مینوفیکچر کی دو اساسی بُنتریں: غیر متجانس مینوفیکچر ، مسلسل مینوفیکچر : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 837
عنوان مینوفیکچر کی دو اساسی بُنتریں: غیر متجانس مینوفیکچر ، مسلسل مینوفیکچر
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 226021
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

مینوفیکچر کی دو اساسی بُنتریں: غیر متجانس مینوفیکچر ، مسلسل مینوفیکچر کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

مینوفیکچر کی دو اساسی بُنتریں: غیر متجانس مینوفیکچر ، مسلسل مینوفیکچر - کی دوسری شاخیں-

مینوفیکچر کی دو اساسی بُنتریں: غیر متجانس مینوفیکچر ، مسلسل مینوفیکچر


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3-گذشتہ صفحہ

یں سے ایک یعنی بھٹی کو مشترک طور پر استعمال میں لاتے ہوئے اس کے زیادہ کفایتی استعمال کا باعث بنتا ہے۔ اپنے چار سے چھ جتھوں کے ساتھ ایسی بھٹی ایک شیشہ خانہ تشکیل دیتی ہے۔ اور ایک گلاس مینوفیکچری میں ایسے شیشہ خانوں کی ایک خاص تعداد ہوتی ہے جس میں سازوسامان اور مزدور آخری مرحلے تک کی تیاری کے لئے موجود ہوتے ہیں۔

آخر میں، جیسے مینوفیکچر کا آغاز جزوی طور پر تو مختلف قسم کی دستکاریوں کے اکٹھ سے ہوتا ہے، اسی طرح اس کا ارتقامختلف( مینوفیکچریوں)manufacturesکے اکٹھ میں بھی ہو جاتا ہے۔ مثا ل کے طور پر انگلستان کے بڑے شیشہ ساز اپنے مٹی کے پگھلانے والے برتن خود بناتے ہیں کیونکہ [شیشہ بنانے کے ]عمل کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار کافی حد تک ان کی معیاد پرہوتا ہے۔یہاں پر ذرائع پیداوار میں سے ایک کی مینوفیکچر مصنوعہ کی پیداوارسے جُڑی ہوتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ اس مصنوعہ کی مینوفیکچرکسی دوسری مینوفیکچرں کے ساتھ جُڑی ہوئی ہو جس کے لئے یہ مصنوعہ خام مال ہو، یا بعد ازاں جس کی مصنوعات کے ساتھ یہ خود ہی مل جائے۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ چقماق کے شیشے کی مینوفیکچر شیشہ کاٹنے اور پیتل ڈھالنے کی پیداوار کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ آخرالذکر میں شیشے کی بنی ہوئی مختلف چیزوں پر دھات چڑھائی جاتی ہے۔ مختلف مینوفیکچریں کم وبیش اسی طرح سے ایک بڑی مینوفیکچر کے الگ الگ شعبے تشکیل دیتے ہیں۔ لیکن یہ بیک وقت خود مختا امور بھی ہیں اور ہر ایک میں محن کی خود اپنی وضع کی تقسیمِ کار ہوتی ہے۔ مینوفیکچر کے ایسے اجماع سے حاصل ہونے والے بہت سارے فوائد کے با وجود یہ خود اپنی بنیاد پر کبھی بھی ایک مکمل تکنیکی عمل کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ یہ محض اُس وقت ہوتا ہے جب اُسے مشینری سے چلائی جانے والی ایک صنعت کی شکل دے دی جائے۔

مینوفیکچر کے دورکی ابتدا میں یوں ہوا کہ اشیاء کی پیداوار کے لئے درکارلازمی وقتِ محن میں کمی کرنے والا اصول16؂ قبول کرتے ہوئے منضبط کر دیا گیا اور کہیں کہیں مشینوں کا استعمال نمودار ہونے لگا، بالخصوص ایسے سادہ ابتدائی امور جن کی انجام دہی کے لئے بڑے پیمانے پر زیادہ قوت لگانا پڑتی ۔ پس کاغذ کی مینوفیکچر کے ابتدائی دور میں چیتھڑوں کو پھاڑنے کا کام خود پیپر مِل ہی میں ہوتا تھا۔ اور دھاتی کاموں میں کچ دھاتوں کو کوٹنے کا کام stampingمِلوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔17؂ سلطنتِ رومہ نے ساری کی ساری مشینری کی ابتدائی شکل کو پن چکی کی شکل میں آئندہ نسلوں کے لئے متعین کیا۔18؂

دستکاری کا دور جاتے جاتے ہمیں قطب نما compass، گن پاؤڈر، ٹائپ پرنٹنگ اور خود کار گھڑیال کی ایجادات دے گیا۔ لیکن مجموعی طور پر مشینری نے اتنا معمولی کردار ادا کیا جو آدم سمتھ اسے محن کی تقسیمِ کار سے موازنہ کرتے ہوئے تفویض کرتا ہے۔19؂ سترھویں صدی میں مشینری کا خال خال استعمال بہت زیادہ اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس نے اُس وقت کے ریاضی دانوں کو ایک عملی بنیاد فراہم کی اور میکانیات کوسائنس کی تشکیل کے سلسلے میں متحرک کیا۔

کُلیاتی مزدور،جو کثیر تعداد کے جزویاتی مزدوروں کے اکٹھ سے بنتا ہے، مشینری ہے ، یہ خاص طور پر مینوفیکچر کے دور کی خاصیت ہے۔ وہ مختلف امور جنہیں شے کا پیداکار باری باری سرانجام دیتا ہے اور جو پیداواری عمل میں ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں، مختلف انداز میں اُس پر ذمہ داریاں ڈالتے ہیں۔ ایک امر میں اُسے زیادہ قوت لگانا ضروری ہے ، دوسرے میں زیادہ مہارت اور تیسرے میں زیادہ توجہ؛ اور ایک ہی فرد میں یہ تمام خصوصیات مساوی طور پر موجود نہیں ہوتیں۔ جب ایک بار مینوفیکچر مختلف امور کو الگ الگ ، خود مختار اور تنہا کر دیتی ہے تو مزدوروں کی نمائیاں خصوصیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُن کی تقسیم ، درجہ بندی اور گروہ بندی کر دی جاتی ہے۔اگر ایک طرف اُن کی فطری صلاحیتیں وہ بنیاد ہیں جسے مدِ نظر رکھتے ہوئے محن کی تقسیمِ کار تشکیل دی جاتی ہے، تو دوسری طرف ،جب ایک بار مینوفیکچر نافذ ہو جائے تو ان میں ایسی نئی قوتیں تشکیل دیتی ہے جو فطری طور پر ہی محدود اور خاص خاص امور کی انجام دہی کے لئے موزوں ہوتی ہیں۔ اب کُلیاتی مزدور میں پیداوار کے لئے درکار تمام خصوصیات مہارت کے مساوی درجے میں یکجا ہو چکی ہیں اوروہ اپنے تمام اعضاء کو مکمل طور پر بروئے کار لاتے ہوئے اُنہیں بہت کفایت سے استعمال کرتا ہے۔ یہ اعضا مخصوص مزدور یا مزدوروں کے جتھوں پر مشتمل ہوتے ہیں جو اپنے ذمے مناصب کی انجام دہی کرتے ہیں۔20؂ جزویاتی مزدور کی یکسانگی اور خامیاں اُ س وقت حُسن بن جاتے ہیں جب وہ [مزدور]کُلیاتی مزدوروں کا حصہ ہو جائے۔ 21؂صرف ایک کام کرنے کی عادت اُسے کبھی نہ چوکنے والے آلے میں بدل دیتی ہے؛ جبکہ سارے میکانزم کے ساتھ اُس کا ربط اُس کومشین کے پُرزے کے انداز کی باقاعدگی سے کام کرنے پر مجبور کرتا ہے۔22؂

چونکہ کُلّیاتی مزدور کے ذمے سادہ و پیچیدہ اور بلند و پست تمام اقسا م کے مناصب ہوتے ہیں، اُس کے اراکین یعنی محن کی انفرادی قوتیں، تربیت کے مختلف مدارج کی محتاج ہوتی ہیں چنانچہ اُن کی اقدار بھی مختلف ہونی چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مینوفیکچر محن کی قوتوں کا ایک درجہ بدرجہ سلسلہ( hierarchy )قائم کر دیتی ہے جس کے مطابق اُجرتوں کا میزان scale وضع ہوتاہے۔ اگر ایک طرف انفرادی مزدوروں کو زندگی بھر کے لئے ایک محدود کام کے لئے حاصل کر لیا جاتا ہے تو دوسری طرف درجہ بدرجہ لڑی hierarchy کے مختلف افعال مزدوروں کے درمیان اُن کی فطری اور تحصیل شدہ صلاصیتوں کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں۔23؂ تاہم ہر پیداواری عمل میں ایسی سادہ خوش سلیقگیاں درکار ہوتی ہیں جن کی انجام دہی کا ہر شخص اہل ہے۔ لیکن اب وہ بھی اس زیادہ فعال عمل کے مرحلوں سے ٹوٹ کر علیحدہ ہو کر اکیلے افعال بن چکے ہیں اور معین کئے گئے خاص مزدوروں کے تنہا امور بن چکے ہیں۔ پس مینوفیکچر اپنے اختیار میں آنے والی ہر دستکاری میں نام نہاد غیر ہنر یافتہ مزدوروں کا ایک گروہ پالیتی ہے__ایک ایسا گروہ جسے دستکاری کی صنعت مکمل طور پر خارج کر دیتی تھی۔ اگر یہ کسی فرد کی کُل استعدادِ کار کے عوض کسی یک رُخی تخصیص کو ایک کمال میں ترقی دے دیتی ہے، تو یہ تمام کی تمام ترقی کی عدم موجودگی کو ایک تخصیص کا درجہ دینے کا آغاز بھی کر دیتی ہے۔ سلسلہ وار درجہ بندی hierarchic gradationکے ساتھ ساتھ مزدوروں کو ہنر یافتہ اور غیر ہنر یافتہ کی سادہ تقسیم بھی عمل میں آتی ہے۔ آخرالذکر میں شاگردی کا خرچ ختم ہو جاتا ہے اور اول الذکر میں یہ دستکار کی نسبت سے کم ہو جاتاہے، اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ امور کو سادہ تر بنا دیا گیا ہے۔ ہر دو معاملات میں قوتِ محن کی قدر ہی کم ہوتی ہے۔24؂ اس اصول کا ایک استثنائی پہلواُس وقت صادق آتا ہے جب بھی عملِ محن کی تقسیم decompositionنئے اور جامع امور حاصل کر لے، جن کی یا تو سرے سے




ٹوٹل صفحے4
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3-گذريل صفحو

No Article found
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے