موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 824
عنوان موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 225331
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ - کی دوسری شاخیں-

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ں ان چیزوں سے متاثر ہونا چاہئے جبکہ یہی ہمارے نفع کا باعث بھی بنتی ہیں؟لیکن انہی معاملات کو اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ صرف ایک سرمایہ دار کی ذاتی اچھائی یا برائی پر منحصر نہیں۔ آزاد مقابلے کی فضا ہی سرمایہ دارانہ نظام کے ماہیتی قوانین کو ایسے جابرانہ قوانین کی شکل میں وجود عطا کرتی ہے جو ایک انفرادی سرمایہ دار پر بھاری ہوتے ہیں۔ 82؂

ایک نارمل [معقول] دیہاڑی کا تعین سرمایہ دار اور مزدور کے درمیان صدیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ جدوجہد کی اِس تاریخ میں دو متضاد رُجحانات نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر دورِ حاضر کی English Fectory Legislationاور 14ویں صدی سے 18ویں صدی کے وسط تک کی English Labour Statutesکا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔83؂جبکہ جدیدفیکٹری ایکٹس نے دیہاڑی کی طوالت کو جبراً کم کر دیا ہے، اور سابقہ قوانین اس کی طوالت کو جبراً بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔یہ بات یقینی طور پر درست ہے کہ جن ادعا کا اظہار سرمایہ اپنے ابتدائی مدارج(مطلب یہ کہ جب سرمائے کی نشوو نما شروع ہوتی ہے تو یہ محنِ زائد کی ایک معقول مقدار کو جذب کرنے کا حق محض معاشی تعلقات کی قوت سے نہیں بلکہ ریاست کی مدد سے پاتا ہے )میں کرتا ہے وہ اُس وقت بڑے معقول نظر آئیں گے جب انہیں اُن مراعات کے سامنے رکھا جائے جو اسے کافی لے دے کے بعد اپنی ترقی یافتہ صورت میں چھوڑنا پڑتے ہیں۔ اس امر کے لیے صدیوں کو محیط وقت درکار ہوتا ہے کہ آزاد مزدور سرمایہ دارانہ نظامِ پیداوار کی ترقی کا مرہونِ منت ہوتے ہوئے اپنی تمام تر فعال زندگی، محنت کرنے کی پوری اہلیت کو ضروریاتِ زندگی کی قیمت کے عوض __یعنی اپنے پیدائشی حق کو چند نوالوں کے عوض__ بیچنے پر آمادہ ہو جائے یا پھر سماجی لازمیت کے باعث مجبور ہو جائے۔ پس یہ ایک فطری بات ہے کہ دیہاڑی کی طوالت میں اضافہ __جسے جوان مزدوروں پر ریاستی اقدامات کے ذریعے مسلط کرنے میں سرمایہ 14ویں صدی کے وسط سے لے کر 17ہویں صدی کے اختتام تک کوشاں رہا__ دیہاڑی کی طوالت میں کمی کے ساتھ جڑت رکھتا ہے، جو ہمیں اٹھارویں صدی کے نصفِ آخر میں بچوں کے خون کو سرمائے کے سکے بننے سے روکنے کے لئے حکومتی اقدامات کی وجہ سے کہیں کہیں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر آج Massachusettsکی ریاست میں( جو اب سے کچھ عرصہ قبل تک جمہوریہ شمالی امریکہ کی ایک آزاد ریاست تھی )دیہاڑی کی جو طوالت سرکاری طور پر 12سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے رکھی گئی ہے وہی 17ہویں صدی کے نصف میں معقول جسامت کے کاریگروں، جسیم مزدوروں اور قوی الجثہ لوہاروں کے لئے نارمل دیہاڑی تصور کی جاتی تھی۔ 84؂

سب سے قبل مزدوروں کا قانون( 23ایڈورڈ ثالث۔، 1349 )بنانے کا بہانہ اُس طاعون کو بنایا گیا تھا(یہ در حقیقت اس کی وجہ نہ تھا؛ کیونکہ اس قسم کے قوانین ایسے اسباب کے خاتمے سے صدیوں بعد بھی برقرار رہتے ہیں)جس نے انگلستان میں بڑی شدت اور تیزی سے آبادی کا صفایا کر دیا تھا؛ جیسا کہ ایک ٹوری مصنف کہتا ہے: لوگوں سے معقول شرائط پر کام لینے میں(یعنی ایسی قیمت پر جو اُن کے مالکان کے لئے محنِ زائد کی معقول مقدار چھوڑے )جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بڑھتے بڑھتے برداشت سے باہر ہو گئی تھیں ۔ 85؂چنانچہ دیہاڑی کی طوالت کی طرح معقول اُجرت کو بھی قوانین کے تحت ہی مقرر کیا گیا۔ آخرالذر پہلو [یعنی دیہاڑی ] جس سے ہمیں فی الوقت سروکار ہے 1496(ہینری VIIکا زمانہ )کے قانون میں اِس کا ذکر ایک بار پھر ملتا ہے۔ اس قانون کی رو سے تمام کاریگروں اور کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لئے مارچ تا ستمبر دیہاڑی کی طوالت( واضح رہے کہ اس قانون کو لاگو نہ کیا جا سکا )کو صبح 5بجے سے شام 7اور 8بجے تک رکھا گیا۔ لیکن اس دوران میں ایک گھنٹہ ناشتے کے لئے، -03 گھنٹہ ڈِنر کے لئے اور -03گھنٹہ سہ پہر کے کھانے کے لئے مختص تھے؛ یعنی آج کل جتنا وقت فیکٹری ایکٹس میں کھانے کے اوقات کے لئے مختص ہے اُس سے ٹھیک دگنا وقت۔86؂ سردیوں میں دیہاڑی کا دورانیہ صبح5بجے سے مغرب تک تھا جس میں کھانے کے لئے اتنا ہی وقت مختص تھا۔ الزبتھ کے 1562کے قانون میں روزانہ یا ہفتہ وار مزدوری پر کام کرنے والے مزدوروں کی دیہاڑی کی طوالت کے معاملے کو بالکل نہیں چھیڑا گیا؛ البتہ کھانے کے لئے مختص وقت کو کم کر کے گرمیوں میں -03 گھنٹے اور سردیوں میں 2گھنٹے کر دیا گیا۔ اس میں ڈِنر کے لئے 1گھنٹہ رکھا گیا اورقیلولے کے لئے 1گھنٹہ صرف نصفِ مئی سے نصفِ اگست تک مہیا کیا گیا۔غیر حاضری کے ہر گھنٹے پر 1پینی(pre-decimel )اُجرت سے کاٹا جانا لازم تھا۔ تاہم عملی طور پر حالات کتاب میں لکھے قوانین سے زیادہ مزدور کے حق میں جاتے تھے۔ سیاسی معاشیات کا باوا اور کسی حد تک شماریات کا بانی 17ہویں صدی کی آخری تہائی میں چھپنے والی اپنی ایک کتاب میں کہتا ہے: محنت کرنے والے لوگ(اُس وقت اِس سے مراد کھیت میں کام کرنے والے مزدور تھا )روزانہ 10گھنٹے کام کرتے ہیں ، اور ہر ہفتے 20بارکھانا کھاتے ہیں ؛ یعنی کام کے دنوں میں روزانہ 3 بار اور اتوار کے دن 2 بار۔ جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر وہ جمعہ کی راتوں کو بھوکوں رہ لیں اور -03 گھنٹے میں دو کے بجائے 12بجے سے 1بجے تک صرف ایک بار کھانا کھا ئیں تو اُن کے کام میں -03کا اضافہ ہو جائے گا اور خرچ میں -03کی کمی آ جائے گی؛ ممکن ہے کہ اس سے متذکرہ بالہ لگان کی ادائیگی کی جا سکے۔ 87؂ ڈاکٹر Andrew Ure 12گھنٹے کے 1833والے بِل کو جب احتجاجاً عہدِ تاریک کے قوانین سے گیا گزرا قرار دے رہے تھے تو کیا وہ اُس وقت حق بجانب نہ تھے؟ یہ بات بجا ہے کہ قوانین کے جن احکامات کا ذکر ولیم پیٹی نے کیا ہے وہ شاگردوں پر بھی اُتنے ہی لاگو ہوتے ہیں۔بچوں کے محن کے حالات 17ہویں صدی کے اختتام تک بھی جیسے تھے اُس کا اندازہ ہمیں ذیل کی شکایات سے ہو جاتا ہے: یہ اُن( اہلِ جرمنی )کا شیوہ نہیں جو وطیرہ اس ریاست میں ہمارا ہے کہ ایک شاگرد کو سات سال تک اُس ابتدائی درجے تک ہی رکھا جائے3یا 4سال تک تو اُن کا عام چلن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُنہیں بچپن ہی سے کسی عملی شعبے کی تربیت دی جاتی ہے جس کے




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ ان داشلائوں میں استعمال ھے
موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے