ایک دیہاڑی میں استعمال میں لانا ممکن ہو۔اور یہ اس مقصد کو مزدور کی زندگی کا امکان گھٹاتے ہوئے حاصل کرتا ہے جیسے ایک لالچی کسان زمین کی زرخیزی کو لوٹ کر اس سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرتا ہے۔

اس طرح سے سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار( بنیادی طور پر قدرِ زائد کی پیداوار، اور محنِ زائد کی تجذیب )دیہاڑی کی طوالت کے ساتھ نہ صرف انسانی قوتِ محن کو اس کے پنپنے اور کام کرنے کی نارمل اخلاقی اور جسمانی صورتِ احوال سے محروم کرتی ہے ، بلکہ اس قوتِ محن کو قبل از وقت تھکا دیتی ہے اور اس کی موت کا باعث بنتی ہے۔73 ؂یہ مزدور کا پیداواری وقت طویل تو کر دیتی ہے مگر اس کی زندگی کے حقیقی وقت کو کم کردیتی ہے ۔

لیکن قوتِ محن کی قدر میں اُن اشیاء کی قدر بھی شامل ہے جو مزدور کی تخلیقِ نو کے لیے ، یا پھر اس کو مزدور طبقے میں برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اب اس صورت میں اگر دیہاڑی کی غیر فطری طوالت جس کے حصول کے لئے سرمایہ خود کو پھیلانے کی شدید ترین خواہش کے تحت ہر ممکن کوشش کرتا ہے،ایک مزدور کی زندگی میں اور نتیجتاً اُس کی قوتِ محن کے دورانیے میں کمی کا باعث بنے تو خرچ ہونے والی قوتوں کا متبادل زیادہ تیزی سے ضروری ہو جائے گا اور قوتِ محن کی تخلیقِ نو کے لیے درکار اخراجات بھی زیادہ ہو جائیں گے؛جیسے کسی مشین کے گھسنے کا عمل جتنا تیز ہو گا اس کی قدر کا روزانہ تخلیقِ نو پانے والا حصہ بھی اُسی قدر زیادہ ہو گا۔چنانچہ معلوم یہ ہو گا کہ خود سرمائے کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ دیہاڑی ایک معقول دورانیے کی ہو۔

غلاموں کا آقا مزدور کی خریداری اس طرح کرتا ہے جیسے اپنا گھوڑا خرید رہا ہو۔ اگر وہ اپنے غلام سے محروم ہو جائے تو وہ اُس سرمائے سے محروم ہو تا ہے جو غلاموں کی منڈی میں مزید سرمایہ کاری کرنے سے بحال ہو سکتا ہے۔ لیکن جارجیا کے چاول پیدا کرنے والے کھیت یا میسی سیپیMississippiکی دلدلیں انسانی صحت کے لیے خطرناک حد تک مہلک ہو سکتی ہیں، لیکن ان اضلاع میں ہونے والا انسانی جانوں کا نا گزیر ضیاع اس قدر بڑھا ہوا نہیں کہ ورجینا اور کِنٹکی کے گنجان آباد علاقوں سے پورا نہ ہو سکے۔تاہم جو معاشی مفاد ایک فطری نظام کے تحت غلام کی بقا کے ساتھ آقا کے مفادات سے مماثل ہوتے ہوئے غلام کے ساتھ شریفانہ انسانی سلوک کی ضمانت پیدا کرتا ہے ؛غلاموں کی تجارت کے عام ہونے کے ساتھ ہی اُن سے سخت ترین محنت لینے میں بدل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک بار اُس کی جگہ پُر کرنے کے لیے باہر کی منڈیوں سے کئی غلام مہیا ہو سکتے ہوں تو اِس صورت میں اُس کی زندگی کے دورانیے سے زیادہ اہم اُس کی پیداواری اہلیت بن جاتی ہے جتنی دیر تک بھی یہ قائم رہے۔غلام درآمد کرنے والے ممالک میں، یہ بات غلام رکھنے کاخود آموز اصول بن جاتی ہے کہ موثر ترین معیشت وہ ہو گی جو انسان حیوان میں سے انتہائی کم وقت میں محنت کی وہ زیادہ سے زیادہ مقدار کشید کر لے جتنی اُس میں اہلیت ہے۔ ٹراپیکل کلچر میں جہاں پر اکثر سالانہ نفع کاشت کاری پر خرچ ہونے والے سرمائے کے برابر ہوتاہے نیگرو سے انتہائی ظالمانہ برتاؤ کیا جاتا ہے۔ویسٹ انڈیز کا زراعتی نظام جو صدیوں سے دولت کے انباروں سے بھرا پڑا تصو




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ ان داشلائوں میں استعمال ھے
موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے