موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 824
عنوان موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 224606
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ - کی دوسری شاخیں-

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ر کیا جاتا رہا ہے، افریقی نسل کے لاکھوں افراد کو نگل چکا ہے۔ کیوبا میں ؛ جس کی مال گزاری لاکھوں سے تجاوز کر رہی ہے اور جس کے کاشت کار شہزادے ہیں؛ ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں غلام طبقہ سب سے زیادہ خستہ حال ہے جس کو سب سے کٹھن اور انتہائی تکلیف دہ انداز میں محنت کرناپڑتی ہے یہاں تک کہ ان میں سے ایک بڑا حصہ لقمۂ اجل بن جاتا ہے۔74؂

نام بدل دیں تو کہانی آپ کی بن جائے گی۔ اگر غلاموں کی تجارت کے بارے میں کچھ جاننا ہو توکنٹکی اور ورجینا کی محن کی منڈیوں ، اور سکاٹ لینڈ ، آئر لینڈ اور ویلز کے زرعی اضلاع اور افریقہ ، جرمنی کا حال پڑھیں۔ ہم نے دیکھا کہ لندن میں کثرتِ کار نے کس طرح سے بھٹیاروں کی تعداد کو کم کر دیا۔ تاہم لندن کی محن کی منڈی ہمیشہ جرمنی اور دیگر [مزدور ]امیدواروں سے کس طرح بھری رہتی ہے جو لندن کی روٹی کی صنعت میں اپنے لیے موت خریدتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں مٹی کے برتن بنانے والی صنعت بھی سب سے کم معیادِ زندگی والی صنعتوں میں سے ایک ہے ۔ کیا اس میں کبھی ظروف سازوں کی کوئی کمی رہتی ہے؟ جدید ظروف سازی کا موجد Josiah Wedgwood پہلے خود بھی ایک مزدور تھا؛ 1785میں ہاؤس آف کامنز کے روبرو کہتا ہے کہ اس پوری صنعت میں 15,000سے لے کر20,000لوگ ملازم ہیں۔75؂ سال 1861میں ،برطانیۂ عظمیٰ میں صرف اسی صنعت سے متعلقہ قصبوں کی آبادی 101,302 ہو گئی۔روئی کی صنعت 90سال کے عرصے تک قائم رہی ....۔اس عرصے میں انگریز کی تین نسلیں گزر گئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ میں یہ کہتے ہوئے انتہائی احتیاط برت رہا ہوں کہ اِس عرصے کے دوران اس صنعت نے فیکٹری چلانے والوں کی نو نسلیں برباد کر دیں۔76؂

اس میں شبہ نہیں کہ جب کام میں تیزی اور شدت کا رجحان ہوتا ہے تو بازارِ محن میں بہت واضح خلا نظر آتے ہیں۔ اس کی مثال ہم 1834میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں کارخانہ دار Poor Law Commissionersکے سامنے یہ تجویز رکھتے ہیں کہ زرعی اضلاع کی اضافی آبادیوں کو شمال کی جانب بھیج دیا جائے ، اور ساتھ یہ وضاحت بھی کرتے کہ کارخانہ داروں کو چاہیے کہ ان کو استعمال میں لائیں اور خرچ کر ڈالیں۔77؂؂ Poor Law Commissioners کے ساتھ معاہدوں کے تحت ایجنٹ مقرر کئے جاتے....۔ مانچسٹر میں ایک دفتر قائم کیا گیا جہاں پر زرعی اضلاع سے تعلق رکھنے والے نوکری کے متلاشی لوگوں کی فہرستیں مہیا کی جاتیں اور ان کے نام کھاتوں میں چڑھا لیے جاتے ۔ کارخانہ دار ان دفاتر میں جاتے اور اپنی مرضی کے افراد کو چُن لیتے ؛ اور جب وہ اپنی ضرورت کے افراد کا انتخاب کر لیتے تواُن کو مانچسٹر میں منگوانے کے بارے میں ہدایات صادر فرماتے۔ ان [افراد] کو نہروں کے ذریعے یا مال بردار گاڑیوں کے ذریعے بھیج دیا جاتا اور اُن پر سازوسامان کی طرح ٹکٹیں بھی چسپاں کی جاتیں۔ بعضوں کو سڑک کے ذریعے پیدل ہی روانہ ہونا پڑتا جن میں سے اکثر راستہ بھول جاتے اور نیم فاقہ کشی کا شکار ہو جاتے۔ اس نظام نے باقاعدہ تجارتی پیشے کی شکل اختیار کر لی۔ یہ ایوان اس بات پر مشکل ہی سے یقین کرے گا لیکن میں اِنہیں ضرور کہوں گا کہ انسانی گوشت کی یہ تجارت پوری آزادی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔ اور یہ مزدور اسی قدر باقاعدگی سے [مانچسٹرکے] کارخانہ داروں کے ہاتھ فروخت ہوتے ہیں جیسے ریاست ہائے متحدہ میں روئی کے کاشتکاروں کے ہاتھ غلاموں کی فروخت جاری ہے۔.... 1860میں روئی کی تجارت اپنے عروج پر تھی ۔..... ایک بار پھر کارخانہ داروں کو پتا چلا کہ ان کو مزدوروں کی قلت کا سامنا ہے۔....چنانچہ وہ ماس کے سوداگروںسے خواست گار ہوئے۔ اُنہیں یہی نام دیا جاتا تھا۔ اِن سوداگروں کو جنوبی انگلستان کے نشیبی علاقوں کی طرف ،ڈورسیٹ شائر کی چراگاہوں کی طرف، ڈیون شائر کے میدانی علاقوں کی طرف،وِلٹ شائر کے چرواہوں کی طرف بھیجا گیا مگر ہر طرف سے ناکامی کا سامنا ہوا۔آبادی کا اضافی حصہ پہلے ہی استعمال میں تھا۔ فرانسسی معاہدے کی تکمیل کے موقعے پر بیوری گارڈین نے کہا تھا کہ لنکا شائر میں 10,000اضافی مزدور بھی کام آ جائیں گے اور 30,000یا 40,000 مزدوروں کی مزید ضرورت پڑے گی۔ جب گوشت کے ایجنٹ اور ان کے معاونینزرعی اضلاع میں اپنی کوششوں میں ناکام ہو گئے تو لندن میں ایک وفدآیا اوررائٹ آنرایبل جینٹل مین[Poor Law Boardکے صدرمسٹر وِلرز ]سے اس مقصد کے لئے ملا کہ لنکا شائر کی مِلوں کے لئے یونین کے کسی مرکز سے غریب بچے حاصل کئے جا سکیں۔78؂

تجربہ سرمایہ دار کو آبادی میں مسلسل اضافے[کا اصول] سکھاتا ہے؛ یعنی ایسا اضافہ جو محنِ زائد چوسنے والے سرمائے کی عارضی ضروریات سے متعلق ہو،اگرچہ اس اضافے سے بنی نوع انسان کی کئی نسلوں کی جسمانی افزائش جامد ہو کر رہ جاتی ہے ، ان کی عمریں کم ہوجاتی ہیں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل بڑی تیزی سے آتی ہے؛ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ بلوغت میں داخل ہونے سے پہلے ہی موت اُن کو اُچک لیتی ہے۔79؂ اگر تاریخی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ ایک ذہین آدمی یہاں تک دیکھ لیتا ہے کہ سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار نے انسانوں کی قوتِ حیات کو اِس کی جڑوں سے کس قدر تیزی اور مضبوطی سے غصب کر لیا ہے۔اور یہ دکھایا ہے کہ صنعتی آبادی کی پستی اور تخریب کو مُلک کی قدیمی اور جسمانی طور پر خراب نہ کی گئی آبادی کی مسلسل تجذیب سے روکا جاتا ہے؛اور یہ بھی نظر آتا ہے کہ زمین سے بندھے ہوامزدور، تازہ ہوا اور فطری انتخاب کے اُصول کے ہوتے ہوئے، جو ان کے مابین بڑے زور سے عمل پذیر ہے اور صرف طاقتور ترین کی بقا کی اجازت دیتے ہیں، ان سب کے باوجود وہ قبل از وقت ہی مرنا شروع ہو جاتے ہیں80؂۔سرمایہ جس کے پاس مزدورں کے گروہ در گروہ کی تکالیف سے انکار کرنے کی ایسی معقول وجوہات ہوں،عملی طور پر مستقبل میں ہونے والے نسلِ انسانی کے اس انحطاط اور آخر کار آبادی میں کمی سے اتنازیادہ اور اتنا کم متاثر ہوتا ہے جتنااس خیال سے کہ زمین سورج میں گر جائے گی ۔

سٹے بازی میں ہونے والی ہر سنگین دھوکہ بازی کے بارے میں ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ کسی نہ کسی وقت شدید مندا ضرور ہونے والا ہے؛ اس کے باوجود ہر ایک کو یہی امید ہوتی ہے کہ یہ آفت قُرب وجوار ہی پرگرے گی جبکہ اُس پر بحفاظت زر کا نزول بدستور جاری رہے گا ۔ میرے بعد طوفانِ بلا خیز ہے!ہر ایک سرمایہ دار ا ور ہر سرمایہ دار قوم کا یہی ایمان محکم ہے۔چنانچہ سرمایہ اُس وقت تک مزدور کی صحت یا عمر کی طوالت سے لا پرواہی برتتا ہے جب تک کہ سماج کے دباؤ سے مجبور نہ ہو جائے۔81؂ جب[مزدور کی] جسمانی اور ذہنی پستی ، قبل از وقت موت اور کثرتِ کار کی اذیت کے خلاف آوازِ احتجاج بلند کی جاتی ہے تو یہ اِس انداز میں جواب گو ہوتا ہے:کیا ہم




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ ان داشلائوں میں استعمال ھے
موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے