14حوالہ جات و حواشی : (The Capital سرمایہ)

2023-01-14
داخلا نمبر 840
عنوان 14حوالہ جات و حواشی
شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
پڑھا گیا 234578
داخلا کا حوالا: fahad

داخلا کے حوالے موجہد نھیں

تصاویر نھیں ملیں

14حوالہ جات و حواشی کے بنیاد
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر / سرمایہ / کارل مارکس / سوشلسٹ لٹریچر / انقلاب /

14حوالہ جات و حواشی - کی دوسری شاخیں-

14حوالہ جات و حواشی


شاخ محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر
ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ4
اگلہ صفحہ-0--1--2--3--4-گذشتہ صفحہ

چنا محال ہوتا ہے، وہ اس صورت میں کہ اگروہ بہت سارے کاموں کو بیک وقت ہی شروع کر دیتا ہے اگرچہ ان میں سے کسی کو ضمنی کام بنا دیتا ہے۔‘‘ کیونکہ مزدور کو چاہیے کہ وہ کام پر مستعد رہے، اور کام اُس کی فراغت کا انتظار نہیں کرے گا ،نہ ہی خود کسی الگ وقت میں مکمل ہونا چاہے گا__اس کے باوجود اُسے ایسا کرنا ہو گا__ پس نتیجہ یہ رہتا ہے کہ ہر چیز کے لئے زیاد ہ پیداوار حاصل ہو گی اور کام زیادہ آسانی اور زیادہ احسن طریقے سے انجام پذیر ہو گا۔ جب ہر شخص کو دوسرے تمام امور سے آزاد کر دیا جائے گا ، اور اسی وقت اُسے کرنے کے لئے صرف ایسا کام دیا جائے گا جس کے لئے وہ فطری طور پر موزوں ہے۔(Rep. 1. 2. Ed. Baiter, Orelli, &c. )اسی طرح Thucydides, l. c., c. 142.میں:‘‘ دوسرے تمام فنون کی طرح بحر نوردی بھی ایک فن ہے، اور جس طرح کے حالات درکار ہوتے ہیں اِسے بھی ایک جزوی پیشے کی مانند اختیار نہیں کیا جا سکتا؛ یہ بھی نہیں کہ دوسرے ضمنی پیشوں کو اس کے ساتھ ساتھ جاری رکھا جا سکے۔ افلاطون کہتا ہے کہ اگر کام کو مزدور کا انتظار کرنا پڑے تو کام کے نازک نِکات چھوٹ جائیں گے اور چیز ضائع ہو جائے گی،‘‘ کام کے صحیح وقت کو [اگر کوئی شخص کھو دیتا ہے] تو یہ ضائع ہو جائے گا۔ یہی افلاطونی خیال ہمیں اس جملے میں بھی ملتا ہے جو انگریز رنگ سازوں نے اُس فیکٹری ایکٹ کے خلاف احتجاج میں استعمال کیا جس میں تمام مزدوروں کے لئے کھانے کے لئے معینہ وقفے ٹھہرائے گئے ہیں۔اُن کا کاروبار مزدوروں کی سہولت کی ناز برداری نہیں کر سکتا، کیونکہ‘‘ داغنے، دھونے، رنگ کاٹنے، استری کرنے، کیلنڈر کرنے، اور رنگ کرنے کے مختلف امور میں سے کسی کام کو بھی خراب ہونے کے خطرے کے بغیر روکا نہیں جا سکتا... کھانے کے ایک ہی وقفوں کو تمام مزدوروں پر مسلط کرنے سے ممکن ہے کہ نامکمل کاموں کی وجہ سے سازوسامان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہمیں یہ افلاطونیت آگے کہاں ملے!

58؂۔زینوفن کہتا ہے، ایران کے بادشاہ کی میز سے کھانا حاصل کرنا نہ صرف اعزاز کی بات ہے بلکہ یہ کھانا دوسرے کھانوں کی نسبت ذائقے میں بھی زیادہ اچھا ہوتا ہے۔‘‘ اور اس میں حیرانی والی کوئی بات نہیں، کیونکہ جس طرح بڑے بڑے قصبات میں دیگر فنون اعلیٰ صناعی کے ساتھ مکمل کئے جاتے ہیں اسی طرح شاہی کھانا بھی خاص انداز میں بنایا جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ چھوٹے قصبات میں بستر کی چادریں، دروازے، ہل، اور میزیں ایک ہی آدمی تیار کرتا ہے، مزید براں اگر مناسب گاہک مل جائیں تو وہ تعمیرات کا کام بھی کر لیتا ہے جس سے اسے مناسب روزی روٹی مل جاتی ہے۔چنانچہ اتنے زیادہ کام کرنے والے آدمی کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ ان تمام امور کو احسن طریقے سے انجام دے سکے۔جبکہ بڑے شہروں میں ، جہاں ہر شخص کو کئی خریدار مل جاتے ہیں، ایک شخص کے لئے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی شعبے کو جاری رکھے۔ایسا بھی نہیں، وہاں تو ایک مکمل شعبے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ایک فرد آدمیوں کے لئے جوتے تیار کرتا ہے تو دوسرا عورتوں کے لئے۔ کہیں کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کو سلائی سے روزی مل جاتی ہے تو کسی دوسرے کو جوتے کی کٹائی سے ، اور کسی تیسرے کو ان کچھ حصوں کو آپس میں جوڑنے سے۔ پھر یقینا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو شخص کوئی سادہ ترین کام کرتا ہے صاف ظاہر ہے کہ وہ اسے کسی دوسرے سے بہت بہتر طور پر کر سکے گا۔پکائی کے ساتھ بھی معاملہ یہی ہے۔( Xen. Cyrop. I. viii., c. 2.)۔زینوفن کا زور یہاں صرف اس بات پر ہے کہ کمالِ صناعی صرف قدرِ صرف ہی کو مل سکتی ہے، اگرچہ وہ خوب جانتا ہے کہ محن کی تقسیم کی درجہ بندی کا انحصار منڈی کے حجم پر ہے۔

59؂۔ اُس نے(Busiris)اُن تمام کو خاص ذاتوں میں تقسیم کیا ہے...حکم یہ صادر کیا کہ ایک شخص کو صرف ایک ہی شعبہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جو لوگ اپنے شعبے بدلتے ہیں کسی ایک میں بھی مہارت حاصل نہیں کر سکتے؛ جب کہ جو لوگ مسلسل ایک ہی شعبے سے وابستہ رہتے ہیں اِسے اوجِ کمال تک پہنچاتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی جاننا چاہئے کہ اُنہوں نے فنون اور دستکاریوں کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین کو اس سے زیادہ بے نقاب کیا ہے جتنا ایک مالک کسی پھوہڑ کاریگر کو جانتا ہے۔ اور ریاست کی بادشاہی اور دیگر اداروں کی نشوونما کے انتظامات اتنے قابلِ تحسین ہیں کہ جو مشہورومعروف فلسفی اس موضوع پر بات کرتے ہیں وہ بھی مصری ریاست کے قوانین کی دوسروں کی نسبت سے تعریف کرتے ہیں۔( Isocrates, Busiris, c. 8.)

60؂۔Cf. Diodorus Siculus.

61؂۔ Ure, l. c., p. 20.

62؂ ۔یہ مسئلہ فرانس کی نسبت انگلستان میں زیادہ پایا جاتا ہے، اور فرانس میں ہالینڈ کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔

__________________________________

اس کتاب کو مارکسسٹس انٹر نیٹ آرکائیو marxists.orgکے لیے ابن حسن نے ترتیب دیا۔

کمپوزنگ: امتیازحسین، ابن حسن

اپنی رائے اور تجاویز کے لیے درج ذیل پتے پر رابطہ کریں۔

hasan@marxists.org




ٹوٹل صفحے5
موجودہ صفحہ4
اڳيون صفحو-0--1--2--3--4-گذريل صفحو

No Article found
محن کی تقسیمِ کار اور مینوفیکچر - موضوع کے دوسرے داخلے