مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 839
عنوان مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 239947
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ - کی دوسری شاخیں-

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ


فصلِ پنجم:

SECTION. 5

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ

THE CAPITALISTIC CHARACTER OF

MANUFACTURE

ایک سرمایہ دار کے اختیار میں مزدوروں کی بڑھی ہوئی تعداد جس طرح اشتراکِ عمل کا فطرتاً عمومی حیثیت سے نقطۂ آغاز ہے اسی طرح یہ خصوصی حیثیت سے مینوفیکچر کا نقطۂ آغاز ہے۔ لیکن مینوفیکچر میں محن کی تقسیمِ کار مزدوروں کی تعداد میں اس اضافے کو ایک تکنیکی لازمیت بنا دیتی ہے۔ مزدوروں کی وہ کم از کم تعداد جو ایک سرمایہ دار لگانے پر مجبور ہے اُسے یہاں محن کی پہلے سے قائم کی گئی تقسیمِ کار متعین کرتی ہے۔دوسری طرف مزید تقسیم کے فوائد صرف اس وقت حاصل کئے جا سکیں گے جب مزدوروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، اور ایسامحض مختلف جزویاتی جتھوں کی انواع و اقسام کے اضافے ہی سے ممکن ہے۔ لیکن لگائے گئے سرمائے کے تغیر پذیر اجزاء میں اضافہ اس کے بقا پذیر اجزاء میں بڑھت کو بھی یقینی بناتا ہے، مطلب یہ ہواکہ کارگاہوں ، اور آلات وغیرہ میں ، اور خاص طور پر خام مال میں جس کی ضرورت مزدوروں کی تعداد دمیں اضافے سے بھی زیادہ رفتار سے پڑتی ہے۔ اس کی جتنی مقدار کو مزدوروں کی خاص تعداد ایک خاص وقت میں خرچ کرتی ہے وہ اسی تناسب میں بڑھے گی جس میں تقسیمِ کار کے نتیجے میں محن کی پیداواری قوت بڑھتی ہے۔ پس یہ مینوفیکچر کی نوعیت پر منحصر ایک ایسا قانون ہے کہ سرمائے کی وہ کم از کم مقدار جو ہر سرمایہ دار کے پاس ہونی ضروری ہے، بڑھتی رہنی چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں سماجی ذرائع پیداوار اور ذرائع بقا کی سرمائے میں تبدیلی کو بڑھتے رہنا چاہئے۔39؂

سادہ اشتراکِ عمل کی مانند مینوفیکچر میں بھی ، کام کرنے والا اجتماعی organismسرمائے کے وجود کی ایک شکل ہے۔ وہ میکانزم جس کی ساخت متعدد انفرادی جزویاتی مزدوروں پر مبنی ہو سرمایہ دار کی ملکیت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزدوروں کے اشتراک کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیداواری قوت یوں لگتا ہے جیسے سرمائے کی پیداواری قوت ہو۔ مینوفیکچر نہ صرف پہلے سے آزادانہ کام کرنے والے مزدور کو سرمائے کے نظم و اختیار میں دیتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ خود مزدور کی بھی اوپر سے نیچے درجہ بندی کرتی ہے۔ اگر سادہ اشتراکِ عمل آزاد آدمی کے کام کی نوعیت پر کافی حد تک اثر انداز نہیں ہوتا ، تو مینوفیکچر اُسے مکمل طور پر انقلاب سے آشنا کر دیتی ہے، اور قوتِ محن کی تو بنیاد ہی بدل دیتی ہے۔ یہ مزدور پر جزویاتی ہنر مندی ٹھونس کر اس کی پیداواری صلاحیتوں اور جبلتوں کی ایک دُنیا کے بدلے اسے بے ہنگم قسم کا معذور بنا دیتی ہے ،بالکل La Plataکی ریاستوں کی طرح جہاں کھال یا اون حاصل کرنے کے لئے پورا جانور ہی مار ڈالتے ہیں۔ نہ صرف مختلف افراد کے درمیان بٹنے والا جزویاتی کام بلکہ خود مزدور کو بھی ایک جزوی امر کاحرکت کنندہ بنا دیا جاتا ہے۔40؂چنانچہ Menenius Agrippaکی وہ بے سروپا حکایت درست معلوم ہونے لگتی ہے جس میں انسان کو خود اُسی کے جسم کا فقط ایک حصہ بنا دیا گیا ۔41؂ پہلے تو مزدور اپنی قوتِ محن کو سرمائے کے آگے بیچتا ہے کیونکہ ایک شے کی پیداوار کے مادی ذرائع اس کے پاس نہیں، لیکن اب اس کی اپنی قوتِ محن اُس وقت تک اپنی خدمات دینے سے انکاری ہے جب تک یہ سرمائے کے ہاتھ بک نہیں جاتی۔ اس کے مناصب کو صرف اُسی ماحول میں سرانجام دیا جا سکتا ہے جو فروخت کے بعد سرمایہ دار کی کارگاہ میں پایا جاتا ہے۔ مینوفیکچر سے متعلقہ مزدور چونکہ آزادانہ طور پر کوئی چیز بنانے کا اہل نہیں ہوتا اس لئے وہ ایسی پیداوارانہ سرگرمی کو محض ایک سرمایہ دار کی کارگاہ کی ضمنیات کی صورت میں ترقی دیتا ہے۔42؂ جیسے چنیندہ لوگ اپنی وضع قطع میں اعضائے باری تعالیٰ کی علامات رکھتے ہیں، اسی طرح محن کی تقسیمِ کار مزدوروں پر سرمائے کی ملکیت کی چھاپ لگا دیتی ہے۔

جس علم، بصیرت اور قوتِ فیصلہ کا مظاہرہ__اگرچہ یہ بہت چھوٹی سطح پر ہے__دستکار یا آزاد کسان کرتا ہے، بالکل اسی انداز میں جیسے ایک وحشی جنگ کا پورا فن تشکیل دیتا ہے، جس کا سارا دارومدار اُس کی ہوشیاری پر ہے__کارگاہ کے لئے ان لیاقتوں کی صرف اجتماعی طور پر ضرورت ہے۔ پیداوار میں ذہانت یک سمتی انداز میں بڑھتی ہے، کیونکہ بہت سی دیگر سمتوں میں یہ غائب ہو جاتی ہے۔ جس چیز سے جزویاتی مزدور محروم ہو جاتا ہے وہ اُس سرمائے میں مجتمع ہو جاتی ہے جو اُنہیں استعمال میں لاتا ہے۔43؂ manufacturesمیں محن کی تقسیمِ کار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مزدور کو پیداواری عمل کی قوتوں کے روبرو آ نا پڑتا ہے جو کسی اور کی ملکیت ہیں اور اس کے لئے حاکم قوت ہے۔ اس علیحدگی کا آغاز سادہ اشتراکِ عمل میں ہوتا ہے، جہاں سرمایہ دار ایک تنہا محن کار کے لئے محن کے اشتراک اور مرضی کی نمائندگی کر تا ہے ۔ مینوفیکچر میں اسے ارتقا ملتا ہے، جو محن کو ایک جزویاتی مزدور میں تبدیل کر دیتی ہے اورجدید صنعت میں اس کا تکملہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ سائنس کو ایک ایسی پیداواری قوت میں بدل دیتی ہے جو محن سے تخصیص رکھتی ہے اور اِسے سرمائے کی خدمت کے لئے تیار کرتی ہے۔44؂

مینوفیکچر میں اجتماعی مزدور کو اور اُس کے ذریعے سرمائے کو سماجی پیداواری قوت میں ترقی دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہر مزدور کو اُس کی انفرادی پیداواری قوت میں کم کیا جائے۔‘‘ جہالت، اوہام پرستی کی مانند صنعت کی بھی ماں ہے۔ اندیشہ اورواہمہ غلطی کا باعث بنتے ہیں؛ لیکن ہاتھ یا پاؤں کوجنبش دینے کی عادت ان دونوں سے بالا ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح مینوفیکچر بھی صرف وہاں زیادہ بار آور ثابت ہوتے ہیں جہاں دماغ کا استعمال بہت کم ہو، اور جہاں کارگاہ کو ایک ایسا... انجن تصور کیا جائے جس کے پُرزے انسان ہیں۔45؂حقیقت یہ ہے کہ 18ہویں صدی کے وسط میں کچھ مشینی پیداکار ایسے تھے جوکچھ ایسے امور کے لئے پسماندہ ذہن کے لوگ لگاتے،جنہیں تجارتی راز کہا جا سکتا ہے۔46؂

آدم سمتھ کہتا ہے :‘‘ افراد کی ذہنی صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ اُن کے عام استعمال کے آلات سے تشکیل پاتا ہے۔ جس شخص کی ساری زندگی چند سادہ امور کی انجام دہی میں گزر گئی ... اُسے اپنی ذہنی استعداد کو بروئے کار لانے کا کوئی موقع نہیں ملتا... ۔ جتنا ایک انسان کے لئے احمق ہونا ممکن ہے وہ عموماً اس حد تک احمق اور جاہل بن کر رہ جاتا ہے ۔ جزویاتی مزدوروں کی حماقتوں کو بیان کرنے کے بعد وہ مزید کہت




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے