14حوالہ جات و حواشی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 840
عنوان 14حوالہ جات و حواشی
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 234571
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

14حوالہ جات و حواشی کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

14حوالہ جات و حواشی - کی دوسری شاخیں-

14حوالہ جات و حواشی


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

13حوالہ جات و حواشی

1؂۔ اس سلسلے میں ایک جدید مثال یہ ہے : Lyons and Nimes کی ریشم کی کتائی اور بنائی‘‘ بنیادی طور پر پدر سری ہے؛ اس میں عورتوں اور بچوں کی کثیر تعداد کو کام پر لگایا تو جاتا ہے مگر اُنہیں تھکایا یا تباہ نہیں کیا جاتا۔ یہ اُنہیں Drome، Var، Isere ،Vaucluseکی خوبصورت وادیوں میں رہنے کی اجازت دیتی ہے تاکہ اُن کے ریشم کے کیڑوں کی افزائش ہو سکے اور وہ انہیں کات سکیں۔ یہ کبھی بھی ایک حقیقی فیکٹری یا صنعت نہیں بن سکتی،تاہم یہاں محن کی تقسیم کا اصول ایک خاص وصف پا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں وائنڈ کرنے والے، ریشم کا دھاگہ کاتنے والے، رنگ کرنے والے، ناپ کرنے والے، اور آخر میں کاتنے والے موجود ہوتے ہیں، لیکن وہ ایک ہی کارگاہ میں جمع نہیں ہوتے، اور نہ وہ ایک انفرادی مالک کے تحت ہوتے ہیں، بلکہ وہ تمام آزاد ہوتے ہیں۔

(A. Blanqui, Cours d Econ. Industrielle. Recuilli par A. Blaise. Paris, 1838-39, p. 79. )

جب سے بلانکی Blanqueنے یہ لکھا تھا اس وقت سے کسی حد تک آزاد مزدور فیکٹریوں میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ [اور جب مارکس نے یہ لکھا تھا اس وقت پاور لوم ان فیکٹریوں میں گھس چکی تھی، اور اب__سال 1886 __میں یہ ہتھ کھڈی کو ناکارہ کر چکی تھی۔( چوتھی جرمن اشاعت میں اضافہ.__ کریفرڈ Krefeld سلک انڈسٹری بھی اس موضوع سے متعلقہ بہت کچھ بتاتی ہے۔ )فریڈرک اینگلز۔]

2؂۔‘‘ایسی انواع و اقسام کی حامل مینوفیکچر کومنقسم کرتے ہوئے جتنے مختلف دستکاروں کے سپرد کیا جائے گا، اس صورت میں اسی کام کو زیادہ تندہی کے ساتھ اور وقت اور محن کے کم خرچ کے ساتھ پورا کیا جا سکے گا۔

( The Advantages of the East India Trade,London., 1720, p. 71.)

3؂۔‘‘ آسان محن مہارت کا ارسال ہے۔( Th. Hodgskin,Polular Political Economy,p. 48.)

4؂۔‘‘ مصر میں فنون ... صناعی کی مطلوبہ اکملیت حاصل کر چکے ہیں۔ کیونکہ یہ واحد ملک ہے جہاں دستکار کو اجازت نہیں کہ کسی طرح بھی شہریوں کے دیگر طبقوں میں مداخلت کرے،مگر انہیں صرف وہی پیشہ اختیار کرنا ہے جو قانون کے ذریعے ان کے قبیلے میں موروثی بن چکا ہے۔دوسرے ممالک میں رواج یہ ہے کہ تجارت پیشہ افراد اپنی توجہ بہت سارے مقاصد میں پھیلا دیتے ہیں۔ اگر اب وہ زراعت سے نبرد آزما ہیں تو تب وہ تجارت اختیار کر لیتے ہیں، پھر کسی اور وقت وہ دو یا تین شعبے بیک وقت ہی اختیار کر لیتے ہیں۔ آزاد ممالک میں وہ لوگوں کے اجتماعات میں زیادہ تیزی سے جاتے ہیں...۔ اس کے برعکس مصر میں اگر کوئی دستکار ریاست کے معاملات میں مداخلت کرتا ہے یا بیک وقت کئی پیشے اختیار کر لیتا ہے تو اُسے سخت سزا دی جاتی ہے۔ چنانچہ اُن کے پیشوں کے ساتھ اُن کی وابستگی کو متاثر کرنے والی کوئی چیز نہیں رہتی...۔ مزید برآں، چونکہ اُنہیں اپنے آباء و اجداد سے کئی اصول ورثے میں ملتے ہیں ، اس لئے وہ فائدے کے نئے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔

( Diodorus Siculus: Bibl. Hist. I. l. c., 74.)

5؂۔ Hugh Murry اور James Wilsonکی کتاب: Historical and descriptive account of Brit. India,&c.,، مطبوعہ1832، جلد 2، ص. 449۔ہندوستان کی لوم اوپر کی طرف جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ اس کا تانا عموداً کھنچا ہوا ہوتا ہے۔

6؂۔ speciesکی ابتدا پر اپنی عہد ساز کتاب میں، پودوں اور جانوروں کے فطرتی اعضا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈارون کہتا ہے:‘‘جتنی دیر تک ایک ہی حصے کو مختلف اقسام کے کام کرنا پڑتے ہیں ، تو ممکن ہے کہ یہ[حصہ] اپنی تغیر پذیر ی کی بنیاد اسی بات سے حاصل کر لے۔ یہ فطری انتخاب بنتر کی ہر چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کو کم احتیاط کے ساتھ برقرار یا روکے رکھتا ہے بہ نسبت اس بات کے کہ اگر اس حصے کو صرف ایک خاص مقصد کے لئے ہی استعمال کیا جائے۔پس وہ چھریاں جو ہر قسم کی چیزوں کو کاٹنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، ممکن ہے کہ مجموعی طور پر ایک ہی شکل کی ہوں؛ مگر ایک آلے کو اگر صرف ایک ہی قسم کے استعمال کے لئے مختص کر دیا جائے تو اُسے ہر قسم کے استعمال کے لئے اپنی شباہت بھی بدلنا ہو گی۔

7؂۔ سال 1854کے دوران جنیوا میں 80,000گھڑیاں تیار کی گئیں، یہ پیداوار Cantonکے Neufchatelکی پیداوار کا پانچواں حصہ بھی نہیں۔ صرف La Chaux-de-Fond ہی میں__جسے ایک بہت بڑی گھڑی ساز فیکٹری کہا جا سکتا ہے__ایک سال میں جنیوا کے مقابلے میں دگنی گھڑیاں تیار ہوتی ہیں۔ 1850سے 1861تک جنیوا میں 720,000گھڑیاں تیار کی گئیں۔ دیکھئےReport from Geneva on the watch tradeمشمولہ:

Reports by H. M,s Secretaries of Embassy and Legation on the Manufactures, Commerce,&c., No. 6, 1863.صرف اُن ایسے عملوں میں جن میں ایسی چیزوں کی پیداوار جو محض اُن حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں جنہیں صرف باہم جوڑا جاتا ہے، جب انہیں لخت لخت کر دیا جاتا ہے اور ان کے مابین ربط کی کمی ہونے کی وجہ سے اس قسم کے مینو فیکچر کو جدید قسم کی صنعت میں بدلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے جسے مشینری چلاتی ہے۔لیکن گھڑیوں کے سلسلے میں دواور قباحتیں بھی ہیں: اس کے پرزوں کا بہت چھوٹا ہونا ، اور اس کا یہ خاصہ کہ یہ اشیائے تعیش میں شمار ہوتی ہے۔ اس لئے اُن میں تنوع ہے ، اور یہ ایسا خاصہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ لندن کے بہترین کارخانوں میں ایک سال کے دوران ایک جیسی 12گھڑیاں بھی شاز ہی بنائی جاتی ہیں۔ Messrs. Vacheron & Constantinکی گھڑی ساز مینوفیکچری، جس میں مشینری کو بڑی کامیابی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے، تین یا چار مختلف جسامت اور شکل کی گھڑیاں ہی تیار کرتی ہے۔

8؂۔ کھڑی سازی جو کثیر النوع مصنوعہ کی کلاسیکی مثال ہے ، میں ہم مندرجہ بالا آلاتِ محن کے امتیازات اور اختصاصات کا مطالعہ بالکل ٹھیک انداز میں کر سکتے ہیں جس کا باعث دستکاریوں کی ذیلی تقسیم ہے۔

9؂۔‘‘ لوگوں کے اتنے قریب قریب رہنے کی وجہ سے شے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی ضرورت کم ہو گی۔ (The Advantages of the East India Trade,p. 106.)

10؂۔‘‘ جسمانی محن کے استعمال کی وجہ سے مینوفیکچر کے مختلف مدارج کی علیحدگی پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ کر دیتی ہے۔یہ نقصان زیادہ تر ایک عمل سے دوسرے عمل تک [مصنوعہ کے حصے کو]منتقل کرنے کی وجہ سے ہوتاہے۔( (The Industry of Nations

11؂۔‘‘یہ( مراد محن کی تقسیم )کام کو اس کی مختلف شاخوں میں بانٹتے ہوئے وقت کی بچت بھی کرتی ہے، جنہیں ایک ہی لمحے کرتے ہوئے اس مکمل عمل کو سر انجام دیا جا سکتا ہے ...۔ تمام مختلف امور کو بیک وقت جاری رکھتے ہوئے جن کی بجا آوری ایک فرد الگ الگ کرتا ہے، یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ جتنے وقت میں ایک پِن کو ممکن ہے کاٹا یا نشان بھی نہ لگایا جا سکے اُتنے ہی وقت میں بہت زیادہ پِینیں تیار ہو جائیں۔ Dugald Stewart, l. c., p. 319. ))

12؂۔ہر مینوفیکچر کے لئے جتنے زیادہ کاریگر درکار ہوں گے... ہر کام کا انتظام اور باقاعدگی جتنی بڑی ہو گی ، اُتنا ہی زیادہ کام کم وقت میں ہو جائے گا، مطلب یہ کہ محن لازماً کم ہو جائے گا۔(The Advantages,&c., p. 68.)

13؂۔اگرچہ صنعت کی بہت سی شاخوں میں پیداوار کا مشینی نظام یہ نتیجہ حاصل تو کر لیتا ہے لیکن انتہائی نامکمل انداز میں، کیون




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ0
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

No Article found
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے