موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 824
عنوان موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 225330
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ - کی دوسری شاخیں-

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

باعث اُن میں زیادہ فرمانبرداری اور فنی سگھڑاپا پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے پیشے میں مہارت اور پختگی حاصل کرنے کی اہلیت حاصل کر لیتے ہیں۔ جبکہ یہاں انگلستان کے ہمارے نوجوان جب کام سیکھنے کے لیے آتے ہیں تو ہنر سے بالکل نا بلد ہونے کی وجہ سے کام میں مہارت حاصل کرنے کے لئے انہیں ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ 88؂

اب بھی ، 18ہویں صدی کے معتدبہ حصے کے دوران یعنی صنعت و حرفت کے جدید دور تک انگلستان میں سرمایہ اس قابل نہ ہوا تھا کہ قوتِ محن کی ہفتہ وار ادائیگی کر کے مزدور کا سارا ہفتہ اپنے لئے مخصوص کر لے، تاہم زرعی مزدور مستثنیات میں ہے۔ یہ حقیقت کہ مزدور 4دن کی مزدوری پر پورا ہفتہ گزارا کر سکتے ہیں اُن کے لئے ایسی کافی وجہ بنتی ہوئی نظر نہیں آتی کہ اُنہیں باقی کے دو دن سرمایہ دار کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انگریز معیشت دانوں کا ایک گروہ سرمائے کے مفاد میں[مزدوروں کی] ایسی ضد پر بہت کڑی نقطہ چینی کرتا ہے؛ جبکہ ایک دوسرا گروہ مزدوروں کے حق کی بات کرتا ہے۔مثال میں ہم Postlethwaytجس کی تجارتی لغت__ اُس کے وقت میں اس کتاب کی ایسی ہی شہرت تھی جیسی آج کل MacCullochاور MacGregorکی کتب کی ہے__کا موازنہ Essay on Trade and Commerceکے مصنف( جس کا حوالہ ماقبل دیا گیا ہے )سے کرتے ہیں89؂۔

Postlethwaytدوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ: ہم اُن چند مشاہدات پر ،اُس زبان زدِ عام گھسے پٹے خیال کو جانے بغیر روک نہیں لگا سکتے کہ اگر غریب محنتی مزدوروں کو پانچ دن کے کام سے اپنے گذارے کے لئے کافی کچھ میسر آ جائے تو وہ پورے چھ دن کام نہیں کریں گے۔اس سے وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ضروریاتِ زندگی کو بھی ٹیکسوں یا کسی اور ذریعے سے مہنگا کرنا لازمی ہے تاکہ کارخانے کے مزدور اور کاریگر ہفتے کے پورے چھ دن ،بغیر وقفے کے، کام کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ چنانچہ میں اُن جیّد ماہرینِ سیاسیات کے جذبات سے اختلاف کرنا چاہوں گا جو اس مُلک کے مزدوروں کی دائمی غلامی کی حمایت کرتے ہیں ؛ وہ اس بھونڈی کہاوت کو بھول گئے ہیں کہ صرف کام ہی کام اور کھیل کا نہ لو نام ۔ کیا انگلستان اپنے مزدور فن کاروں کی مہارت اور صناعی پر فخر نہیں کرتا جس کی وجہ سے انگریزی سازوسامان کی شہرت میں اتنا اضافہ ہوا ہے؟ یہ سب کچھ کس وجہ سے ممکن ہوتا رہا ہے؟ غالباً اس کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں کہ مزدور پیشہ افراد کو اُن کے کام کی مناسبت سے ہی آرام کا موقع دیا جائے۔کیا اُن کو پورا سال کام کرنے پرمجبور نہیں کیا جاتا ، اور ایک ہفتے کے پورے چھ دن، اِس ایک ہی کام کے تکرار کے ساتھ؛ تو کیا یہ بات اُن کی مہارت پر اثر انداز نہیں ہو گی اور اُنہیں چاک و چوبند اور چوکنا کرنے کے بجائے بے وقوف اور کاہل نہیں کر دے گی؛ تو کیا اس سے ہمارے مزدور ایسی ابدی غلامی کی وجہ سے اپنی شہرت کو کھو نہیں دے گا؟..... پھر سختی سے ہانکے گئے ایسے جانور سے آپ کس قسم کی مہارت کی توقع کر سکیں گے؟.... اُن میں بہت سے ایسے ہیں جو چار دن میں اُتنا ہی کام کر جاتے ہیں جتنا ایک فرانسیسی 5یا 6دن میں کرے گا۔لیکن اگر انگریز ایسے جفاکش جنور ہی ثابت ہوتے رہے تو خطرہ ہے کہ وہ فرانسیسی مزدورو ں سے بھی اسفل تر ہو جائیں گے۔ جیسا کہ ہمارے عوام کی جنگی بہادری ایک مثال بن چکی ہے ؛ توکیاہم یہ نہیں کہتے کہ اس کی وجہ انگریزوں کا وہ عمدہ بھنا گائے کا گوشت اور پڈنگ ہے جسے وہ نذرِ شکم کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ان میں روحِ آزادی کا موجود ہونا ہے؟ پھر ہمارے فن کاروں اور کاریگروں کی اعلیٰ صناعی اور مہارت ایک ایسی آزادی اور حریت کی بنا پر کیونکر ممکن نہیں جو اُن کی راہنمائی خود اُن کے اپنے راستے پر کرے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم اُنہیں ایسی مراعات اور بہتر سہولیاتِ زندگی سے محروم نہیں کریں گے جن سے اُن کی فنی اُپج اور [محنت کرنے کی] جرأت پید اہو سکتی ہے۔ 90؂اس بات کے جواب میں Essay on Trade and Commerceکا مصنف رقم طراز ہے: اگرہر ساتویں دن چھٹی منانے کو کسی الوہی قانون کے طور فرض کر لیا جائے؛ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ دوسرے چھ دن محن کے لئے مخصوص کر دئے گئے ہیں( محن سے اُس کی مراد سرمایہ ہے جیسا کہ ہم عنقریب دیکھیں گے )اگر اس کو لاگو کر دیا جائے تو یقینا اسے ظالمانہ تصور نہیں کیا جائے گا....۔ یہ کہ عوام الناس کو عمومی طور پر دیکھا جائے تو یہ فطرتاً کاہل اور آرام طلب ثابت ہوئے ہیں ؛ ہم پر اس کا تجربہ تباہ کُن انداز میں سچ ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم صناعوں پر مشتمل اپنی آبادی کا جائزہ لیتے ہیں جو ہفتے میں اوسطاً چار دن سے زیادہ کام نہیں کرتے تا آنکہ ضروریاتِ زندگی کی قیمت بہت زیادہ نہ بڑھ جائے۔ ..... ہم غریب مزدور کی تمام ضروریاتِ زندگی کو ایک چیز ہی تصور کر لیتے ہیں اور فرض کریں کہ وہ چیز گیہوں ہے۔ یا فرض کریں کہ ...... گیہوں کے ایک بُشل(29سیر )کی قیمت 5شلنگ ہے؛ اور یہ کہ وہ اپنی محنت سے ہر روز ایک شلنگ کما سکتا ہے اس طرح سے وہ ہفتے کے صرف پانچ دن کام کرے گا۔ اور اگر گیہوں کے ایک بُشل کی قیمت صرف چار شلنگ رہ جائے تو اب وہ ہفتے کے صرف چار دن ہی کام کرنے پر اکتفا کرے گا۔ لیکن چونکہ اس ملک میں اُجرتیں اُس کی ضروریاتِ زندگی کی نسبت کہیں زیادہ ہیں ..... اس لئے جو کاریگر ہفتے میں صرف چار دن ہی کام کرتا ہے اُس کے پاس اتنا فالتو روپیہ موجود ہے کہ باقی کے دن فارغ رہ کر گزار سکے۔ ..... میرا خیال ہے کہ میں اس بارے میں کافی کچھ کہہ چکا ہوں کہ ہفتے میں اوسطاً چھ دن کام کرنا کسی قسم کی غلامی نہیں۔ ہمارا مزدور طبقہ یہی کچھ کر رہا ہے اور وہ ہر اعتبار سے تمام محنت کش غریبوں سے بہت خوش ہیں۔91؂لیکن ہالینڈ کے مزدور اتنا ہی کام کارخانوں میں کرتے ہیں اور بڑے خوش باش لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ جب چھٹیاں نہیں آتیں تو فرانسیسی بھی اِتنا ہی کام کرتے ہیں ۔92؂ لیکن ہماری آبادی کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ چونکہ وہ انگریز ہیں اس لئے وہ تمام یورپی اقوام کی نسبت زیادہ آزادی اور حریت سے فیض یاب ہونا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ اب جہاں تک یہ خیال ہماری فوج کی بہادری کا سبب بنتا ہے توہو سکتا ہے کہ اس سلسلے میں کسی کام کا ہو ؛ لیکن کارخانوں میں کام کرنے والا غریب اس اصول پر جتنا کم عمل کرے گااس سے خود اُس کا اور مملکت کا اُتنا زیادہ فائدہ ہے۔ مزدور طبقے کو اس بات کا کبھی گمان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آقاؤں سے آزاد ہیں....۔ یہ انتہائی خطرناک بات ہے کہ ہمارے ملک جیسی صنعتی ریاست کے محنت کش افراد کی ان معاملات میں حوصلہ افزائی کی جائے؛ ایسے حالات میں کہ جب ہر آٹھ میں سے سات افراد کسی بھی قسم کی ذاتی ملکیت سے عاری ہوں۔ ایسی صورتِ حال کا علاج پوری طرح سے اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہمارا محنت کش غریب 4دن کی اُجرت میں پورے چھ دن کام کر کے مطمئن نہیں ہو جاتا۔93




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔ ان داشلائوں میں استعمال ھے
موزوں دیہاڑی کے حصول کے لیے جد وجہد۔
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے