مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 839
عنوان مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 240288
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ - کی دوسری شاخیں-

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

ا ہے:‘‘ اُس کی جامد زندگی کی یکسانگی اُس کے ذہنی صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے...۔ یہ اُس کی جسمانی سرگرمیوں تک کو زنگ آلود کر دیتی ہے، اور اُسے اتنا نا اہل بنا دیتی ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو پوری اہلیت اور تندہی کے ساتھ اُن آلات کے علاوہ کسی اور پر استعمال ہی نہیں کر سکتا جن پر اُس کی تربیت ہوئی ہے۔اس انداز میں یوں لگتا ہے جیسے اپنے مخصوص شعبے میں اس کی مہارت اُس کی ذہنی ، سماجی اور تنومندانہ خصوصیات کے عوض حاصل ہوئی ہے۔ لیکن ہر ترقی یافتہ اور مہذب سماج میں یہ ایک ایسا درجہ ہے جس میں محنت کش غریب، مطلب یہ کہ، لوگوں کے ایک جمِ عفیر کو یقینا گِر جانا ہے۔47؂ محن کی تقسیمِ کار کی وجہ سے لوگوں کے ایک جمِ عفیر کو اس تنزلی سے بچانے کے لئے آدم سمتھ ریاست کے ذریعے عوام الناس کی تعلیم کا بند وبست تجویز کرتا ہے، لیکن [یہ تعلیم] بڑی سوجھ بوجھ سے اور چھوٹی چھوٹی خوراک کی شکل میں دی جانی چاہئے۔ اُس کا فرانسیسی مترجم اور مبصر G. Garnier ، جو فطری بات ہے کہ تاجِ فرانس اول کے تحت سنیٹر بن گیا تھا، کچھ عجب نہیں کہ اس نقطے پر اُس کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ عوام الناس کی تعلیم محن کی تقسیمِ کار کے اولین قانون میں رخنہ ڈالتی ہے، اور اس کی وجہ سے‘‘ ہمارا سارا سماجی نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔وہ کہتا ہے:‘‘ محن کی دیگر تمام تقسیموں کی طرح ، دستی محن اور ذہنی محن کی تقسیم اس تناسب سے واضح اور حتمی ہے،48؂جس تناسب سے معاشرہ( وہ اس لفظ کو سرمائے ،زمینی ملکیت اور اُن کی ریاست کے لئے بالکل ٹھیک استعمال کرتا ہے)‘‘ زیادہ ترقی پا جائے۔ محن کی دوسری تمام تقسیموں کی طرح یہ بھی ماضی ہی کا نتیجہ اور مستقبل کی ترقی کا ذریعہ ہے... تو کیاپھرحکومت کو چاہئے کہ وہ محن کی اس تقسیمِ کار کے خلاف اور اس کی فطری راہ مسدود کرنے کے لئے کام کرے؟ تو کیا اِسے عوامی دولت کا ایک حصہ اس کوشش میں خرچ کر دینا چاہیے کہ محن کے اُن دو طبقوں کو ایک دوسرے میں خلط ملط اور ضم کردیا جائے جوتقسیم اور علیحدگی کے لئے کوشاں ہیں؟ 49؂

ذہن اور جسم کا کسی حد تک مفلوج کیا جانا سماج میں بحیثیتِ مجموعی محن کی تقسیمِ کار سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔تاہم چونکہ مینوفیکچر میں محن کی شاخوں کی یہ علیحدگی جاری رہتی ہے، اور یہ بھی ہے کہ اس کی اپنی مخصوص تقسیم ایک فرد کی زندگی کی جڑوں کو نشانہ بناتی ہے، یہ وہ پہلی چیز ہے جو صنعتی علم الابدانpathologyکے لئے مواد اور نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہے۔50؂

‘‘ ایک شخص کی مزید تقسیم کرنا اس کی گردن زدنی کے مترادف ہے، اگر وہ اس سزا کا حق دار ہے: اسے فریب سے موت کی نذر کر دینا...محن کی تقسیمِ کار ایک سماج کی ہلاکت کے مترادف ہے۔51؂

اشتراکِ عمل جس کی بنیاد محن کی تقسیمِ کار ، یا دوسرے لفظوں میں مینو فیکچر پر ہو ، ایک خود کار تشکیل کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ جونہی اسے کسی طرح کا استحکام اور توسیع حاصل ہوجائے یہ سرمایہ دارانہ پیداوار کی سند یافتہ باضابطہ اور با اصول بُنتر بن جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مینوفیکچر سے مخصوص ، محن کی صحیح معنوں میں تقسیمِ کار کو کیونکر بہترین انداز میں ڈھلی ہوئی بُنتر اولاً تجربے سے حاصل ہوتی ہے، جیسے یہ پہلے تو ادا کاروں کے پسِ پشت تھی ، اور پھر گِلڈ کی دستکاریوں کی مانند جب یہ بُنتر حاصل ہو جاتی ہے تو[محن کی تقسیمِ کار] اسے کس طرح اپنی گرفت میں مضبوط رکھنے کی کوشش کرتی ہے، اور کہیں کہیں اس کو صدیوں اُسی حالت میں رکھنے میں کیونکر کامیاب ہوتی ہے۔ اس بُنتر میں آنے والی کوئی بھی تبدیلی ، سوائے معمولی معاملات کے ،آلاتِ محن میں بپا ہونے والے انقلابات کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ جدید مشینی پیداوارچاہے کہیں بھی اُبھری ہو__یہاں میراشارہ مشینری کی بنیاد پر استوار ہونے والی صنعت کی طرف نہیں__‘بکھرے ہوئے عناصریا تو تیار شدہ حالت ہی میں پاتی ہے اور صرف ان کے اکٹھے ہو جانے کا انتظار کرتی ہے جیسے بڑے بڑے قصبات میں کپڑے کی مینوفیکچر کا معاملہ ہے؛ یا پھر یہ محض کسی بھی دستکاری کے مختلف امور( جیسے جِلد بندی )کو مخصوص افراد کے ذمے لگاتے ہوئے تقسیم کے اصول کو باآسانی لاگو کر سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں مختلف امور سرانجام دینے والے ضروری مزدوروں کی تعداد کے تناسب کے تعین کے لئے محض ایک ہفتے کا تجربہ ہی کافی ہوتا ہے۔52؂

دستکاریوں کے لخت لخت ہونے، آلاتِ محن کے تخصیص میں آ جانے، جزویاتی مزدوروں کے تشکیل پانے ، اور پھر آخرالذکر دونوں کو ایک جتھے کی صورت صرف ایک ہی میکانزم میں اکٹھا کرنے سے مینوفیکچر میں محن کی تقسیمِ کار ایک خواصی درجہ بندی ، اور پیداوار کے سماجی عمل میں مقداری تناسب اختراع کر لیتی ہے۔ چنانچہ یہ سماج کے محن کو بھی ایک خاص انضباط میں لے آتی ہے، پھر اس کے ساتھ ہی سماج میں نئی پیداواری قوتیں بھی پروان چڑھاتی ہے۔اپنی مخصوص سرمایہ دارانہ بُنتر میں مینوفیکچر __اور مخصوص حالات میں یہ سرمایہ دارانہ بُنتر کے علاوہ کوئی اور بُنتر اختیار ہی نہیں کر سکتی__ محض متعلقاتی قدرِ زائد حاصل کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے، یا پھر ایک مزدور کے عوض سرمائے کے خود کار پھیلاؤ کا حصول،__اسے عموماً سماجی دولت،‘‘ اقوام کی دولتوغیرہ کہا جاتا ہے۔یہ نہ صرف مزدور کے بجائے سرمایہ دار کے فائدے کے لئے مزدور کی سماجی پیداواری قوت میں اضافہ کرتی ہے ، بلکہ یہ تو ایسا صرف انفرادی مزدوروں کو مفلوج کرتے ہوئے ہی کر سکتی ہے۔ چنانچہ اگر ایک طرف یہ اپنے آپ کو تاریخی طور پر سماج کی معاشی ترقی کے ایک ضروری درجے کے بطور پیش کرتی ہے ، تو دوسری طرف یہ استحصال کا تطہیر شدہ اور مہذب طریقہ ہے۔

سیاسی معاشیات ، جس کا آغاز ایک آزاد سائنس کی حیثیت سے ابتدائی طور پر مینو فیکچر کے عہد میں ہوا،53؂ محن کی سماجی تقسیم کو صرف مینوفیکچر ہی کے نقطۂ نظر سے دیکھتی ہے، اور اس میں محن کی خاص مقدار کے ساتھ اشیاء کی زیادہ مقدار پیدا کرنے، اور نتیجتاً اشیاء کو سستا کرنے اور سرمائے کے ارتکاز کی سُرعت کی اہلیت دیکھتی ہے۔ مقدار اور قدرِمبادلہ پر اس زور کے برعکس قدیم کلاسیکی دور کے مصنفین کا رویہ ہے جو صرف معیار اور قدرصرف ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔54؂ پیداوار کی سماجی شاخوں کی علیحدگی کے بعد اشیاء بہتر انداز میں بنائی جاتی ہیں، افراد کے مختلف رجحانات اور لیاقتیں ایک موزوں میدان کا چناؤ کرتی ہیں، 55؂اور کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر کہیں بھی اہم نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔56؂ پس پیداوار اور پیداکار ہر دو کو محن کی تقسیمِ کار سے ترقی ملتی ہے۔ اگر پیدا شدہ چی




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ1
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے