14حوالہ جات و حواشی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 840
عنوان 14حوالہ جات و حواشی
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 234585
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

14حوالہ جات و حواشی کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

14حوالہ جات و حواشی - کی دوسری شاخیں-

14حوالہ جات و حواشی


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

د میں اضافہ ہوتا ہے ،سماج کی پیداواری قوت بھی اسی کثیر الجہت تناسب میں بڑھتی ہے، جس کو تضریب محن کی تقسیم کے اثرات سے ملتی ہے۔( Th. Hodgskin, l. c., pp. 125, 126. )

29؂۔ 1861کے بعد روئی کی طلب کے بہت بڑے اضافے کے نتیجے میں ہندوستان کے کچھ بہت زیادہ گنجان آباد علاقوں میں روئی کی پیداوار میں چاول کی کاشت کے بدلے میں اضافہ کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مقامی سطح پر قحط کا سامنا کرنا پڑا، ذرائع نقل و حرکت کے ناقص انتظام کی وجہ سے کسی دوسرے ضلعے سے چاول کی درآمد کامیاب نہ ہو سکی۔

30؂۔اس طرح سے 17ہویں صدی کے آغاز نے ہالینڈ میں شٹل سازی کی صنعت کو جنم دیا، جو وہاں کی خاص صنعت ہے۔

31؂۔ چاہے انگلستان میں اون کی مینوفیکچر کو متعدد حصوں یا شاخوں میں تقسیم نہ کیا جائے جو کسی خاص جگہ سے مخصوص ہیں، جو وہاں کی خاص یا واحد مصنوعہ ہے : سمرسٹ شائر کا عمدہ کپڑا، یارک شائر کا کھردرا کپڑا، ایکسٹر کے لمبے ells، ساڈبری کےsoies، ناروچ کی کریب، کانڈل کے دھسے، وٹنی کے کمبل، وغیرہ۔

32؂۔ A. Ferguson:Histry of Civil Society.Eidenburg, 1767; part iv, sect. ii., p. 285.

33؂۔ وہ کہتا ہے کہ خاص مینوفیکچر میں محن کی تقسیمِ کار زیادہ دکھائی دیتی ہے، کیونکہ‘‘ جنہیں کام کی مختلف شاخوں میں لگایا جاتا ہے، اُنہیں اکثر ایک ہی کارخانے میں اکٹھے کیا جا سکتا ہے، اور اُنہیں بیک وقت ایک ہی انسپکٹر کی نگہبانی میں دیا جا سکتا ہے۔ اس کے برخلاف، اُن بڑی بڑی manufecturesمیں، جنہیں لوگوں کے ایک جمِ عفیر کے لئے حاجات کی ایک بہت بھاری مقدار مہیا کرنا پڑتی ہے، کام کی ہر مختلف شاخ مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد کو کھپا دیتی ہے کہ اُنہیں ایک ہی کارخانے میں جمع کرنا ناممکن ہو جاتا ہے... اور تقسیم اتنی واضح نہیں ہوتی۔(A. Smith:Wealth of Nations,bk. i. ch. i. )اسی باب کا وہ مشہورو معروف اقتباس جو ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:‘‘ ایک تہذیب یافتہ اور خوشحال ملک کے دستکار یا اُجرتی مزدور کی رہائش دیکھئے، پھر اس کے بعد وہ اس بات کی تفصیل میں چلا جاتا ہے کہ ایک عام مزدور کی ضروری حاجات کی تسکین کے لئے صنعتوں کی یہ بہتات کیا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ساری گفتگو اُس نے B. de Mandevilleکی کتابFable of Bees, or Private vices, Public Benefits.( First ed., without the remarks, 1706; with the remarks, 1714.)سے لفظ بلفظ نقل کی ہے۔

34؂۔‘‘ اب مزید کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ یہ ایک انفرادی محن کا معاوضہ ہے۔ ہر مزدور ایک کُل کا محض کوئی حصہ ہی پیدا کرتا ہے، اور ہر حصہ چونکہ اپنے اندر کسی قسم کی قدر یا افادے کا حامل نہیں ہوتا ، چنانچہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں بچتی جس پر مزدور دعویٰ کر سکے اور کہے:‘‘ یہ میری مصنوعہ ہے اور میں اسے اپنے پاس رکھوں گا۔ (Labour Defended against the claims of Capital.London., 1825, p. 25.)اس قابلِ تحسین کتاب کا مصنف Th. Hodgskinہے جس کا میں ماقبل حوالہ دے چکا ہوں۔

35؂۔معاشرے اور مینوفیکچر میں کی اس تقسیم کی عملاً Yankeesکے آگے وضاحت کی گئی۔ خانہ جنگی کے دوران واشنگٹن پر لگائے جانے والے ٹیکسوں میں سے ایک‘‘ تمام انفرادی مصنوعات پر 6%ڈیوٹی تھی۔ سوال: ایک صنعتی پیداوار کیا ہوتی ہے؟ قانون کا جواب: ایک چیز پیدا ہوتی ہے‘‘ جب یہ تیار ہوتی ہے، اور یہ اُس وقت تیار کی جاتی ہے جب بکنے کے قابل ہو جائے۔ اب بہت ساری مثالوں میں سے ایک۔ نیویارک اور فلے ڈلفیا کے مینوفیکچر پہلے ہی سے پوری خود ملکیتی کے ساتھ چھتریاں بناتے تھے۔ لیکن چونکہ ہر چھتری مختلف قسم کے بہت زیادہ اجزاء کا مجموعہ ہوتی ہے ، اس لئے یہ اجزاء بہت زیادہ فرق کے ساتھ ایسی مختلف صنعتوں کی مصنوعات بنی ہیں جنہیں مختلف مقامات پر آزادانہ چلایا جا رہا ہے۔ وہ چھتری کی مینوفیکچری میں داخل ہو جاتی ہیں جہاں اُنہیں اکٹھا جوڑ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جو چیزیں جوڑی جاری ہیں اُنہی Yankees‘‘ جمع شدہ چیزوں کا نام دیتے ہیں، یہ ایسا نام ہے جس کے وہ سزاوار ہیں، کیونکہ یہاں ٹیکسوں ہی کو جمع کیا جاتا ہے۔اس طرح سے چھتری اپنے اجزاء میں سے ہر ایک کی 6%قیمت پر‘‘ اکٹھا کی جاتی ہے، اور باقی 6%اس کی مجموعی قیمت پر۔

36؂۔‘‘ اس بات کو عمومی اصول کی حیثیت سے بیان کیا جا سکتا ہے کہ سماج کے اندر محن کی تقسیمِ کار کے اوپر جتنی چھوٹی حاکمیت کام کرتی ہے؛ کارگاہ کے اندر محن کی تقسیم اتنی ہی زیادہ ترقی کرے گی ، اس کے اوپر ایک شخص کا اختیار اتنا ہی زیاد مضبوط ہو گا۔ پس محن کی تقسیم کار کے حوالے سے کارگاہ کے اندر اور سماج کے اندر بالادستی ایک دوسرے سے بالعکس تناسب میں ہوتی ہیں۔( Karl Marx, Misere &c., pp. 130-31)

37؂۔لیفٹیننٹ کرنل مارک وِلکس کی کتاب:Historical Sketches of the South of India. London., 1810-17, v. I., pp. 118-20. ہندوستان کی کمیونیٹیوں کی مختلف اشکال کی ایک اچھی مثال ہمیں جارج کامپ بیل کی کتاب:Modern India مطبوعہ لندن، 1852میں ملے گی۔

38؂۔اسی سادہ ڈھانچے میں ... اس مُلک کے باشندے قدیم زمانوں سے رہتے چلے آ رہے ہیں۔ دیہات کی سرحدوں میں شاز ہی تبدیلی آتی ہے، اگرچہ بعض وقت دیہاتی خود زخمی ہو جاتے ہیں، حتیٰ کہ جنگوں، قحطوں اور بیماریوں کی وجہ سے ختم بھی ہو جاتے ہیں، اس کے باوجود وہی نام، وہی حد بندیاں، وہی مقاصد، اور بعض وقت تو وہی خاندان کئی ادوار تک زندہ رہتے ہیں۔سلطنتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم سے وہاں کے شہری کوئی اثر قبول نہیں کرتے؛ لیکن گاؤں غیر جانبدار ہی رہتا ہے اُسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ قوت کس طرف منتقل کی گئی ہے، یا اس نے کس حاکم کو زمیں بوس کر دیا ہے؛ اس کی داخلی معیشت بے بدل ہی رہتی ہے۔(Th. Stamford Raffles, late Leiut. Govt. of Java.London., 1817, Vol. 1., p. 285.)

39؂۔‘‘ یہ بات کافی نہیں کہ سرمایہ(مصنف کو پیداوار اور بقا کے ضروری ذرائع کہنا چاہیے تھا) ‘‘جو کہ دستکاریوں کی ذیلی تقسیم کے لئے درکار ہے معاشرے میں تیار حالت میں ہونا چاہئے، یعنی یہ مالکان کے ہاتھ میں مناسب اور بڑی مقدار میں جمع ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے کام کو بڑے پیمانے پر چلا سکیں۔ .... تقسیم کار جتنی زیادہ بڑھے گی،موجود تعداد کے مزدوروں کی مسلسل ملازمت کے لئے اُس سرمائے کی ضرورت اتنی ہی زیادہ ہو گی جو اوزاروں، خام مال وغیرہ کی شکل میں ہو گا۔ Storch, Cours d Econ.Polit. Paris Ed., t. I, pp. 250-51۔

پیداوار کے آلات کا ارتکاز اور محن کی تقسیم کار ایک دوسرے سے اٹوٹ طور پر جڑے ہوئے ہیں۔جیسا کہ سیاسی کُرّے میں عوامی قوتوں کا ارتکاز اور ذاتی مفادات ایک دوسرے سے اٹوٹ رشتے کی طرح منسلک ہیں۔

(Karl Marx, I.c. p. 134

40؂۔ Dugald Stewartمینوفیکچر سے متعلقہ مزدوروں کو ‘‘ ایسی زندہ خود کار مشینیں .... جنہیں کام کی جزیات پر لگا دیا جائے قرار دیتا ہے۔( l. c., p.318.)

41؂۔ کورل[جزیرے] میں حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص پورے ایک گروہ کا معدہ ہوتا ہے؛ لیکن یہ اہلِ روم کے پتریشن کے برخلاف اِسے خوراک پہنچاتا ہے، جو خوراک کو اس سے حاصل کرتے ہیں۔

42؂۔وہ کارکن جو ایک پوری دستکاری کا ماہر ہو کسی بھی جگہ کام کرتے ہوئے ذرائع بقا حاصل کر سکت




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ2
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

No Article found
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے