14حوالہ جات و حواشی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 840
عنوان 14حوالہ جات و حواشی
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 234579
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

14حوالہ جات و حواشی کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

14حوالہ جات و حواشی - کی دوسری شاخیں-

14حوالہ جات و حواشی


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

ا ہے؛ جب کہ دوسرا(مینوفیکچر کرنے والا مزدور)تو محض ایک ایسا ضمیمہ ہے جو اپنے ساتھیوں سے الگ ہونے پر نہ تواہلیت کا حامل ہوتا ہے اور نہ انفرادیت کا، اور ہر ایسا قانون ماننے پر مجبور ہوتا ہے جو اس پر لاگو کر دیا جائے۔( Storch, l. c., Petersb. edit., 1815, t. 1, p. 204.)

43؂۔ اے فرگوسن کی کتاب ایضاً ، ص. 281: ‘‘ موخرالذکر وہ چیز حاصل کر سکتا ہے جو دوسرا کھو دے۔

44؂۔‘‘ علم کا حامل انسان اور پیداوار دینے والا مزدورایک دوسرے سے الگ تھلگ ہی پائے جاتے ہیں، اور علم، بجائے اس کے کہ مزدور کی پیداواری قوت میں اضافہ کرنے کے لئے اس کی خدمت بجا لاتا، ... ہر جگہ تقریباً ہمیشہ محن کے خلاف صف آرا ہوتا ہے...بڑے منظم انداز میں اسے دھوکا دیتے ہوئے اور مزدور کو غلط راستے پر ڈالتے ہوئے تاکہ اس کی جسمانی قوت مکمل طور پر میکانکی فعل رہے اور پوری تابع فرمانی کرے۔

45؂۔ اے فرگوسن، ایضاً ، ص. 280۔

46؂۔J. D. Tuckettکی کتاب: A Histry of the Past and Present State of the Labouring Population.London., 1846.

47؂۔ آدم سمتھ:Wealth of Nations,Bk. v., ch. i, art. ii. اے فرگوسن کا شاگرد ہونے کی حیثیت سے _جس نے محن کی تقسیمِ کار کے مضر اثرات پر روشنی ڈالی ہے_ آدم سمتھ پر یہ نقطہ بالکل واضح تھا، اپنی کتاب کے ابتدائے میں جہاں وہ پیشہ وارانہ طور پر محن کی تقسیمِ کار کا خیر مقدم کرتا ہے، وہ صرف رسمی انداز میں اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ یہ سماجی ناہمواریوں کا ذریعہ ہوتا ہے۔پانچویں کتاب، جو ریاست کی آمدن پر ہے، میں ہی وہ فرگوسن کی بازیافت کرتا ہے۔میں نے اپنی کتاب:Misere de la Philosophie, میں آدم سمتھ اور فرگوسن کے مابین تاریخی ربط پر ،اُن کی محن کی تقسیم پر تنقید کے حوالے سے ،تفصیلاًروشنی ڈالی ہے، اور پہلی دفعہ یہ باور کرایا ہے کہ مینوفیکچر میں پائی جانے والی محن کی تقسیم سرمایہ دارانہ طبعِ پیداوار کی ایک مخصوص بُنتر ہے۔

48؂۔ فرگوسن تو پہلے ہی یہ کہہ چکا ہے، ایضاً ، ص. 281:‘‘ اور خود سوچنے کا عمل بھی اس بُعد کے دور میں ایک مخصوص فن بن سکتا ہے۔

49؂۔ G. Garnier, vol. V. of his translation of A. Smith, pp. 4-5.

50؂۔ Paduaمیں پریکٹیکل میڈیسن کے ایک پروفیسر Ramazziniنے اپنی کتاب De morbis artificum, کو 1813میں شائع کیا ، اس کتاب کا فرانسیسی ترجمہ 1781میں کیا گیا اور 1881میں اس کی اشاعت بارِ دوم کی گئی۔ یقینی بات ہے کہ جدید میکانکی صنعت کے دور نے مزدوروں کی بیماریوں کی اس کی تیار کردہ فہرست کو اور لمبا کر دیا ہے۔

See Hygiene physique et morale de l ouvrier dans les grandes villes en ge ne ral dt dans la ville de Lyon en particulier. Par le Dr. A. L. Fonteret Paris, 1858 and [R. H. Rohatzsch,] Die Krankheiten, welche verschiedenen Standen. Altern und Geschlechtrn eigenthumlick sind. 6 Vols. Ulm, 1840 and others.

1854میں سوسائٹی آف آرٹس نے انکوائری کمیشن بٹھایا تاکہ وہ صنعتی بیماریوں کی چھان بین کرے۔ اس کمیشن کی دستاویزات Twickenham Economic Museumکی فہرستوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان میں سے عوامی صحت کے بارے سرکاری رپورٹیں بہت اہم ہیں۔ مزید دیکھئے: Eduard Reich, M. D. Ueber die Entartung des Menschen, Erlangen, 1868.

51؂۔( D. Urquhart: Familiar Words.London., 1855, p. 119.)محن کی تقسیم کے بارے میں ہیگل بہت مختلف خیالات رکھتا ہے۔ اپنی کتاب Rechtsphilosophie میں وہ کہتا ہے:‘‘اچھے پڑھے لکھے اشخاص کے متعلق پہلی مثال میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہر وہ چیز کر سکتے ہیں جو دوسرے کرتے ہیں۔

52؂۔ اختراعی ذہن پر سادہ سا یقین جو انفرادی سرمایہ دارمجرد a prioriطریقے سے محن کی تقسیم کار میں لاگو کرتے ہیں آج کل صرف جرمن پروفیسروں میں ہی موجود ہے؛ خاص طور پر جناب روسچر صاحب کے جو سرمایہ دار جس کے دیوتا دماغ سے محن کی تقسیم کار تیار شدہ برآمد ہوتی ہے، کی تلافی کرنے کی غرض سے ، اس کے لئے مختلف اجرتیں وقف کرتا ہے۔ محن کی تقسیم کار کا چھوٹا یا بڑا پیمانہ رقم کی فراہمی پر ہے نہ کہ ذہانت کی وسعت پر۔

53؂۔ پیٹی، اور کتاب Advantages of the East India Trade کے گُم نام مصنف کی طرح کے قدیم مصنفین محن کی تقسیم کے سرمایہ دارانہ خاصے کو ،جیسے یہ مینوفیکچر میں استعمال کیا جاتا ہے، آدم سمتھ کی نسبت زیادہ وضاحت سے بیان کرتے ہیں۔

54؂۔Beccaria اور James Harrisکی طرح 18ہویں صدی کے کچھ مصنفین کے علاوہ جو محن کی تقسیم کے سلسلے میں قریب قریب قدما کے پیروکار ہی ہیں۔ پس Beccaria کہتا ہے:‘‘ تجربے سے یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر ہاتھ اور ذہانت کو ہمیشہ ایک قسم کے کام اور ایک ہی قسم کی مصنوعات پر استعمال کیا جائے، تو پھر یہ زیادہ آسانی سے ، اور زیادہ بڑی مقدار ، اور زیادہ اچھی معیار میں پیدا کی جا سکیں گی، چہ جائے کہ ایک شخص اپنی ضرورت کی تمام چیزیں خود ہی پیدا کرے...۔اس طریقے سے افراد کو مختلف گروہوں اور حالات میں تقسیم کیا جاتا ہے، تاکہ وہ خود اپنے لئے اور شے کے لئے مفید ہو سکیں۔

( Cesare Beccaria, Elementi di Econ. Pubblica, ed. Custodi, Parte Moderna, t. xi, p. 29. )

جیمز ہیرس، بعد ازاں ارل آف مالمیسبری، جو سنت پیٹسرزبرگ کے سفارت خانے کی ڈائریوں کے لئے مشہور تھا ، Dialogue Concerning Happines, Lond., 1772 ، جو بعد ازاں Three Treatises, &.c., 3 Ed., Lond., 1772کے نام سے شائع ہوئیں، کے ایک نوٹ میں کہتا ہے کہ‘‘ معاشرے کو فطرتی( یعنی پیشوں کی تقسیم سے)ثابت کرنے کے لئے سب سے بڑی دلیل افلاطون کی رپبلک سے ملتی ہے۔ ص، 292۔

55؂۔اسی طرح، اوڈیسےxiv، ص 228 میں‘‘ کیونکہ مختلف افراد مختلف قسم کے امور ہی سے محظوظ ہوتے ہیں۔اور آرکیلوکس اپنی کتاب Sextus Empiricus میں کہتا ہے:‘‘ افراد اس لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں کہ اُن کے دلوں کو کون سی چیز بھاتی ہے۔

56؂۔‘‘ وہ بہت سارے کام کر سکتا ہے مگر ہر کام کو بہت بُرے طریقے سے۔ایتھنز کا ہر باشندہ اپنے آپ کو اشیاء کے پیداکار کی حیثیت سے Spartanکی نسبت سے برتر سمجھتا ہے۔ کیونکہ آخرالذکر کے پاس جنگ کے دوران بھی افراد توکافی سارے موجود تھے ، لیکن یہ روپیہ نہیں ہوتا تھا،جیسا کہ Thucydides ایتھنز والوں کو پیلی پونیزین کے خلاف جنگ میں بھڑکانے کے لئے پیری سلیز کے منہ میں یہ الفاظ ڈالتا ہے ‘‘ جو لوگ صرف اپنے استعمال کے لئے پیداوار کر رہے ہیں وہ روپے کی جگہ اپنے اجسام ہی کو جنگ کی نذر کریں گے۔(Thuc. 1. l. c., 141. )تاہم اگرچہ مادی پیداوار کے لحاظ سے محن کی تقسیم کے برخلاف‘ خود کفالتہی ان کا مطمحِ نظر رہی، کیونکہ آخرالذکر کے لحاظ سے وہاں آسودگی ہے جبکہ اول الذکر کے لحاظ سے آزادی۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ 30Tyrantsکے زوال کے وقت تک 5,000ایتھنز والے بھی ایسے نہ تھے جن کے پاس زمینی ملکیت نہ تھی۔

57؂۔افلاطون کے نزدیک ایک کمیونٹی کے اندر محن کی تقسیم افراد کی انواع و اقسام کی ضروریات اور محدود اہلیتوں سے پروان چڑھی ہے۔اُس کا اہم نکتہ یہ ہے کہ مزدور کے لئے ضروری ہے کہ وہ کام کو اپنے مطابق نہیں بلکہ اپنے آپ کو کسی کام کے مطابق ڈھالے؛ جس سے آخرالذکر کا ب




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ3
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

No Article found
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے