نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 826
عنوان نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر
شاخ دیہاڑی
پڑھا گیا 178779
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر کے بنیاد
دیہاڑی / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر - کی دوسری شاخیں-

نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر


شاخ دیہاڑی
ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1-گذشتہ صفحہ

فصلِ ہفتم:۔ نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر

Section 7._ The Struggle for the Normal Working-Day.

Re-action of the English Factory Acts

on the other Countries



قاری کے ذہن میں ہو گا کہ قدرِ زائد کی پیداوار یا محنِ زائد کو نچوڑناہی سرمایہ دارانہ نظامِ پیداوار کا مخصوص منشاء و منتہا، جوہر و خاصہ ہے؛ اور اس کا طبعِ پیداوار میں آنے والی ایسی کسی تبدیلی سے کوئی تعلق نہیں جو مزدور کے سرمایہ دار کے محکوم ہونے کی وجہ سے آئے۔قاری کو یہ بھی یاد ہو گا کہ جیسا کہ اس عمل سے ہم حال ہی میں دوچار ہوئے ہیں کہ صرف خود مختار مزدور ہی _یعنی ایک ایسا مزدور جو قانوناً اپنے لئے کام کرنے کا مجاز ہو_ایک شے کا حامل ہونے کی حیثیت سے سرمایہ دار کے ساتھ معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔چنانچہ ہمارے تاریخی خاکے میں اگر ایک طرف جدید صنعت اور دوسری طرف اُن افراد کا محن جو نابالغ ہیں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تواول الذکر کی مثال ہمارے نزدیک محض ایک خاص شعبے کی تھی؛ جبکہ آخرالذکراستحصالِ محن کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ہماری آئندہ تحقیق کے درجہ بدرجہ ارتقا کوذہن میں رکھے بغیر ، فقط موجودتاریخی حقائق کے تعلق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے:

اولاً: دیہاڑی کو بے رحمانہ اور لا محدود انداز میں طول دینے کے لئے سرمائے کی خواہش کی تسکین اُن صنعتوں سے ہوئی جن میں آبی قوت، بھاپ، اور مشینری نے اولین طور پر انقلاب برپا کیا؛یعنی جدید طبعِ پیداوار کی اُن ابتدائی مصنوعات میں جن میں روئی، اون، سِن، اور ریشم کی کتائی اور دھاگہ کی تیاری شامل ہیں۔مادی طبعِ پیداوار میں آنے والی تبدیلی اور ان سے وابستہ پیدا کنندگان کے سماجی رشتوں میں آنے والی تبدیلیوں 151؂نے سب سے پہلے تو تمام حدود کو پھلانگتی ہوئی زیادتیوں کو جنم دیا ؛ اور پھر اس سے متضاد جاتے ہوئے؛ سماج کے اُس حصے پر تسلط حاصل کیا جو دیہاڑی اور اس کے دوران کئے جانے والے وقفوں کو قانوناً منضبط کرتا تھا اور اس کی حدود کا تعین کرتا تھا۔انیسویں صدی کے نصفِ اول میں یہ غلبہ محض ایک غیر معمولی قسم کی قانون سازی معلوم ہوتا ہے۔152؂پھر جیسے ہی نئی طبعِ پیداوار کا یہ قدیم قلعہ فتح ہوا تو یہ پتا چلا کہ اسی اثنا میں نہ صرف پیداوار کی دیگر شاخوں نے یہی کارخانہ داری کا نظام اپنانا شروع کر دیا ہے ؛ بلکہ ظروف سازی ، شیشہ سازی وغیرہ جیسی صنعتیں جو کم وبیش فرسودہ نظام کو تاحال اپنائے ہوئے تھیں؛ اور قدیم طرز کی دستکاریاں جیسے بیکری کاکام،اورآخر میں کیل سازی 153؂جیسی نام نہاد گھریلو صنعتیں بھی طویل عرصے سے بالکل فیکٹری کے نظام کی طرح مکمل طور پر سرمایہ دارانہ استحصال کے زیرِ اثر آ چکی تھیں۔چنانچہ قانون سازی کو مجبور کیا گیا کہ اس غیر معمولی خاصے سے بتدریج چھٹکارا پائے، یا ، جیسا کہ انگلستان میں، یہ رومیوں کی لفظی عیاری کے استعمال سے اس گھر کو کارخانہ قرار دے جہاں کام کیا جاتا تھا۔ 154؂

ثانیاً: پیداوار کی مخصوص شاخوں میں دیہاڑی کو منضبط کرنے کی تاریخ ، اور اس انضباط کے حوالے سے [صنعت کی] دوسری شاخوں میں تا حال جاری جدوجہد حتمی طور پر یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ایک تنہا مزدور _یعنی ایسا مزدور جو اپنی قوتِ محن کوآزادانہفروخت کر سکتا ہے _ کسی قسم کی مزاحمت کا مظاہرہ کئے بغیراس وقت سرمایہ دارانہ پیداوار کی گرفت میں آجاتا ہے جب یہ ایک بار کسی مخصوص درجے تک پہنچ جاتی ہے ۔ چنانچہ ایک معقول دیہاڑی کا قیام ایک طویل خانہ جنگی کے بعد ہی ممکن ہوا ہے جو کہ قریب قریب ڈھکے چھپے انداز میں سرمایہ دار اور مزدور کے درمیان جاری تھی۔ چونکہ یہ تحریک جدید صنعت کے دور میں جاری رہی اس لئے یہ مکمل طور پر سب سے پہلے اس صنعت کے گھر یعنی انگلستان ہی میں پھیلی۔155؂ انگلستان کے صنعتی کارکنان نہ صرف خود انگلستان کے چیمپیئن تھے ، بلکہ عمومی طور پر جدید مزدور طبقے کے بھی ؛ جیسا کہ ان کے نظریہ ساز سرمائے کا نظریہ سمجھنے میں سب کے پیش رو ثابت ہوئے۔156؂پس کارخانے کے فلسفی Ureنے انگلستانی مزدور طبقے پر اس بات کو بد نما دھبا قرار دیا ہے کہ اُنہوں نے قوانینِ کارخانہکے الفاظ کو اُس پرچم پر لکھوایا ہے جس کو اُنہوں نے مزدور کی مکمل آزادی حاصل کرنے کے لئے سرمائے کے خلاف بلند کیاہے۔157؂

فرانس بھی انگلستان کے پیچھے رینگتا ہوا نظر آتا ہے۔ انقلابِ فروری دنیا میں 12گھنٹے کی دیہاڑی کا قانون 158؂لانے کے لئے کافی تھا ؛ اور یہ اپنی اُس بنیاد سے بہت ناقص تھا جو انگلستان میں بنتی ہے۔ اس ساری صورتِ حال میں فرانس کے انقلابی طریقۂ کاربذاتِ خود کئی فوائد کا حامل ہے۔یہ قانون تمام دکانات اور کارخانہ جات میں بیک وقت بغیر کسی تخصیص کے دیہاڑی کی ایک جتنی طوالت کا تقاضا کرتا ہے؛ جبکہ انگلستانی قانون بہت بے بسی کے ساتھ ، کبھی ایک مسئلے میں اورکبھی دوسرے میں حالات کے دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے ؛ اور نتیجتاًوہ قانون سازی کی متضاد بھول بھلیوں میں پڑ جاتا ہے۔ 159؂دوسری طرف فرانسیسی قانون نے اس چیز کو ایک اصول کی حیثیت سے قبول کر لیا جس کو انگلستان میں محض بچوں، نابالغوں اور عورتوں کے لیے حاصل کیا گیا، اور جس کو حال ہی میں ایک عمومی حق کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔160؂

ریاست ہائے متحدہ کے شمالی امریکہ میں کارکنان کی ہر آزاد تحریک اس وقت تک مفلوج رہی جب تک غلامی نے رپبلک کو مسخ کئے رکھا۔ محن سفید چمڑی میں اس وقت تک اپنے آپ کو آزاد نہیں بنا سکتا جب تک سیاہ رنگ میں اس پر ٹھپہ لگا ہوا ہے۔لیکن غلامی کی موت میں سے اچانک ایک نئی زندگی پھوٹ پڑی ۔ خانہ جنگی کا پہلا پھل آٹھ گھنٹے کی وہ تحریک تھی جو انتہائی تیز رفتار ریلوے انجن کی مانند اوقیانوس سے بحرالکاہل ، اورنیو انگلستان سے کیلی فورنیا تک پھیل گئی۔بالٹی مور کے مقام پر مزدوروں کے جنرل کانگرس میں( 16اگست 1866کو)اعلان کیا گیا کہ : لمحۂ حال کی اولین اور سب سے بڑی لازمیت _یعنی اس ملک کے غلام کو سرمایہ دارانہ غلامی سے نجات دلانا _ایک ایسے قانون کی منظوری دینا ہے جس کے تحت متحدہ امریکہ کی تمام تر ریاستوں میں آٹھ گھنٹے کی نارمل دی




ٹوٹل صفحے2
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1-گذريل صفحو

نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر ان داشلائوں میں استعمال ھے
نارمل دیہاڑی کے حصول کی جدوجہد۔ انگلستانی قانونِ کارخانہ کا دوسرے ممالک پر اثر
دیہاڑی - موضوع کے دوسرے داخلے