مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 839
عنوان مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 239948
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ - کی دوسری شاخیں-

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2-گذشتہ صفحہ

وں کی مقدار کی بڑھوتی کی گاہے گاہے نشاندہی ہوتی ، تویہ صرف اقدارِصرف کی بہتات کے حوالے سے ہوتی۔ایک بھی لفظ موجود نہیں جو قدرِ مبادلہ یا اشیا کو سستا کرنے کی طرف اشارہ کر رہا ہو۔اگر محض قدرِ صرف ہی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس پہلو کا افلاطون 57؂نے بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے نزدیک محن کی تقسیمِ کار وہ بنیاد ہے جس پر سماج کی طبقات میں تقسیم ہوتی ہے،جیسا کہ 58؂Xenophonنے کہا تھا، جو خاص بورژوازی جبلت کے ساتھ کارگاہ کے اندر محن کی تقسیمِ کار کے زیادہ قریب چلا جاتا ہے۔ افلاطون کی‘‘ ری پبلکمیں محن کی تقسیمِ کار کو ریاست کے جس تشکیلی اصول کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے وہ محض ذات پات کے مصری نظام کی بابت ایتھنز والوں کا آئیڈئلزم ہی ہے۔ مصر نے اپنے کئی ہم عصر ملکوں کے لئے صنعتی ملک کے ماڈل کی حیثیت پیش کی۔ اس نے دوسروں کے ساتھ ساتھ 59؂Isocratesکو بھی متاثر کیا ، اور یہ سلطنتِ روما کے یونانیوں کے لیے اس اہمیت کا حامل رہا۔60؂

خاص مینوفیکچر کے دور میں__ مطلب یہ کہ وہ دور جس دوران مینوفیکچر ایک ایسی بُنتر تھی جو سرمایہ دارانہ نظامِ پیداوار میں کثرت سے حاوی تھی__ بہت سی رُکاوٹیں ایسی ہیں جو مینوفیکچر کے خاص رُجحانات کی مکمل ترقی کے آڑے آئیں۔ اگرچہ مینوفیکچر مزدوروں کی ہُنر یافتہ اور غیر ہُنر یافتہ محنوں کی صورت میں سیدھی سادی علیحدگی کرتی ہے، جیسا کہ پہلے دیکھا جا چکا ہے، اورساتھ ہی اُنہیں محض طبقات کی شکل میں سلسلہ وار انداز کی ترتیب بھی دے دیتی ہے ، اس کے باوجود ہنر یافتہ مزدوروں کے محن کے بھاری بھر کم اثرات کی وجہ سے غیر ہنر یافتہ مزدوروں کی تعداد بہت محدود رہ جاتی ہے۔ اگرچہ یہ جزویاتی امور کو صناعی، قوت اور محن کے زندہ آلات کی ترقی کے موافق بناتی ہے جس سے عورتوں اور بچوں کے استحصال کے دروازے کھل جاتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ رجحان کام کرنے والے مردوں کی عادتوں اور مزاحمت کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہوتا ہے۔ اگرچہ دستکاریوں کے الگ الگ ہو جانے سے مزدور کی تشکیل پر ہونے والے اخراجات کم ہو جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے اُس کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے ، اس کے باوجود زیادہ مشکل جزویاتی کام کے لئے زیادہ دورانئے کی شاگردی کی کی ضرورت ہوتی ہے، اور اگرچہ جہاں یہ بے مقصد بھی ہو گا تب بھی اس پر [استاد] مزدور مُصر ہو گا۔ مثال کے طور پر انگلستان میں سات سال کے [سکھلائی کے ] وقت کے ساتھ شاگردی کے قوانین نظر آتے ہیں جو مینوفیکچر کے عہد کے اختتام تک پورے زوروشور سے جاری رہے اور اُنہیں جدید صنعت کے آنے تک ترک نہیں کیا گیا۔ چونکہ دستکاری کی مہارت مینوفیکچر کی بنیاد ہے، اور اگرچہ مینوفیکچر کا میکانزم مجموعی طور پر کوئی ڈھانچہ framework نہیں رکھتا ، خود مزدوروں کے علاوہ ،سرمائے کو مسلسل طور پر مزدور کی عدم ماتحتی insubordination سے نبٹنا پڑتا ہے۔ فرینڈ یورے کہتا ہے:‘‘ انسانی فطرت کے لاغری پن کی وجہ سے ہوتایوں ہے کہ مزدور جتنی زیادہ مہارت کا حامل ہے، وہ اتنا ہی من موجی اور بے مہار بننے کی کوشش کرتا ہے، اور پھر یقینا ایک ایسے میکانیکی نظام کے ایک حصے کو ...مجموعی طور پر وہ زیادہ نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ 61؂ پس مینوفیکچر کے سارے عہد کے دوران مزدوروں میں نظم وضبط کی کمی کی برابر شکایات ملتی رہی ہیں۔62؂ اوراگر ہمارے پاس موجودہ دور کے مصنفین کی شہادتیں موجود نہ ہوتیں کہ وہ مشینی پیداکار تھوڑی دیر کام کرتے تھے ، نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کے ساتھ اپنی رہائشوں کو ایک ملک سے دوسرے میں منتقل کرتے رہتے، یہ حقائق پوری بات کھول دیتے کہ سولہویں صدی سے لے کر جدید صنعت کے آغاز تک کے عرصے میں سرمایہ مینوفیکچر سے متعلقہ مزدوروں کے تمام کے تمام قابلِ استعمال وقت کو اپنے تابع کرنے میں ناکام رہا۔ 1770میںEssays on Trade and Commerce کا مصنف کہتا ہے جس کا بار بار حوالہ دیا جاتا ہے:‘‘ کسی نہ کسی انداز میں نظم و ضبط ضرور قائم ہونا چاہئے۔ اس سے 66سال بعد ڈاکٹر اینڈریو یورے پھر اسی‘‘ آرڈر،کا غُل مچاتا ہے،اس‘‘ آرڈر کا اُن مینوفیکچر میں فقدان تھا جس کی بنیاد‘‘ مینوفیکچر کی مذہبی تقسیمِ کارپر تھی، اور‘‘ Arkwrightنے یہ آرڈر قائم کر دیا۔

اسی وقت مینوفیکچر یا تو سماجی پیداوار پر مکمل طور پر حاوی ہونے میں کامیاب نہ ہو سکی ، یا پھر اس پیداوار میں مکمل انقلاب نہ لا سکی ۔ یہ قصباتی دستکاریوں اور دیہاتی گھریلو صنعتوں کی وسیع بنیادوں پر ایک معاشیاتی فن کی حیثیت سے اُبھری ۔ اپنے ارتقا کی ایک خاص حد پر وہ تنگ تکنیکی بنیادیں جن پر مینوفیکچر استوار ہوتی ہے اُن پیداواری ضروریات کے ساتھ ٹکرا جاتی ہے جو خود مینوفیکچر ہی کی پیدا کردہ تھیں۔

اس کی کامل ترین تخلیقوں میں سے ایک خود آلاتِ محن کوبنانے کی کارگاہ تھی، جس میں خاص طور پر وہ پیچیدہ سازوسامان شامل ہے جو ماقبل ہی سے استعمال ہوتا چلا آرہا ہے۔ یورے کہتا ہے کہ ایک مشین والا کارخانہ‘‘ محن کی تقسیمِ کار کو کئی تہہ در تہہ مدارج میں دکھاتا ہے، جس میں رندہ، برما، اور خراد،جن میں سے ہر ایک پر مختلف مزدور کام کرتے ہیں جن کی مہارت بھی مختلف درجے کی ہوتی ہے۔( ص.21 )اس کارگاہ نے، جو مینوفیکچر میں محن کی تقسیمِ کار کی تخلیق ہے، اپنی باری آنے پر مشینیں پیدا کیں۔ یہ مشینیں ہی ہیں جو ایک دستکار کے کام کو بطورسماجی پیداوار کے انتظامی اصول کے ختم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اس طرح ایک طرف ایک جزویاتی امر کے ساتھ ایک مزدور کی پوری زندگی کی وابستگی ختم کر دی جاتی ہے۔ دوسری طرف وہ زنجیریں بھی دور ہو جاتی ہے جو اسی اصول نے سرمائے کے تسلط پر ڈالی تھیں۔

___________________________________________________




ٹوٹل صفحے3
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2-گذريل صفحو

مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ ان داشلائوں میں استعمال ھے
مینوفیکچر کا سرمایہ دارانہ خاصہ
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے