مینوفیکچر کادو رُخا آغاز : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 835
عنوان مینوفیکچر کادو رُخا آغاز
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 242101
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مینوفیکچر کادو رُخا آغاز کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مینوفیکچر کادو رُخا آغاز - کی دوسری شاخیں-

مینوفیکچر کادو رُخا آغاز


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

فصلِ اول: مینوفیکچر کادو رُخا آغاز

فصلِ اول: مینوفیکچر کادو رُخا آغاز

SECTION 1. TWOFOLD ORIGIN OF MANUFACTURE

ترجمہ: امتیاز حسین، ابن حسن



وہ اشتراکِ عمل جس کی بنیاد محن کی تقسیمِ کار پر ہے ، اپنی مخصوص بنتر مینوفیکچر میں اختیار کرتا ہے؛ اور یہ سرمایہ دارانہ پیداواری عمل کی ،مینوفیکچر کے سارے دور میں،مروجہ مخصوص بنتر ہے ۔ اگر سرسری طور پر کہا جائے تو مینوفیکچرسولہویں صدی کے وسط سے اٹھارویں صدی کی آخری تہائی تک پھیلا ہواہے۔

مینوفیکچر کی ابتدا دو انداز میں ہوتی ہے:

1)ایک کارگاہ میں ایک ہی سرمایہ دار کے زیرِ نگیں مختلف انفرادی دستکاریوں سے وابستہ مزدوروں کی جمع بندی سے__ لیکن جن کے ہاتھوں میں کوئی مخصوص چیز اپنی تکمیل کے مراحل طے کرتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگلے وقتوں میں ایک [گھوڑا] گاڑی بہت سے خود مختار دستکاروں کے محن سے بنتی تھی: جیسے پہیہ ساز، گھوڑا گاڑی کا سازوسامان بنانے والے، درزی، تالہ ساز،سیٹیں بنانے والے، خرادئے، پلّو بنانے والے، شیشہ ساز، صیقل گر، اور ملمع کار وغیرہ۔ تاہم گاڑی سازی میں مختلف قسم کے ان تمام دستکاروں کو ایک ہی عمارت میں جمع کر دیا جاتاجہاں وہ مل جُل کر کام کرتے۔ یہ سچ ہے کہ ایک گاڑی جب تک مکمل نہیں ہوتی اُس پر ملمع کاری ممکن نہیں ہوتی۔ لیکن اگر گاڑیوں کی کچھ تعداد بیک وقت تیار کی جا رہی ہو تواُن میں سے کچھ تو ملمع کاروں کے ہاتھ میں ہوں گی،اور باقی اس سے پہلے مراحل طے کر رہی ہوں گی۔ چونکہ ہم ابھی تک سادہ اشتراکِ عمل کے حلقۂ اثر تک محدود تھے ، جس میں مواد آدمیوں اور چیزوں کی شکل میں تیار موجود ملتا ہے۔ لیکن جلد ہی ایک اہم تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ درزی، گھوڑے کا سازوسامان بنانے والے اور دیگر دستکار اب گاڑی سازی کے کام میں مکمل طور پر مگنہو چکے ہیں۔ہرکوئی مشق کے فقدان کی وجہ سے اپنی پہلے والی ہنر مندی کو اُس کے کمال کی سطح پر جاری رکھنے کی اہلیت آہستہ آہستہ کھو دیتا ہے۔لیکن دوسری طرف اُس کی کارکردگی ایک خاص حد میں رہتے ہوئے ایسی بنتر اختیار کر لیتی ہے جو اس کے عمل کے تنگ دائرے میں بہترین ہے۔ پہلے گاڑی سازی مختلف آزاد دستکاریوں کی جڑت ہوا کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ یہ گاڑی سازی کے مختلف جزئیاتی عملوں کا الگ الگ ہوجانا بن جاتا ہے جن میں سے ہر ایک حصہ ایک خاص مزدور کے الگ تھلگ منصب تک مرکوز ہو جاتا ہے جبکہ مینوفیکچر کو بحیثیت مجموعی بہت سے لوگ اکٹھے مل کر جاری رکھتے ہیں۔اسی انداز میں کپڑا بافی بھی، اور دیگر مینوفیکچروں کے مکمل سلسلے دستکاریوں کو ایک سرمایہ دار کے کنٹرول میں اکٹھا کر دینے ہی سے معرضِ وجود میں آ سکے۔1؂

2 )مینوفیکچر کا آغاز اس سے بالکل متضاد انداز میں بھی ہوا__مطلب یہ کہ جب ایک سرمایہ دار بیک وقت ایک کارگاہ میں بہت سارے دستکار لگا دیتا ہے،اور وہ سب ایک ، یا پھر ایک ہی قسم کا کام کرتے ہیں۔ جیسے کاغذ، ٹائپ مشین یا سوئی بنانا۔ یہ اشتراکِ عمل کی انتہائی بنیادی شکل ہے۔ ان دستکاروں میں سے ہر کوئی( غالباً ایک یا دو معاونین کے ساتھ)مکمل شے بناتا ہے، چنانچہ وہ اس کی پیداوار کے لئے درکار تمام امور کو باری باری سرانجام دیتا ہے۔ وہ اب بھی دستکاری کے اپنے قدیم انداز ہی میں کام کرتا ہے۔لیکن بہت جلد خارجی حالات اُسے اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ ایک ہی جگہ پر کام کرنے والے مزدوروں کی توانائیوں کے ارتکاز اور ان کے بیک وقت کام [کرنے کی صلاحیت] سے مختلف کام لے ۔ غالباً چیزوں کی بڑھی ہوئی مقدار کو ایک مخصوص وقت میں مہیا کرنا مقصود ہے۔ چنانچہ کام کی باز تقسیم ہوتی ہے۔ بجائے یہ کہ ہر آدمی تمام جزئیات کو باری باری سرانجام دے، اُنہیں مربوط اور علیحدہ امور میں بدل دیا جاتا ہے، جو ساتھ ساتھ جاری بھی رہتے ہیں۔ ہر کام ایک مختلف کاریگر کو تفویض کر دیا گیا ہے،اور ان جزئیات کا کُل اشتراکِ عمل میں آنے والے مزدور بیک وقت سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ اتفاقی باز تقسیم (repartition )دوہرائی جاتی ہے، اپنے فائدے خود ہی پیدا کرتی ہے اوردرجہ بدرجہ ایک منظم محن کی تقسیمِ کار میں بدل جاتی ہے۔ اب شے ایک آزاد کاریگرکی انفرادی مصنوعہ سے کاریگروں کے ایک جمِ عفیر کی سماجی مصنوعہ بن جاتی ہے۔ ان میں سے ہر کاریگر جزوی امور میں سے صرف اور صرف ایک ہی کوسرانجام دیتا ہے۔ وہی امورجو کاغذ بنانے والوں کے جرمن گِلڈguildمیں ایک صناع کار کے مختلف کاموں کا سلسلہ ہوتے ہوئے ایک دوسرے میں ضم ہوگئے تھے، ولندیزی کاغذ سازی میں ایسے بہت سارے جزوی کام بن گئے جنہیں اشتراکِ عمل میں آنے والے کئی مزدور بیک وقت جاری و ساری رکھے ہوتے تھے۔نورمبرگ Nurembergکا سوئی بنانے والا [ادارہ] وہ بنیاد تھا جس پر انگلستانی سوئی بنانے کی صنعت کی عمارت کھڑی کی گئی۔ لیکن جس دوران نورمبرگ میں ایک کاریگر اس سلسلے میں غالباً مختلف قسم کے 20امور کو باری باری سرانجام دیتا تھا، اُس سے زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں کہ انگلستان میں سوئی بنانے والے 20آدمی ساتھ ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان میں سے ہر ایک ان 20امور میں سے ایک ہی سرانجام دے رہا ہے۔ اور بعد کے تجربات کے نتیجے میں ان 20امور میں سے ہر ایک کو ایک بار پھر لخت لخت کر کے اُنہیں الگ الگ مزدوروں کے امور بنا دیا گیا۔

جس وضع سے مینوفیکچر کا آغاز ہوتا ہے،یعنی دستکاری سے اس کی نشوونما ہوتی ہے، وہ وضع اسی لیے دو رُخی ہے۔ایک طرف تو یہ مختلف آزاد دستکاریوں کی وحدت سے ابھرتی ہے ،جو[آزاد دستکاریاں] اپنی آزادی سے مبرا ہو تے ہوئے مہارت کی وہ حد پا تی ہیں کہ ایک خاص شے کی پیداوار کے سلسلے میں ایک معاون جزوی عمل تک محدود ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف یہ دستکاری[یا فن] کے کاریگروں کے اشتراکِ عمل سے پھوٹتی ہے۔ یہ اُس مخصوص دستکاری کو اس کے مختلف جزئیاتی امور میں لخت لخت کر دیتا ہے، اور انہیں یہاں تک الگ الگ کردیتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے آزاد ہو جاتے ہیں اور ان میں سے ہر جزوکسی خاص مزدور کا مخصوص منصب بن جاتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف مینوفیکچر یا تو محن کی تقسیمِ کار کو پیداواری عمل میں متعارف کرادیتی ہے یا پھر اس تقسیمِ کار کو مزید وسعت دیتی ہے۔ دوسری طرف یہ اُن دستکاریوں کو بھی یکجا کرتی ہے جو ماقبل الگ الگ تھیں۔ لیکن اس کا نقطۂ آغاز چاہے جو بھی رہا ہو اس کی حتمی بُنتر بے بدل طور پر وہی رہتی ہے۔ یعنی ایک ایساافزودہ میکانزم جس کے اجزاء انسان ہیں۔

مینوفیکچر میں محن




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

مینوفیکچر کادو رُخا آغاز ان داشلائوں میں استعمال ھے
مینوفیکچر کادو رُخا آغاز
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے