پیداوارِ زائد : (The Capital سرمایہ)

2022-12-23
داخلا نمبر 817
عنوان پیداوارِ زائد
شاخ قدرِ زائد کی شرح
پڑھا گیا 227049
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

پیداوارِ زائد کے بنیاد
قدرِ زائد کی شرح / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

پیداوارِ زائد - کی دوسری شاخیں-

پیداوارِ زائد


شاخ قدرِ زائد کی شرح
ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0-گذشتہ صفحہ

فصلِ چہارم:۔ پیداوارِ زائد

مصنوعات کا جو حصہ قدرِ زائد کو بیان کرتاہے (فصلِ دوم میں دی گئی مثال کی رو سے 20پونڈ وزن کی سوت کا دسواں حصہ یا پھر 2پونڈ وزن کی سوت)اس کو ہم پیداوارِ زائد کا نام دیتے ہیں۔ جیسے قدرِ زائد کی شرح کُل سرمایے کی رقم سے نہیں بلکہ اس کے متغیر حصے سے تعلق سے متعین کی جاتی ہے ، اسی طرح پیداوار ِ زائد کی متعلقاتی مقدار کا تعین اس تناسب سے نہیں ہوتا جو یہ کُل پیداوار کے باقی ماندہ حصے سے رکھتی ہے نہیں بلکہ اُس کے اس حصے سے جس میں محنِ لازم مجتمع ہوا ہے۔ چونکہ قدرِ زائد کی پیداوار ہی سرمایہ دار انہ طریق پیداوار کا منشاو منتہا ہوتا ہے تو اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک فرد یا ایک قوم کی دولت کی بہتات کو پیداوار کی مطلق مقدار سے نہیں بلکہ پیداوارِ زائد کے متعلقاتی حجم سے متعین کیا جا سکتا ہے ۔13؂

محنِ لازم اور محنِ زائد کا مجموعہ ، مطلب یہ کہ وقت کے ان وقفوں کا جن کے دوران وہ اپنی قوتِ محن کی قدر کی بحالی کرتا ہے اور قدرِ زائد پیدا کرتا ہے، یہ مجموعہ اس حقیقی وقت کی تشکیل کرتاہے جس کے دوران وہ کام کرتا ہے، یعنی دہاڑی۔






ٹوٹل صفحے1
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0-گذريل صفحو

پیداوارِ زائد ان داشلائوں میں استعمال ھے
حوالہ جات و حواشی9
قدرِ زائد کی شرح - موضوع کے دوسرے داخلے