نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل : (The Capital سرمایہ)

2023-01-16
داخلا نمبر 852
عنوان نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل
شاخ مینوفیکچر،دستکاری، اور گھریلو صنعت میں جدید صنعت کی پیدا کی گئی ترقی
پڑھا گیا 183368
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل کے بنیاد
مینوفیکچر،دستکاری، اور گھریلو صنعت میں جدید صنعت کی پیدا کی گئی ترقی / مشینری اور جدید صنعت / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل - کی دوسری شاخیں-

نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل


شاخ مینوفیکچر،دستکاری، اور گھریلو صنعت میں جدید صنعت کی پیدا کی گئی ترقی
ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0-گذشتہ صفحہ


b: نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل



b. Reaction of the Factory System on Manufacture

and Domestic Industry



نظامِ کارخانہ کے ارتقا، اور زراعت میں آنے والے انقلابات_ جو اس سے لازم وملزوم رہے_ کے ساتھ ساتھ صنعت کی دوسری تمام شاخوں میں نہ صرف وسعت پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ اِس کے خاصے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ نظامِ کارخانہ کے اندر رائج پیداواری عمل کااس کے اجزائے ترکیبی میں تجزیہ کرنے، اور مشینری کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کو میکانیات، کیمیا اور فطری علوم کے ایک طویل سلسلے کے ذریعے حل کرنے کا اصول ہر مقام پر فیصلہ کُن اصول کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ پس، مینوفیکچر کے ذریعے پیداوار دینے والی صنعتوں میں مشینری پہلے پہل تو ایک جُزویاتی عمل کے بطور داخل ہوتی ہے اور پھر دوسرے جزویاتی امور میں بھی رفتہ رفتہ داخل ہو جاتی ہے۔ پس محن کی قدیم تقسیمِ کار پر مبنی اُن کی تنظیم کی ٹھوس شفافیت اُس میں گھلنے مِلنے لگتی ہے، اور مستقل تبدیلیوں کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔ اس سے بالکل آزادانہ طور پر کُلیاتی مزدور کی ترکیب میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوتی ہے، یعنی ایک گروہ کی شکل میں کام کرنے والے افراد کی تبدیلی۔ مینوفیکچر کے عہد کے برخلاف، بعد ازاں جہاں بھی ممکن ہوتا ہے محن کی تقسیمِ کار کی بنیاد عورتوں، تمام عمر کے بچوں اور غیر ہنر یافتہ مزدوروں کی بھرتی پر رکھی جاتی ہے، ایک لفظ میں یوں کہہ لیں کہ سستے محن پر، جیسا کہ اس کو خواصی طور پر انگلستان میں برتا گیا۔ یہ صورت نہ صرف بڑے پیمانے پر حاصل کی جانے والی ہر قسم کی پیداوار کے ساتھ ہے، چاہے اس میں مشینری استعمال ہو یا نہ ہو، بلکہ نام نہاد گھریلو صنعت کا بھی یہی حال ہے، چاہے اس کو محن کش کی رہائش گاہ میں جاری رکھا جائے یا کسی چھوٹی کارگاہ میں۔ اس جدید نام نہاد گھریلو صنعت کا قدیم انداز کی گھریلو صنعت کے ساتھ محض برائے نام تعلق ہے، جس کا وجود آزاد شہری دستکاری کی،آزاد کسان کی کھیتی باڑی کی ، اور سب سے بڑھ کر مزدور اور اُس کے کنبے کے عشرت کدے کی پیش قیاسی کر لیتا ہے۔قدیم انداز کی اس صنعت کو اب فیکٹری، مینوفیکچری یا کارگاہ کے بیرون خانے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس سے درکنار فیکٹری کے کارکنان، مینوفیکچر کرنے والے کاریگر اور دستکار، جن کو یہ[یعنی فیکٹری] بڑے بڑے گروہوں کی شکل میں ایک ہی جگہ پر جمع کر دیتی ہے، اور جن پر اس کو براہِ راست دسترس حاصل ہوتی ہے، نہ نظر آنے والے بندھنوں کے ذریعے سرمایہ ایک اور فوج کو بھی متحرک کر دیتا ہے؛ یعنی گھریلو صنعتوں میں کام کرنے والے اُن کارکنان کی فوج کو جو بڑے بڑے قصبات میں سکونت پذیر ہیں، اور جو اَب پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مثال درج ہے: لندن ڈیری کے مقام پر واقع میسرز ٹیلّے کی شرٹیں بنانے والی فیکٹری، جس میں خود فیکٹری کے اندر 1,000 کاریگر کام کرتے ہیں، اور 9,000 کاریگر ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں جو اپنے اپنے گھروں میں کام کرتے ہیں۔170؂

سستے محن اور نا بالغ قوتِ محن کو خاص فیکٹری کی نسبت جدید مینوفیکچر میں زیادہ بے شرمی سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ نظامِ کارخانہ کی تکنیکی بنیاد ، مطلب یہ کہ قوتِ بازو کی مشینوں سے تبدیلی، اور محن کا ہلکا پھلکا کردار مینوفیکچر میں قریب قریب داخلی طور پر ہی مفقود ہے، اور ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ عورتیں اور بہت چھوٹے بچوں سے بڑے لڑکے انتہائی غیر انسانی انداز میں زہریلی یا مضرِ صحت چیزوں کا شکار کر دیے جاتے ہیں۔ مینوفیکچر کی بہ نسبت نام نہاد گھریلو صنعت میں یہ صورتِ حال زیادہ بے شرمانہ ہے، اور یہ اس وجہ کہ اس انتشارکے باعث اُن کی مزاحمت کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے؛ کیونکہ غارت گر طفیلیوں کا ایک پورا سلسلہ اپنے آپ کو مالک اور محنت کش کے درمیان حائل کر لیتا ہے؛ کیونکہ ایک گھریلو صنعت کو ہمیشہ ہی یا تو نظامِ کارخانہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا پھر صنعت کی ایک ہی شاخ میں مینوفیکچر کے مقابل آنا پڑتا ہے؛ کیونکہ غربت محنت کش سے، جگہ، روشنی اور ہوا کے اخراج وغیرہ کے وہ تمام لوازمات چھین لیتی ہے جو اُس کے محن کے لئے ناگزیر ہوتے ہیں؛ کیونکہ روزگار کے حصول میں بے قاعدگی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے؛ اور بالآخر اس وجہ سے کہ ان تمام [وجوہات] میں mosses کا آخری حربہ جسے جدید صنعت اور زراعت‘‘ بہتات میں لے آتے ہیں، کام کے لئے مقابلے کی فضا اپنے عروج کو پہنچ جاتی ہے۔ ذرائع معاش میں کفایت شعاری ، جسے سب سے پہلے نظامِ کارخانہ میں منظم طور پر برتا جاتا ہے، اور وہاں ، انتہائی آغاز ہی سے قوتِ محنت کو جابرانہ انداز میں لوٹا جاتا ہے، اور اُس کے کام کرنے کے لیے درکار ضروری امور سے اُسے محروم کر دیا جاتا ہے__یہ کفایت شعاری اب اپنا متضاد اور ہلاک کُن پہلو صنعت کی ایک خاص شاخ میں بھرپور طریقے سے ظاہر کرتی ہے، محن کی سماجی پیداواری قوت کو ممکنہ حد تک کم کر دیا جاتا ہے اور اُس شاخ میں مختلف امور کو باہم مربوط کرنے کے لیے تکنیکی بنیادوں کو ارتقا دیا جاتا ہے۔




ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0-گذريل صفحو

نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل ان داشلائوں میں استعمال ھے
نظامِ کارخانہ کامینوفیکچر اور گھریلو صنعتوں پر ردِ عمل